30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۴؎ یعنی یہودونصارےٰ پر راہب یانن بننا رب کا حکم نہ تھا۔انہوں نے خود جوش عقیدت میں ایجاد کیا کہ عورتیں بی بی مریم کے نا م پر کنواریاں اور مرد عیسیٰ علیہ السلام کے نام پر کنوارے گرجوںمیں رہنے لگے پھر ان کنواری اورکنواریوں کے اجتماع سے جو نتیجہ نکلا ظاہر ہے دیکھو کتاب"ازبلا"اس آیت و حدیث سے اشارۃً معلوم ہوتا ہے کہ بدعت حسنہ کے ایجاد پر ثواب ملتا ہے۔کیونکہ رب تعالٰی نے ان راہبوں کے متعلق جنہوں نے اپنے عہد نبھادیئے ثواب کا وعدہ کیا کہ فرمایا:"فَاٰتَیۡنَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنْہُمْ اَجْرَہُمْ ۚ وَکَثِیۡرٌ مِّنْہُمْ فٰسِقُوۡنَ "۔
|
182 -[43] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَزَلَ الْقُرْآنُ عَلَى خَمْسَةِ أَوْجُهٍ: حَلَالٍ وَحَرَامٍ وَمُحْكَمٍ وَمُتَشَابِهٍ وَأَمْثَالٍ. فَأَحِلُّوا الْحَلَالَ وَحَرِّمُوا الْحَرَامَ وَاعْمَلُوا بِالْمُحْكَمِ وَآمِنُوا بِالْمُتَشَابِهِ وَاعْتَبِرُوا بِالْأَمْثَالِ".هَذَا لَفْظَ الْمَصَابِيحِ. وَرَوَى الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الايمان وَلَفْظُهُ: «فَاعْمَلُوا بِالْحَلَالِ وَاجْتَنِبُوا الْحَرَامَ وَاتَّبِعُوا الْمُحْكَمَ» |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ قرآن پانچ قسموں پر اترا ۱؎ حلال حرام محکم اور متشابہ ۲؎ اور مثالیں لہذا حلال کو حلال جانو اور حرام کو حرام مانو محکم پر عمل کرو اور متشابہ پر ایمان لاؤ۳؎ مثالوں سے عبرت پکڑو ۴؎ یہ مصابیح کے الفاظ ہیں اور بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا جس کی عبارت یوں ہے کہ حلال پر عمل کرو اور حرام سے بچو اور محکم کی اتباع کرو۔ |
۱؎ بطریق اجمال ان کا ذکر فرمایا گیا ہے۔جیسے" اُحِلَّ لَکُمُ الطَّیِّبٰتُ"یا"وَیُحَرِّمُ عَلَیۡہِمُ الْخَبٰٓئِثَ"ان دو آیتوں میں اجمالی طور پر سارے حلال و حرام کا ذکر آگیا ہے۔
۲؎ محکم کے اصطلاحی معنے ہیں ناقابل نسخ آیات مگر یہاں کھلی اور واضح آیتیں مراد ہیں کہ اس کے مقابل متشابہ فرمایا گیا۔متشابہ:وہ آیات ہیں جن کے معنی یا مراد سمجھ میں نہ آسکیں۔امثال سے گزشتہ امتوں کے قصے یا مثالیں مراد ہیں۔
۳؎ کہ جو کچھ متشابہ کی مراد ہے حق ہے ہمیں اگرچہ اس پر اطلاع نہیں۔
۴؎ کہ گزشتہ قوموں پر جن وجوہ سے عذاب آئے وہ تم چھوڑو دو۔اس سے قیاس شرعی کا ثبوت ہوا۔
|
183 -[44] وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْأَمْرُ ثَلَاثَةٌ: أَمْرٌ بَيِّنٌ رُشْدُهُ فَاتَّبِعْهُ وَأَمْرٌ بَيِّنٌ غَيُّهُ فَاجْتَنِبْهُ وَأَمْرٌ اخْتُلِفَ فِيهِ فَكِلْهُ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجل)رَوَاهُ أَحْمد |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے چیزیں تین طرح کی ہیں ایک وہ جس کا ہدایت ہونا ظاہر اس کی توپیروی کرو ایک وہ جس کا گمراہی ہونا ظاہر اس سے بچو ایک وہ جو مختلف ہے اسے اﷲ کے حوالے کرو ۱؎ (احمد) |
۱؎ یعنی احکام شرعیہ تین طرح کے ہیں:بعض یقینی اچھے جیسے روزہ،نماز وغیرہ۔بعض یقینًا بُرے جیسے اہل کتاب کے میلوں،ٹھیلوں میں جانا،ان سے میل جول کرنا۔اور بعض وہ ہیں جو ایک اعتبار سے اچھے معلوم ہوتے ہیں اور ایک اعتبار سے برے۔مثلًا وہ جن کے حلال و حرام ہونے کے دلائل موجود ہیں جیسے گدھے کا جوٹھا پانی جسے شریعت میں مشکوک کہا جاتا ہے یا جیسے قیامت کے دن کا تقرر اور کفار
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع