30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۳؎ آپ کا نام محمدابن یزید ابن ماجہ ربیعی ہے،کنیت ابوعبداﷲ،قزوین کے رہنے والے،آپ کی کتاب ابن ماجہ ہے،احادیث غیرصحیح زیادہ ہیں،اسی وجہ سےبعض لوگوں نے ابن ماجہ شریف کےبجائے دارمی یا مؤطاکو صحاح ستہ میں داخل کیا ہے۔آپ کی ولادت ۲۰۹ھ میں،وفات رمضان ۲۷۳ھ میں ہوئی،عمر شریف۶۴ سال ہوئی۔
۴؎ آپ کا نام عبداﷲ ابن عبدالرحمن ابن افضل ابن بہرام ہے،کنیت ابو محمد،قبیلۂ دارم ابن مالک سے ہیں،اسی لیےدارمی کہلاتے ہیں۔ سمرقندوطن شریف ہے،اپنے زمانے کے بڑے محدث،مفسر،فقیہ تھے،آپ کی وفات کی خبر پر امام بخاری بہت روئے،آپ کے شاگرد امام مسلم،ابوداؤد،و ترمذی وغیرہ ہیں،آپ کی ولادت ۱۸۱ھ اور وفات شریف ۲۵۰ھ ۸ ذی الحجہ کو ہوئی،۷۴ سال عمر شریف ہوئی،آپ کی کتاب دارمی شریف مشہور ہے۔
۵؎ آپ کا نام ابوالحسن ابن علی ابن عمر ہے،بغداد کے ایک محلہ قطن کے رہنے والے ہیں،آپ اپنے زمانہ کے محدث امام اسماءالرجال کے حافظ تھے،آپ کی کتاب دارقطنی مشہورومعروف ہے،آپ کے شاگرد بڑے بڑے محدثین ہیں جیسے ابونعیم،حاکم،امام اسفرائینی وغیرہم۔آپ کی ولادت ۳۰۵ھ،اور وفات ۳۸۵ھ میں بغداد شریف میں ہوئی،وہاں آپ کا مزارمبارک ہے۔
وَأَبِي بَكْرٍ أَحْمَدَ بْنِ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيِّ،وَأَبِي الْحَسَنِ رَزِينِ بْنِ مُعَاوِيَةَ الْعَبْدَرِيِّ،
ترجمہ:
اور ابوبکر احمد ابنِ حسین بیہقی ۱؎ اور ابوالحسن رزین ابن معاویہ عبدری ۲؎
تشریح:
۱؎ آپ کانام احمدابن حسین ہے،کنیت ابوبکر،نیشاپور کے علاقہ بیہق کے قریب قریہ جزر میں ولادت ہوئی،آپ اپنے زمانہ کےجلیل القدرمحدث حاکم رضی الله عنہ کے تلمیذ اعلٰی ہیں،آپ نے علاوہ بیہقی شریف کے اوربہت کتب لکھیں:"دلائل النبوۃ"،"کتاب البعث والنشور"،"کتاب الاداب"،"کتاب فضائل الاوقات"،"شعب الایمان"،"کتاب الخلافیات"وغیرہ۔آپ ان سات مصنفین میں سے ہیں جن کی تصنیفات سےمسلمانوں نے بہت فائدہ اٹھایا۔تاریک الدنیا،قلیل الغذا،بہت عابدتھے،تیس سال مسلسل روزہ داررہے،شافعی المذہب ہیں۔آپ کی ولادت نیشاپور میں ماہ شعبان ۳۸۴ھ میں ہوئی،وفات بھی نیشاپور ۴۵۸ھ میں،عمرشریف ۷۴ سال پائی،آپ کا تابوت شریف آپ کے وطن خرجر علاقہ بیہق میں پہنچایاگیا،وہاں ہی دفن کیا گیا جمادی اولٰی میں۔
۲؎ آپ کا نام رزین ابن معاویہ،کنیت ابوالحسن،قبیلہ عبدر سے ہیں،جو عبدالدارابن قصیٰ کی اولاد سے ہے،آپ کی کتاب"النجریہ" مشہورہے، ۵۳۰ھ میں وفات ہوئی،قریشی النسل ہیں۔
امام اعظم ابو حنیفہ ! رضی اللہ عنہ
ہم بزرگان دین کے تذکرہ کو اس ذاتِ گرامی کے ذکر پاک پر ختم کرتے ہیں جو حضور صلی الله علیہ وسلم کا زندہ جاویدمعجزہ اُمت مصطفویہ کا روشن چراغ،قریبًاسارےمحدثین وفقہاءکا استاد،دین متین کا مجتہد اول ہے،جن کے فضائل خود نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نےبیان فرمائے کہ فرمایا اگر دین ثریا تارے کے پاس بھی ہوتا تو فارس کا ایک شخص وہاں سے لے آتا،آپ کا نام شریف نعمان ابن ثابت ابن زوقی ہے،حضرت زوقی یعنی امام صاحب کے دادا فارسی النسل ہیں۔حضرت امام کی کنیت ابوحنیفہ،لقب امام اعظم،آپ کے دادا حضرت علی رضی الله عنہ کے عاشق زاراورآپ کےخاص مقربین میں سے تھے،آپ ہی کی محبت میں فارس چھوڑکر کوفہ میں آپ کے پاس قیام کیا،حضرت زوقی اپنی بچے ثابت کو دعا کے لیے علی مرتضٰی کے پاس لائے،آپ نے دعا فرمائی اور بشارت دی کہ اس فرزند کے بیٹے سے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع