دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 1 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول

"مثلھا"سے یہی مراد ہے بدعت حسنہ سنت کو مٹاتی نہیں بلکہ کبھی سنت کو رائج کرتی ہے۔دیکھوعلم دین سکھاناسنت ہے اب اس کے لیئے کتابیں چھاپنا،مدرسہ بنانا،وہاں تعلیم کے نصاب اورکورس بنانا اگر چہ بدعت ہیں مگر سنت کے معاون نہ کہ مخالف،بزرگوں کی یادگاریں قائم کرنا سنت ہیں،اب اس کے لیئے میلاد شریف کی محفلیں،عرسوں کی مجالس قائم کرنا اس کی معاون ہیں نہ کہ مخالف۔اسی جگہ مرقاۃ نے فرمایا کہ بدعت حسنہ سنت سے ملحق ہے۔

۳؎  یہاں خیرشر کے مقابلے میں ہے،یعنی بری بدعتیں ایجادکرنا بُرا اور اس کے مقابل سنت پر عمل کرنا اچھا کہ سنت پر نور ہے اور بری بدعت میں تاریکی،یہ مطلب نہیں کہ بری بدعتیں بھی ٹھیک ہیں مگر سنتیں اچھی۔

188 -[49]

وَعَنْ حَسَّانَ قَالَ: «مَا ابْتَدَعَ قَوْمٌ بِدْعَةً فِي دِينِهِمْ إِلَّا نَزَعَ اللَّهُ مِنْ سُنَّتِهِمْ مِثْلَهَا ثُمَّ لَا يُعِيدُهَا إِلَيْهِمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَة.» رَوَاهُ الدَّارمِيّ "

روایت ہے حضرت حسان سے ۱؎  فرمایا کوئی قوم اپنے دین میں بدعت نہیں ایجاد کرتی مگر اﷲ تعالٰی اسی قدر ان کی سنت اٹھا لیتا ہے۲؎پھر اسے تاقیامت ان میں نہیں واپس کرتا۳؎(دارمی)

۱؎   آپ کا نام شریف حسان ابن ثابت،کنیت ابوالولیدہے،انصاری ہیں،خزرجی ہیں،شعرائے عرب کے تاج ہیں،حضور کے محبوب شاعر ہیں اور مدح گو و نعت خوان مصطفے ہیں۔آپ ہی کے لیئے حضور اپنی مسجد میں منبر بچھواتے تھے جس پر کھڑے ہوکر آپ اشارے کرتے ہوئےحضور کے نعتیہ قصیدے پڑھتے تھے،آپ کی عمر ایک سو بیس سال ہوئی،جن میں سے ساٹھ سال کفر میں گزرے اور پھر ساٹھ سال اسلام میں۔  ۴۰ھ؁ سے کچھ پہلے خلافت حیدری میں وفات ہوئی رضی اللہ عنہ۔ان شاءاﷲ!تاقیامت سارے نعت گو ونعت خواں حضرت حسان کے جھنڈے تلے ہوں گے"یَوْمَ نَدْعُوۡا کُلَّ اُنَاسٍۭ بِاِمٰمِہِمْ

۲؎   اس کی شرح ابھی گزرگئی۔دین کی قید سےمعلوم ہوا کہ بدعت سیئہ ہمیشہ دین ہی میں ہوگی،دنیوی ایجادات کو بدعت سیئہ نہیں کہا جائے گا۔جس قدر برائیاں بدعت کی آئی ہیں وہ سب اس بدعت کی ہیں جو دین میں ہو اور سنت کو مٹانے والی اور اگر دین سے مراد عقائد ہیں جیساکہ ظاہر ہے تو حدیث بالکل صاف ہے۔

۳؎  یعنی جس قوم میں بری بدعتوں کی عادت پڑ گئی تو پھر انہیں سنت کی طرف لوٹنے کی توفیق نہیں ملتی،سنت درخت ہے اور یہ بدعتیں اس کا پھاوڑا جب درخت جڑ سے اکھیڑ لیا جائے پھرنہیں لگتا۔

189 -[50]

وَعَن إِبْرَاهِيم بن ميسرَة قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ وَقَّرَ صَاحِبَ بِدْعَةٍ فَقَدْ أَعَانَ عَلَى هَدْمِ الْإِسْلَامِ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الايمان مُرْسلا

روایت ہے حضرت ابراہیم ابن میسرہ سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ  علیہ  وسلم نے کہ جس نے بدعتی کی تعظیم کی یقینًا اس نے اسلام ڈھانے پر مدد دی۲؎   اسے بیہقی نے شعب الایمان میں مرسلًا روایت کیا۔

۱؎   آپ تابعی ہیں،طائف شریف کے رہنے والے ہیں،متقی پرہیزگار ہیں لہذا یہ حدیث مرسل ہے کہ اس میں صحابی کا ذکر نہیں۔

۲؎   یہاں بدعت سے مراد دینی بدعت ہے اور صاحب بدعت بے دین شخص اور توقیر سے اس کی بلا ضرورت تعظیم مراد ہے۔ضروریات کی معافی ہے یعنی بے دینوں کی تعظیم اسلام کو ویران کرنا ہے کہ ہماری تعظیم سے عوام کے دل میں ان کی عقیدت پیدا ہو گی جس سے

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن