30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہے جہاں سے ملے لے لو۔لہذا حدیث متعارض نہیں۔اس سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جو بے دینوں کے رسالے پڑھتے اور بدمذہبوں کے جلسوں میں جانے سے احتیاط نہیں کرتے۔فاروق اعظم جیسے مؤمن کو اہل کتاب کے علماء کی صحبت سے منع فرمایا دیا۔
۲؎ جس میں نہ کوئی کمی ہے نہ کوئی پوشیدگی پھر اور طرف کیوں جاتے ہو۔
۳؎ کیونکہ اﷲ تعالٰی نے سارے نبیوں سے حضور کی اتباع کا عہد لے لیا تھا:"لَتُؤْمِنُنَّ بِہٖ وَلَتَنۡصُرُنَّہٗ "پھرتم ان کی امت سے میرے ہوتے ہوئے ہدایت لینے کیوں جاتے ہو۔آفتاب کے ہوتے چراغوں سے روشنی نہیں لی جاتی۔آج مسلمان اپنے کو بھول گئے اسی لئے دوسری قوموں کے اخلاق اور امانت داری کی تعریفیں کرتے ہیں۔یہ ہماری جیب کے گرے ہوئے موتی ہیں جو اوروں نے اٹھالئے۔
|
178 -[39] وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَكَلَ طَيِّبًا وَعَمِلَ فِي سُنَّةٍ وَأَمِنَ النَّاسُ بَوَائِقَهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِن هَذَا الْيَوْم لكثيرفي النَّاسِ قَالَ: «وَسَيَكُونُ فِي قُرُونٍ بَعْدِي» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
۱؎ روایت ہے حضرت ابوسعید خدری سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو پاک و حلال کھائے سنت پر عمل کرے اورلوگ اس کے فتنوں سےمحفوظ رہیں وہ جنت میں جائے گا ایک شخص نے عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم آج کل بہت سے ایسے لوگ ہیں فرمایا میرے بعد والے زمانوں میں بھی ہوں گے ۲؎(ترمذی) |
۱؎ یہ حدیث درستی عبادات اور معاملات کی جامع ہے۔دولفظوں میں دونوں جہاں سنبھال دیئے گئے۔"فِی سُنَّۃٍ"میں اشارۃً بتایا گیا کہ کسی سنت کومعمولی نہ سمجھے حتی کہ بیٹھ کر پانی پینا،راستے سے تکلیف دہ چیز کا ہٹانا۔کبھی ایک گھونٹ پانی جان بچالیتا ہے۔اَمِنَ فرماکر بتایا کہ مسلمان کے اخلاق ایسے پاکیزہ ہوں کہ لوگوں کو قدرتی طور پر اس کی طرف سے امن ہو کہ یہ تکلیف نہیں پہنچاتا۔
۲؎یعنی میرا فیضان صرف اس زمانہ سے خاص نہیں بلکہ تاقیامت میری امت میں ایسے پرہیزگار ہوتے رہیں گے۔ان شاءاﷲ یہ امت نیکوں سے خالی نہ ہوگی ہاں جس قدر زمانہ دور ہوگا ایسے ہی لوگ کم ہوں گے۔الحمدﷲ!حضور کی یہ پیشن گوئی بالکل درست ہوئی۔
|
179 -[40] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّكُم فِي زمَان تَرَكَ مِنْكُمْ عُشْرَ مَا أُمِرَ بِهِ هَلَكَ ثُمَّ يَأْتِي زَمَانٌ مَنْ عَمِلَ مِنْهُمْ بِعُشْرِ مَا أَمر بِهِ نجا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تم ایسے زمانہ میں ہو کہ جو احکام شریعہ کا دسواں حصہ چھوڑ دے تو وہ ہلاک ہوجائےپھر وہ زمانہ آوے گا کہ جو احکام کے دسویں حصے پر عمل کرے نجات پاوے گا ۱؎ (ترمذی) |
۱؎ خیال رہے کہ یہاں احکام سے مرادتبلیغ اور سنن ونوافل وغیرہ ہیں نہ کہ فرائض و واجبات،یعنی آج چونکہ تبلیغ اور ساری نیکیوں کے لیئے کوئی رکاوٹ نہیں اب کچھ بھی چھوڑنا اپنا قصور ہے۔آخر زمانہ میں رکاوٹیں بہت ہوں گی اس وقت آج کے لحاظ سے دسواں حصہ پر عمل کرنا بڑی بہادری ہوگی۔لہذا حدیث صاف ہے اس پر یہ اعتراض نہیں کہ اب ایک ہی نماز اور ہزاروں حصہ زکوۃ اور رمضان کے تین روزہ کافی ہیں یا یہ مناسبت مجموعی احکام کے لحاظ سے ہے۔چنانچہ آج اسلامی جہاد قضاء کے احکام پر پورا عمل ناممکن ہے ہم چور کے ہاتھ نہیں کاٹ سکتے،زانی کو سنگسار نہیں کرسکتے وغیرہ۔
|
180 -[41] وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا ضَلَّ قَوْمٌ بَعْدَ هُدًى كَانُوا عَلَيْهِ إِلَّا أُوتُوا الْجَدَلَ» . ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ الْآيَةَ: (مَا ضَرَبُوهُ لَكَ إِلَّا جدلا بل هم قوم خصمون) |
روایت ہے حضرت ابو امامہ سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ کوئی قوم ہدایت پر رہنے کے بعد گمراہ نہیں ہوئی مگر اس میں جھگڑے پیدا ہوگئے پھر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی کہ وہ لوگ آپ کے لیے مثال نہیں بیان کرتے مگر جھگڑنے کے لئے بلکہ وہ قوم جھگڑالو ہے ۱؎ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع