30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وہ ان کا شکار ہوجائیں گے جیسے مسلمانوں کی تعظیم ثواب ہے،ایسے ہی بے دین کی توہین ثواب کہ وہ دشمن ایمان ہے۔"باب القدر" میں گزر چکا کہ سیدنا عبداﷲ ابن عمر نے ایک قدریہ مذہب رکھنے والے کے سلام کا جواب نہ دیا وہ عمل اس حدیث کی تفسیر ہے۔
|
190 -[51] وَعَن ابْن عَبَّاس قَالَ: من تعلم كتاب الله ثمَّ ابتع مَا فِيهِ هَدَاهُ اللَّهُ مِنَ الضَّلَالَةِ فِي الدُّنْيَا وَوَقَاهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ سُوءَ الْحِسَابِ وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: مَنِ اقْتَدَى بِكِتَابِ اللَّهِ لَا يَضِلُّ فِي الدُّنْيَا وَلَا يَشْقَى فِي الْآخِرَةِ ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: (فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَايَ فَلَا يضل وَلَا يشقى) رَوَاهُ رزين |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں جس نے قرآن سیکھا ۱؎ پھر اس کی اتباع کی۲؎ اﷲ اسے دنیا میں گمراہی سے بچائے گا اور قیامت کے دن سخت عذاب سے محفوظ رکھے گا ۳؎ ایک روایت میں ہے کہ فرماتے ہیں جو قرآن کی پیروی کرے گا وہ دنیا میں گمراہ اور آخرت میں بدبخت نہ ہوگا پھر یہ آیت تلاوت کی کہ جو میری ہدایت کی اتباع کرے وہ نہ گمراہ ہو اور نہ بدنصیب۴؎ (رزین) |
۱؎ یعنی قران پڑھنا سکھایا،اسے حفظ کیا،یا اس کے احکام سیکھے،یا علم تجوید،یہ کلمہ ہرقسم کے قرآنی علم کو شامل ہے۔خیال رہے کہ فقہ،اصول فقہ اور حدیث سیکھنا بھی بالواسطہ قرآن ہی سیکھنا ہے۔ان شاءاﷲ اس پربھی اجر ہے۔
۲؎ یعنی احکام قرآن پرصحیح عمل کیا حدیث اور فقہ کی روشنی میں لہذا اس سے چکڑالوی دلیل نہیں پکڑ سکتے۔
۳؎ معلوم ہوا کہ علمائے دین اور خدام قرآن کی دنیا بھی کامیاب ہے اور آخرت بھی مگر یہ وہی لوگ ہیں جنہیں قرآن کی صحیح فہم اور اس پر صحیح عمل نصیب ہو چکڑالویوں کی طرح محض عقل سے قرآن سمجھنے والا گمراہ ہوگا۔رب فرماتا ہے:"یُضِلُّ بِہٖ کَثِیۡرًا وَّیَہۡدِیۡ بِہٖ کَثِیۡرًا"۔
۴؎ خیال رہے کہ جیسے اس حدیث کی بنا پر ہم سنت رسول اﷲ سے بے نیاز نہیں ہوسکتے اور فقط قرآن پر کفایت نہیں کرسکتے ایسے ہی پچھلی ہدایت کی بنا پر جس میں کتاب و سنت کا ذکر ہے ہم فقہ اور قیاس مجتہدین سے بے نیاز نہیں ہوسکتے۔اس سے اہل حدیث حضرات کو عبرت پکڑنی چاہیے۔
|
191 -[52] وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا وَعَنْ جَنَبَتَيِ الصِّرَاطِ سُورَانِ فِيهِمَا أَبْوَابٌ مُفَتَّحَةٌ وَعَلَى الْأَبْوَابِ سُتُورٌ مُرَخَاةٌ وَعِنْدَ رَأْسِ الصِّرَاطِ دَاعٍ يَقُولُ: اسْتَقِيمُوا عَلَى الصِّرَاطِ وَلَا تَعْوَجُّوا وَفَوْقَ ذَلِكَ دَاعٍ يَدْعُو كُلَّمَا هَمَّ عَبْدٌ أَنْ يَفْتَحَ شَيْئًا مِنْ تِلْكَ الْأَبْوَابِ قَالَ: وَيْحَكَ لَا تَفْتَحْهُ فَإِنَّكَ إِنْ تَفْتَحْهُ تَلِجْهُ ". ثُمَّ فَسَّرَهُ فَأَخْبَرَ: " أَنَّ الصِّرَاطَ هُوَ الْإِسْلَامُ وَأَنَّ الْأَبْوَابَ الْمُفَتَّحَةَ مَحَارِمُ اللَّهِ وَأَنَّ السُّتُورَ الْمُرَخَاةَ حُدُودُ اللَّهِ وَأَنَّ الدَّاعِيَ عَلَى رَأْسِ الصِّرَاطِ هُوَ الْقُرْآنُ وَأَنَّ الدَّاعِيَ مِنْ فَوْقِهِ وَاعِظُ اللَّهِ فِي قَلْبِ كُلِّ مُؤمن)رَوَاهُ رزين |
روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اﷲ نے سیدھے راستہ کی مثال قائم فرمائی ۱؎ اور اس راستہ کے دوطرفہ دو دیواریں ہیں جن میں کھلے ہوئے دروازے ہیں دروازوں پر پردے لٹکے ہیں راستہ کے کنارے پر پکارنے والا کہہ رہا ہے کہ راستہ پر سیدھے چلے جاؤ ٹیڑھے نہ ہونا اس کے اوپر ایک منادی بھی ہے جو پکارتا ہے جب کوئی بندہ ان میں سے کوئی دروازہ کھولنا چاہتا ہے تو داعی کہتا ہے ہائے افسوس اسے نہ کھول اگر کھولے گا تو اس میں گھس جائے گا۲؎ پھر اس کی تفسیر یوں فرمائی کہ راستہ تو اسلام ہے ۳؎ اور کھلے ہوئے دروازے اﷲ کے محرمات ہیں۴؎ اور لٹکے ہوئے پردے اﷲ کی حدیں ہیں۵؎ اور راستے کے کنارے پر پکارنے والا قرآن ہے اور اس کے اوپر بلانے والا اﷲ کا واعظ ہے جو ہر مؤمن کے دل میں ہوتا ہے ۶؎ اسے رزین نے روایت کیا۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع