دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 1 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول

کے بچوں وغیرہ کا حکم۔چاہیئے یہ کہ حلال پر بے دھڑک عمل کرے حرام سے ضرور بچے اور مشتبہات سے احتیاط کرے۔اس حدیث کا مطلب یہ نہیں کہ ایک حلال چیز کو کوئی شخص اپنی رائے سے حرام کہہ دے تو وہ شے مشتبہ بن جائے گی۔تمام مسلمان میلادوعرس وغیرہ کو حلال جانیں اور ایک آدمی اسے حرام جانے تو یہ چیزیں مشتبہ نہ ہوں گی بلکہ بلا دلیل حرام کہنے والے کا قول ردّہوگا۔

 

الفصل الثالث

تیسری فصل

184 -[45]

عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الشَّيْطَانَ ذِئْبُ الْإِنْسَانِ كَذِئْبِ الْغَنَمِ يَأْخُذُ الشَّاذَّةَ وَالْقَاصِيَةَ وَالنَّاحِيَةَ وَإِيَاكُمْ وَالشِّعَابَ وَعَلَيْكُمْ بِالْجَمَاعَةِ وَالْعَامَّةِ» . رَوَاهُ أَحْمد

روایت ہے حضرت معاذ بن جبل سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ  علیہ  وسلم  نے کہ شیطان آدمی کا بھیڑیا ہے جیسے بکریوں کا بھیڑیا الگ اور دور اور کنارے والی کو پکڑتا ہے ۱؎ تم گھاٹیوں سے بچو ۲؎جماعت مسلمین اور عوام کو لازم پکڑو۳؎(احمد)

۱؎  شاذّہ:وہ بکری ہے جو اپنی ہم جنسوں سے متنفر ہو اور گلے سے دور رہے۔قاصیہ:وہ جو متنفر تو نہ ہو چرنے کے لیئے ریوڑ سے الگ ہوجائے۔ناحیہ:وہ جو ریوڑ سے الگ تو نہ ہو مگر کنارے کنارے چلے۔خلاصۂ تشبیہ یہ ہے کہ دنیا ایک جنگل ہے جس میں ہم لوگ مثل بکریوں کے ہیں،شیطان بھیڑیا ہے جو ہر وقت ہماری تاک میں ہے،جو جماعت مسلمین سے الگ رہا شیطان کے شکار میں آگیا۔

۲؎ شِعَاب شُعْبَۃٌ کی جمع ہے،دو پہاڑیوں کے درمیان تنگ راستہ کو شعبہ کہتے ہیں،جہاں کیڑوں،مکوڑوں،ڈاکوؤں چوروں بلکہ جنات کا بھی خطرہ رہتا ہے،یہاں مسلمانوں کے وہ فرقے مراد ہیں جو اہل سنت والجماعت کے خلاف ہیں۔

۳؎ یعنی وہ عقائد اختیار کرلو جو عامۃ المسلمین کے ہوں کہ اسی جماعت میں اولیاءاﷲبھی ہیں،جھوٹی جماعتوں اور فرقوں سے الگ رہو۔اس کی تفسیر گزشتہ حدیث ہے کہ بڑے گروہ کی پیروی کرو اور وہ حدیث کہ جسے مسلمان اچھا سمجھیں وہ اﷲ کے نزدیک بھی اچھا ہے۔الحمدﷲ! ہمیشہ سے اہلِ سنت کی اکثریت رہی ہے اور ہے،عام مسلمان مقلد ہیں،بزرگوں کے معتقد ہیں،میلاد شریف فاتحہ کو اچھا جانتے ہیں،ان کے علاوہ ساری جماعتیں مل کربھی اہلِ سنت سے آدھی بھی نہیں لہذا اہل سنت ہی برحق ہیں جو ان سے ہٹے گا شیطان کا شکار ہوگا۔اس کی تفسیر پہلےبھی گزرگئی۔

185 -[46]

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ شبْرًا فقد خلع رقة الْإِسْلَامِ مِنْ عُنُقِهِ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ

روایت ہے حضرت ابوذرسے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ  علیہ  وسلم نے جو جماعت سے بالشت بھربچھڑا اس نے اسلام کی رسی اپنی گردن سے اتاردی  ۱؎ (احمدوابوداؤد)

۱؎  یعنی جو ایک ساعت کے لیئے اہل سنت والجماعت کے عقیدے سے الگ ہوا یا کسی معمولی عقیدے میں بھی ان کا مخالف ہوا تو آیندہ اس کے اسلام کا خطرہ ہے،بکری وہی محفوظ رہتی ہے جو میخ سے بندھی رہے۔مالک کی قید سے آزاد ہوجانا بکری کی ہلاکت ہے۔مسلمانوں کی جماعت نبی کریم صلی اللہ  علیہ  وسلم کی رسی ہے جس میں ہر سنی بندھا ہوا ہے یہ نہ سمجھو کہ فرض کا انکار ہی خطرناک ہے،کبھی

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن