30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اگرچہ قرآن تو کامل ہے مگر انسان کا پانا ناقص،قرآن میں سب کچھ ہے مگر ملے گا اسے جسے میں نکال کردوں،ہرشخص سمندر سے موتی حاصل نہیں کرسکتا موتی نکلتے سمندر سے ہیں مگر ملتے جوہری کی دکان پر ہیں اس اَفْصَحُ الْفُصَحَاءِصلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو لفظوں میں ان کے دلائل مع تردید بتادیئے۔
|
163 -[24] وَعَن الْمِقْدَام بن معدي كرب عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنه قَالَ: «أَلا إِنِّي أُوتيت الْكتاب وَمِثْلَهُ مَعَهُ أَلَا يُوشِكُ رَجُلٌ شَبْعَانٌ عَلَى أَرِيكَتِهِ يَقُولُ عَلَيْكُمْ بِهَذَا الْقُرْآنِ فَمَا وَجَدْتُمْ فِيهِ مِنْ حَلَالٍ فَأَحِلُّوهُ وَمَا وَجَدْتُمْ فِيهِ مِنْ حَرَامٍ فَحَرِّمُوهُ وَإِنَّ مَا حَرَّمَ رَسُولُ الله كَمَا حَرَّمَ اللَّهُ أَلَا لَا يَحِلُّ لَكُمُ لحم الْحِمَارُ الْأَهْلِيُّ وَلَا كُلُّ ذِي نَابٍ مِنَ السَّبع وَلَا لُقَطَةُ مُعَاهَدٍ إِلَّا أَنْ يَسْتَغْنِيَ عَنْهَا صَاحِبُهَا وَمَنْ نَزَلَ بِقَوْمٍ فَعَلَيْهِمْ أَنْ يُقْرُوهُ فَإِنْ لَمْ يَقْرُوهُ فَلَهُ أَنْ يُعْقِبَهُمْ بِمِثْلِ قِرَاهُ» رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَى الدَّارِمِيُّ نَحْوَهُ وَكَذَا ابْنُ مَاجَهْ إِلَى قَوْلِهِ: «كَمَا حَرَّمَ الله» |
روایت ہے حضرت مقدام ابن معد یکرب سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے آگاہ ہو کہ مجھے قرآن بھی دیا گیا اور اس کے ساتھ اس کا مثل بھی ۲؎ خبردار قریب ہے کہ ایک پیٹ بھرا اپنی مسہری پر کہے ۳؎ کہ صرف قرآن کو تھام لو اس میں جو حلال پاؤ اسے حلال جانو اور جو حرام پاؤ اسے حرام سمجھو۴؎ حالانکہ رسول اﷲ کا حرام فرمایا ہوا ویسا ہی حرام ہے جیسا کہ اﷲ کا حرام فرمودہ ۵؎ دیکھو تمہارے لیے نہ تو پلاؤ گدھا حلال ہے اور نہ کوکیلی والا درندہ جانور نہ عہد والے کافر کی گمی ہوئی چیز مگر جب اس کا مالک اس سے لاپرواہ ہوجائے ۶؎ اور جو کسی قوم کے پاس مہمان جائے ان پر اس کی مہمانی ہے اگر مہمانداری نہ کریں تو وہ اپنی مہمانی کی بقدر ان سے وصول کرلے ۷؎ اسے ابوداؤد نے روایت کیا دارمی نےبھی اسی طرح اور ابن ماجہ نے حرم اﷲ تک۔ |
۱؎ آپ صحابی ہیں،قبیلہ بنی کندہ سے تعلق رکھتے ہیں،کندی وفد کے ساتھ حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے، ۸۷ھ میں سام میں وفات پائی ۹۱سال عمر ہوئی۔
۲؎ یعنی حدیث شریف جو قرآن کی طرح وحی الٰہی ہے اور اسی کی طرح واجب الاتباع۔اس حدیث کی تائید قرآن شریف کی اس آیت سے ہے:"وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ" کتاب تو قرآن حکیم ہے اور حکمت حدیث شریف۔خیال رہے کہ قرآن شریف کی عبارت بھی وحی ہے اورمضامین بھی مگر حدیث شریف کا مضمون وحی ہے الفاظ حضور کے اپنے اسی لیئے الفاظ حدیث پر قرآن کے احکام جاری نہیں کہ اس کی تلاوت نماز میں نہیں ہوسکتی،بے وضو اسے چھوسکتا ہے۔اسی لیئے قرآن کو وحی متلو کہتے ہیں اور حدیث کو غیر متلو۔مرقاۃ میں ہے کہ جبریل امین حدیث کوبھی لےکر اترتے تھے،اس کی تحقیق کے لیئے ہماری کتاب "ایک اسلام"دیکھو۔
۳؎ یہ کلمہ"اَلَا منکرین "حدیث پر اظہار غضب کے لیئے ہے اسی لیئے ہمارے امام اعظم فرماتے ہیں کہ حدیث ضعیف کے ہوتے ہوئے قیاس جائز نہیں،حدیث ضعیف کو قیاس قوی پر ترجیح ہے اگرچہ اس منکر حدیث کی پیدائش۱۳سو برس کے بعد ہوئی مگرحضور کی نگاہوں سے قریب تھا اس لیئے یُوْشِكَ فرمایا،شَبْعَانٌ(پیٹ بھرا)میں اس کی مالداری اور مسہری میں اس کا لنگڑا ہونا بتایا گیا۔
۴؎ یعنی اپنی تحقیق پر اعتماد کرو،صاحب قرآن سے الگ ہوجاؤ یہ بکواس ہی تمام بے دینوں کی جڑ ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع