30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۴؎یعنی ایسے بدعقیدہ اور بدعمل لوگوں کی اصلاح تین جماعتیں تین طرح کریں:حکام طاقت سے کہ مجرموں کو سزائیں دیں،اہل علم زبان سے کہ انہیں وعظ کریں،عوام مؤمن دل سے کہ ان سے نفرت کریں اور دور رہیں تا قیامت یہ احکام جاری رہیں۔
۵؎ یعنی جو انہیں دل سے برا بھی نہ جانے ان کے عقیدوں سے راضی ہو وہ انہیں کی طرح بے ایمان ہے۔اسی لیئے علماء پر فرض ہے کہ اپنی زبان اورقلم سے مسلمانوں کو بیدینوں سے نفرت دلائیں،ان کے عقائد بتائیں اور تردید کریں۔خیال رہے کہ ضعیف ایمان کو رائی کے دانہ سے مثال دینا بیان کیفیت کے لیے ہے نہ کہ بیان مقدار کے لیئے،کیونکہ ایمان مقدارًا کم و بیش نہیں ہوتا،ہر مؤمن پورا مسلمان ہے آدھا اور چوتھائی مسلمان نہیں۔
|
158 -[19] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم قَالَ: «مَنْ دَعَا إِلَى هُدًى كَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ أُجُورِ مَنْ تَبِعَهُ لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا وَمَنْ دَعَا إِلَى ضَلَالَةٍ كَانَ عَلَيْهِ مِنَ الْإِثْمِ مِثْلُ آثَامِ مَنْ تَبِعَهُ لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ آثَامِهِمْ شَيْئا» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ہدایت کی طرف بلائے اس کو تمام عالمین کی طرح ثواب ملے گا،اور اس سے ان کے اپنے ثوابوں سے کچھ کم نہ ہوگا ۱؎ اور جو گمراہی کی طرف بلائے تو اس پر تمام پیروی کرنے والے گمراہوں کے برابر گناہ ہوگا اور یہ ان کے گناہوں سے کچھ کم نہ کرے گا ۲؎(مسلم) |
۱؎ یہ حکم نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے صدقہ سے تمام صحابہ،آئمہ مجتہدین،علماء متقدمین و متاخرین سب کو شامل ہے،مثلًا اگرکسی کی تبلیغ سے ایک لاکھ نمازی بنیں تو اس مبلغ کو ہر وقت ایک لاکھ نمازوں کا ثواب ہوگا۔اور ان نمازیوں کو اپنی اپنی نمازوں کا ثواب۔اس سےمعلوم ہوا کہ حضور کا ثواب مخلوق کے اندازے سے وراءہے،رب فرماتا ہے:"وَ اِنَّ لَکَ لَاَجْرًا غَیۡرَ مَمْنُوۡنٍ"ایسے ہی وہ مصنفین جن کی کتابوں سے لوگ ہدایت پارہے ہیں قیامت تک لاکھوں کا ثواب انہیں پہنچتا رہے گا۔یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں" لَّیۡسَ لِلْاِنۡسٰنِ اِلَّا مَا سَعٰی"کیونکہ یہ ثوابوں کی زیادتی اس کے عملِ تبلیغ کا نتیجہ ہے۔
۲؎ اس میں گمراہیوں کے موجدین مبلغین سب شامل ہیں تاقیامت ان کو ہر وقت لاکھوں گناہ پہنچتے رہیں گے۔یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں"وَعَلَیۡہَامَااکْتَسَبَتْ"کیونکہ یہ اس کے اپنے فعل یعنی تبلیغِ شر کی سزاہے۔
|
159 -[20] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَدَأَ الْإِسْلَامُ غَرِيبًا وَسَيَعُودُ كَمَا بَدَأَ فَطُوبَى للغرباء» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام غریبی سے شروع ہوا اورجیسا شروع ہوا تھا ویسا ہی پھر ہوجائے گا غربا کو خوشخبری ہو ۱؎ (مسلم) |
۱؎ غربت کے لفظی معنی ہیں تنہائی اور بیکسی،اسی لیئے مسافر اور تنگ دست کو غریب کہا جاتا ہے کہ مسافر سفر میں اکیلا ہوتا ہے اور تنگ دست بیکس،یعنی اسلام کو پہلے تھوڑے لوگوں نے قبول کیا اور آخر میں بھی تھوڑے ہی لوگوں میں رہ جائے گا،یہ دونوں جماعتیں بڑی مبارک ہیں۔الحمدﷲ!تھوڑے مسلمان بہتوں پر غالب آتے رہے اور آتے رہیں گے،تھوڑا سونا بہت سے لوہے پر اور تھوڑا مشک بہت سی مٹی پر غالب ہے۔یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ غریب مسکین لوگ اسلام پر قائم رہتے ہیں اکثر مالداربھٹک جاتے ہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع