30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
160 -[21] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْإِيمَانَ لَيَأْرِزُ إِلَى الْمَدِينَةِ كَمَا تأرز الحيية إِلَى جحرها» |
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ یقینًا ایمان مدینہ کی طرف ایسا سمٹ آوے گا جیسے سانپ اپنے بل کی طرف ۱؎ (مسلم وبخاری)اور ہم حضرت ابوہریرہ کی حدیث ذرونی الخ کتاب الحج میں اورحضرت معاویہ وجابر کی حدیثیں لایزال من امتی الخ اور لایزال طائفۃ من امتی ان شاءاﷲ باب ثواب ھذہ الامۃ میں بیان کریں گے ۲؎ |
۱؎ یہ آخر زمانہ میں ہوگا کہ مسلمان کو دنیا میں کہیں امن نہ ملے گا تو وہ اپنا ایمان بچانے کے لیئے مدینے کی طرف بھاگیں گے،مدینہ پہلے بھی مسلمانوں کا جائے امن بنا اور آیندہ بھی بنے گا کیوں نہ ہو کہ یہاں دونوں عالم کے پناہ صلی اللہ علیہ وسلم جلوہ فرما ہیں غالبًا یہ واقعہ دجّال کے قریب ہوگا۔سانپ سے تشبیہ دینے میں ادھر اشارہ ہے کہ جیسے سانپ کو کوئی پناہ نہیں دیتا ایسے ہی آخر زمانہ میں لوگ اسلام کو سانپ کی طرح تکلیف دہ سمجھیں گے۔اس سے معلوم ہورہا ہے کہ مدینہ پاک اسلام سے کبھی خالی نہ ہوگا۔
۲؎ یعنی وہ تینوں حدیثیں مصابیح میں یہاں ہی تھیں لیکن ہم نے مناسبت کی وجہ سے ان بابوں میں ذکر کیا۔
|
161 -[22] عَن ربيعَة الجرشِي يَقُول أُتِي النَّبِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقِيلَ لَهُ لِتَنَمْ عَيْنُكَ وَلِتَسْمَعْ أُذُنُكَ وَلِيَعْقِلْ قَلْبُكَ قَالَ فَنَامَتْ عَيْنَايَ وَسَمِعَتْ أُذُنَايَ وَعَقَلَ قَلْبِي قَالَ فَقِيلَ لِي سيد بنى دَارا فَصنعَ مَأْدُبَةً وَأَرْسَلَ دَاعِيًا فَمَنْ أَجَابَ الدَّاعِيَ دَخَلَ الدَّارَ وَأَكَلَ مِنَ الْمَأْدُبَةِ وَرَضِيَ عَنْهُ السَّيِّدُ وَمَنْ لَمْ يُجِبِ الدَّاعِيَ لَمْ يَدْخُلِ الدَّارَ وَلم يطعم مِنَ الْمَأْدُبَةِ وَسَخِطَ عَلَيْهِ السَّيِّدُ قَالَ فَاللَّهُ السَّيِّدُ وَمُحَمَّدٌ الدَّاعِي وَالدَّارُ الْإِسْلَامُ وَالْمَأْدُبَةُ الْجَنَّةُ. رَوَاهُ الدَّارمِيّ |
روایت ہے حضرت ربیعہ جرشی سے ۱؎ فرماتے ہیں حضور کی خدمت میں آنے والا آیا اور حضور سے کہا گیا کہ مناسب ہے کہ آپ کی آنکھیں تو سوجائیں آپ کے کان سنتے اور دل سمجھتا رہے ۲؎ فرماتے ہیں کہ میری آنکھیں سو گئیں اور کان سنتے رہے دل سمجھتا رہا ۳؎ فرماتے ہیں مجھ سے کہا گیا کہ سردار نے گھر بنایا وہاں خوان تیار کیا اور بلانے والا بھیجا تو جس نے بلانے والے کی دعوت قبول کی وہ گھر میں آیا خوان سے کھایا اس سے سردار راضی ہوا ۴؎ اور جس نے منادی کی نہ مانی وہ نہ گھر میں آیا نہ اس نے خوان سے کھایا آقا اس پر ناراض ہوئے ۵؎ فرمایا کہ اللہ سید ہے اور محمد بلانے والے گھر اسلام ہے اور خوان جنت ۶؎ (دارمی) |
۱؎ آپ کا نام ربیعہ ابن عمرو ہے۔یمن کے علاقہ میں مقام جرش کے رہنے والے ہیں،امیر معاویہ کے زمانہ میں ناسک کے مفتی رہے ہیں،ان کی صحابیت میں اختلاف ہے،مگر صحیح یہ ہے کہ آپ صحابی ہیں۔
۲؎ یعنی حضور بیدار تھے،ایک فرشتہ نے آکر یہ عرض کیا ان کلمات سے حضور پر نیند طاری ہوگئی،پھر خواب میں وہ کلام ہوا جو آگے آرہا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ فرشتوں کے بعض کلمے ہم کو سلا دیتے ہیں،بعض کلمے ہم کو موت دیتے ہیں،صور کی آواز سب کو زندہ کرے گی۔حدیث اپنے ظاہر پر ہے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع