30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یہ ایسا جامع کلام ہے کہ سارے احکام اس میں آگئے۔تَقْوَی اﷲ میں سارے دینی احکام اور سلطان کی اطاعت میں سارے سیاسی احکام شامل ہیں۔
۳؎ یعنی اگر تمہارا امیر کالا حبشی غلام ہو تب بھی اس کی اطاعت کرو اس کا نسب و شکل نہ دیکھو اس کا حکم سنو۔خیال رہے کہ خلافت قریش سے خاص ہے مگر امارت ہر مسلمان کو مل سکتی ہے،لہذا یہ حدیث کے خلاف نہیں"اَلْخِلَافَۃُ لِلْقُرَیْش"نیز امیر کی اطاعت انہی احکام میں ہوگی جو خلاف شرع نہ ہوں،نیز اس کی اطاعت امیر بن جانے کے بعد ہوگی،یزید امیر بنا ہی نہ تھا،حضرت حسین رضی اﷲ عنہ نے اسے حاکم مانا ہی نہیں۔لہذا آپ کا عمل اس حدیث کے خلاف نہیں،امیر بنانا اور ہے اور امیر بن چکنے کے بعد اطاعت کرنا کچھ اور۔
۴؎ سیاسی اختلاف بھی اور مذہبی بھی۔چنانچہ خلافت عثمانیہ کے آخر میں لوگوں میں سیاسی اختلاف پیدا ہوگیا اور خلافت حیدری میں سیاسی اختلاف کے ساتھ مذہبی اختلاف بھی رونما ہوگیا کہ جبریہ،قدریہ،رافضی،خارجی پیدا ہوگئے۔خیال رہے کہ خدا کے فضل سے صحا بہ میں دینی اختلاف نہ ہوا،سارے صحابہ حق پر رہے،حضور کا یہ کلمہ بہت جامع ہے اور آپ کی یہ پیشن گوئی ہو بہو صحیح ہوئی۔
۵؎ ہر سنت لائق اتباع ہے مگر ہر حدیث لائق اتباع نہیں،حضور کے خصوصیات،منسوخ احکام اور اعمال حدیث ہیں مگر سنت نہیں اسی لیئے یہاں حدیث کو پکڑ نے کا حکم نہیں دیا گیا بلکہ سنت کو۔الحمدﷲ! ہم اہل سنت ہیں دنیا میں اہل حدیث کوئی نہیں ہوسکتا۔صحابہ کرام کے اعمال و افعال بھی لغوی معنے سے سنت ہیں یعنی دین کا اچھا طریقہ اگرچہ ان کی ایجادات بدعت حسنہ ہیں،عمر فاروق نے جماعت کی باقاعدہ تراویح کو جو آپ نے جاری کی تھی بدعت فرمایا کہ کہا نِعْمَتِ الْبِدْعَۃُ ھٰذِہٖ آپ کا وہ کلام اس حدیث کے خلاف نہیں کیونکہ وہ شرعًا بدعت ہے لغۃً سنت اور مسلمانوں کے واسطے لازم العمل۔خیال رہے کہ تمام صحابہ ہدایت کے تارے ہیں،خصوصًاخلفائے راشدین۔لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں کہ "اَصْحَابِی کَالنُّجُوْمِ"تمام صحابہ کی پیروی باعث نجات ہے۔
۶؎ یہاں نئی چیز سے مراد نئے عقیدے ہیں جو اسلام میں حضور کے بعد ایجاد کیئے جائیں،اس لیئے کہ یہاں اسے گمراہی کہا گیا۔گمراہی عقیدہ میں ہوتی ہے نہ کہ اعمال میں لہذا یہ حدیث اپنے عموم پر ہے۔چنانچہ قادیانی،چکرالوی،رفض و خروج یہ تمام بدعات اور گمراہی ہیں اور اگر اس سے نئے اعمال مراد لیئے جائیں تو یہ حدیث عام مخصوص منہ البعض ہے،یعنی ہر بری بدعت گمراہی ہے۔بدعت حسنہ کبھی مباح،کبھی مستحب،کبھی واجب اور کبھی فرض بھی ہوتی ہے۔حدیث کی کتب اور قرآن کے پارے بدعت ہیں مگر اچھے ہیں۔اس کی تحقیق پہلے کی جاچکی ہے۔
|
166 -[27] وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ خَطَّ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطًّا ثُمَّ قَالَ: «هَذَا سَبِيلُ اللَّهِ ثُمَّ خَطَّ خُطُوطًا عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ وَقَالَ هَذِهِ سُبُلٌ عَلَى كُلِّ سَبِيلٍ مِنْهَا شَيْطَانٌ يَدْعُو إِلَيْهِ» ثمَّ قَرَأَ (إِن هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبعُوهُ)الْآيَة. رَوَاهُ أَحْمد وَالنَّسَائِيّ و الدارمي |
روایت ہے عبداﷲ ابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے ایک خط کھینچا پھر فرمایا کہ یہ اﷲ کا راستہ ہے ۱؎ پھر اس کے دائیں بائیں اور لکیریں کھینچیں اور فرمایا یہ مختلف راستے ہیں جن میں سے ہر راستہ پر شیطان ہے جو ادھر بلا رہا ہے۲؎ اوریہ آیت تلاوت فرمائی:"اَنَّ ہٰذَا صِرٰطِیۡ مُسْتَقِیۡمًا فَاتَّبِعُوۡہُ"الایہ اسے احمد،نسائی اور دارمی نے روایت کیا۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع