دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 1 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول

۵؎  یعنی حرام قطعی واجب الترک اسی لیئے صحابہ کرام حضور کے فرمان پر قرآن کی طرح عمل کرتے تھے ہم پر جیسے نماز فرض ہے ایسے ہی نماز کی تعداد اور مقدار یعنی پانچ نمازیں اور ہر نماز میں مقرر رکعات فرض ہیں ہم جو کبھی حدیث کو ظنی کہتے ہیں اس کی وجہ اسنادیں ہیں۔جنہوں نے خود حضور سے حدیثیں سنیں ان کے لیئے قرآن کی طرح قطعی تھیں،دیکھو صدیق اکبرنے حدیث کی بنا پر حضور کی میراث تقسیم نہیں کی حالانکہ تقسیم میراث حکم قرآنی ہے۔

۶؎  یعنی منکرین حدیث کو چاہیے کہ گدھا بھی کھائیں،کتے بلوں پر بھی ہاتھ صاف کریں،پڑی ہوئی چیزبھی قبضہ میں کرلیا کریں،کیونکہ انہیں قرآن نے حرام نہیں کیا بلکہ حدیث نے کیا ہے۔ان شاءاﷲ اس کا جواب قیامت تک ان سے نہ بنے گا۔

مسئلہ:پڑی ہوئی چیز جو ملے اس کے مالک کو تلاش کرکے پہنچادی جائے مسلمان کی ہو یاکسی ذمہ والے کافر کی،حربی کافر کا مال جو بغیر دھوکہ دہی کے ملے حلال ہے جب مالک کے ملنے سے مایوسی ہوجائے تو خیرات کردی جائے اور اگر اٹھانے والاغریب ہو تو خود استعمال کرے۔اس کے بقیہ مسائل کتب فقہ میں ملاحظہ کرو۔

۷؎  یعنی یہ مسئلہ بھی قرآن میں نہیں ہے حدیث میں ہے۔خیال رہے کہ اس زمانہ میں دیہاتی کفار سے یہ عہدلیا جاتا تھا کہ اگر لشکر اسلام یا کوئی مسلمان تمہارے گاؤں پر گزرے تو تم اسے ایک دو وقت کا راشن دینا۔اس معاہدے کے ماتحت لشکر اسلام کو اپنا راشن ان سے وصول کرنے کا حق تھا،حدیث میں اسی کا ذکر ہے اب بھی بعض ہنگامی حالات میں لشکریا پولیس کا خرچ اہل شہر پر ڈال دیا جاتا ہے۔اس جملے کی اور تفسیریں بھی کی گئی ہیں مگر یہ تفسیر زیادہ قوی ہے اس صورت میں یہ حدیث غیرمنسوخ ہے اب بھی اگر کفار سے یہ معاہدہ ہوجائے تو ان پر اس کی پابندی لازم ہوگی۔

164 -[25]  

وَعَن الْعِرْبَاض بن سَارِيَة قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أيحسب أحدكُم متكأ عَلَى أَرِيكَتِهِ يَظُنُّ أَنَّ اللَّهَ لَمْ يُحَرِّمْ شَيْئًا إِلَّا مَا فِي هَذَا الْقُرْآنِ أَلَا وَإِنِّي وَاللَّهِ قَدْ أَمَرْتُ وَوَعَظْتُ وَنَهَيْتُ عَنَ أَشْيَاءَ إِنَّهَا لَمِثْلُ الْقُرْآنِ أَوْ أَكْثَرُ وَإِنَّ اللَّهَ لَمْ يُحِلَّ لَكُمْ أَنْ تَدْخُلُوا بُيُوتَ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا بِإِذْنٍ وَلَا ضَرْبَ نِسَائِهِمْ وَلَا أَكْلَ ثِمَارِهِمْ إِذَا أَعْطَوْكُمُ الَّذِي عَلَيْهِمْ» رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَفِي إِسْنَادِهِ: أَشْعَثُ بْنُ شُعْبَة المصِّيصِي قد تكلم فِيهِ

روایت ہے حضرت عرباض ابن ساریہ سے ۱؎  فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ  صلی اللہ  علیہ وسلم نے قیام فرما کر فرمایا کیا تم میں سے کوئی چھپڑ کھٹ پر تکیہ لگا کر یہ گمان کرسکتا ہے ۲؎  کہ اﷲ نے بجز ان چیزوں کے کوئی چیز حرام نہ کی جو قرآن میں ہیں آگاہ رہو کہ بخدا میں نے احکام دیئے وعظ فرمائے اور بہت چیزوں سے منع کیا جو قرآن کے برابر یا اس سے بھی زیادہ ہیں۳؎   یقینًا اﷲ نےتمہارے لیے یہ مباح نہ کیا کہ کتابیوں کے گھروں میں بلا اجازت گھس جاؤ اور نہ ان کی عورتوں کو مار پیٹ اور نہ ان کے پھل کھانا جب وہ اپنے ذمہ کے حقوق تمہیں ادا کریں۴؎  اسے ابوداؤدنے روایت کیا اس حدیث کی اسناد میں اشعث ابن شعبہ مصیصی ہے جس میں کلام کیا گیا ہے۔

۱؎   آپ صحابی ہیں،آپ کے والد ساریہ کی کنیت ابو نجیح تھی،حضرت عرباض اصحاب صفہ میں سے ہیں،شوقِ الٰہی اورخوفِ الٰہی اپنے دل میں بہت رکھتے تھے،شام میں قیام کیا اور ۷۵ھ؁ میں وہیں وفات پائی،آپ سے ۳۱ احادیث مروی ہیں،حمّص میں آپ کا مزار ہے۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن