دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 1 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول

۱؎   سبحان اﷲ! کیا نفیس تعلیم ہے،دین حق کو قرآن شریف میں صراط مستقیم فرمایا گیا یعنی سیدھا راستہ جو نہایت آسانی سے رب تک پہنچاد ے،حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے خط کھینچ کر اس کی مثال دکھادی۔یہاں سبیل اﷲ سے مرادسچے اعتقاد اور نیک اعمال ہیں۔خیال رہے کہ شریعت اورطریقت کے چاروں سلسلے حنفی شافعی یا قادری،چشتی وغیرہ ایک ہی طریقہ ہیں جنہیں اہل سنت کہا جاتا ہے کیونکہ انکے عقائد یکساں ہیں۔اعمال میں فروعی اختلاف جیسا صحابہ کا آپس میں اختلاف ہوا کرتا تھا۔یہ کعبۂ ایمان کے چار راستے ہیں،یاسمندر نبوت تک پہنچنے والے چار دریا ان کے علاوہ دیگر مذاہب ٹیڑھے راستہ ہیں کہ وہ عقائد میں مختلف ہیں۔

۲؎   یہاں شیطان سے مراد یا تو ان مذاہب کے موجد ہیں جیسے قادیانیت کے لیئے غلام احمد اور چکرالویت کے لیئے عبداﷲ،یا ان دینوں کے مبلغین یا اس سے مراد خود ابلیس ہی ہے۔قرآن نے سرکش جنات اور گمراہ کن انسانوں کو شیاطین فرمایا ہے۔

167 -[28] (سَنَده ضَعِيف)

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يَكُونَ هَوَاهُ تَبَعًا لِمَا جِئْتُ بِهِ» رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةَ وَقَالَ النَّوَوِيُّ فِي أَرْبَعِينِهِ: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ رَوَيْنَاهُ فِي كتاب الْحجَّة بِإِسْنَاد صَحِيح

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ  صلی اللہ  علیہ وسلم نے کہ تم میں سے کوئی اس وقت تک مؤمن نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کی خواہش میرے لائے ہوئے کے تابع نہ ہو ۱؎   اسے شرح سنہ میں روایت کیا ہے۔نووی نے اپنی چہل حدیث میں۲؎  فرمایا کہ یہ حدیث صحیح ہے جسے ہم نے صحیح اسناد سے کتاب الحج میں روایت کیا۔

۱؎  یعنی مؤمن وہ ہے کہ جس کا عمل میرے احکام کو پسند کرے اور اس کے علاوہ کو ناپسند۔لائے ہوئے میں حدیث و قرآن کے سارے احکام داخل ہیں کیونکہ یہ سب رب کی طرف سے آئے اور ایمان سے مراد اصل ایمان ہے اور واقعی جو کوئی کسی دینی چیز کو برا جانے وہ کافر ہے اور اس صورت میں حدیث پر نہ کوئی اعتراض ہے اور نہ کسی تاویل کی ضرورت،کوئی گنہگار،فاسق،بدکار گناہوں کو اچھا اور نیکیوں کو برا نہیں سمجھتا،اسی وجہ سے وہ مؤمن رہتا ہے اگرچہ فاسق ہو۔

 ۲؎  بعض روایات میں آیا ہے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا جو کوئی میری امت تک چالیس حدیثیں پہنچادے قیامت میں اس کی بخشش ہوگی،اسی لیئے علماء محدثین نے چہل حدیثیں لکھیں۔امام نووی شارح مسلم نے بھی چالیس جمع فرمائیں جس کا یہاں ذکر ہے۔

168 -[29]  

وَعَنْ بِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ الْمُزَنِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «من أَحْيَا سُنَّةً مِنْ سُنَّتِي قَدْ أُمِيتَتْ بَعْدِي فَإِنَّ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلَ أُجُورِ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا وَمَنِ ابْتَدَعَ بِدْعَةً ضَلَالَةً لَا يَرْضَاهَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ كَانَ عَلَيْهِ مِنَ الْإِثْمِ مِثْلُ آثَامِ مَنْ عَمِلَ بِهَا لَا يَنْقُصُ من أوزارهم شَيْئا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

روایت ہے حضرت بلال ابن حارث مزنی سے  ۱؎  فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ  صلی اللہ  علیہ وسلم نے کہ جو میری مردہ سنت کو جو میرے بعد فنا کردی گئی زندہ کرے ۲؎  اسے ان تمام کی برابر ثواب ہوگا جو اس پر عمل کریں اس کے بغیر کہ ان عاملوں کے ثواب سے کچھ کم ہو۳؎  اور جو گمراہی کی بدعت ایجاد کرے جس سے اﷲ رسول راضی نہیں ۴؎  اس پر ان سب کی برابر گناہ ہوگا جو اس پر عامل ہوں اور یہ ان کے گناہوں سے کچھ کم نہ کرے گا اسے ترمذی نے روایت کیا۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن