30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مالک ابن انس اصبحی ۱؎ اور ابو عبداﷲ محمد ابن ادریس شافعی۲؎
تشریح:
۱؎ آپ مذہب مالکی کے امام ہیں،تبع تابعین میں سے ہیں۔اگرچہ آپ امام بخاری و مسلم سے پہلےگزرے اور آپ کی کتاب"مؤطا امام مالک"ان دونوں کتب سے پہلےلکھی گئی مگر چونکہ بخاری ومسلم کا رتبہ فن حدیث میں اعلٰی مانا گیا ہے اس لیے مصنف نے ان دونوں کے بعد آپ کا ذکر کیا۔بڑےمحدث،فقیہ،اور عاشق رسول ہیں،مدینہ منورہ میں رہے،سوائے ایک بار حج کےکبھی مدینہ شریف سے باہر نہ گئے،اس شہر پاک میں کبھی خچریا گھوڑے پرسوار نہ ہوئے حالانکہ آپ کے ہاں بہت گھوڑے تھے،بہت ادب سے باوضو حدیث بیان فرماتے تھے،تین سو تابعین چارسوتبع تابعین سےحدیثیں حاصل کیں،آپ کی ولادت ۱۰۳ھ ربیع الاول میں ہوئی،وفات ۱۷۹ھ میں ہوئی۔(یہ مرقاۃ کی روایت ہے)شامی میں ہے کہ امام مالک کی ولادت ۹۰ ھ اور وفات ۱۷۹ھ میں،عمر ۸۹سال ہے۔واﷲ اعلم! آپ کا مزار جنت البقیع مدینہ منورہ میں زیارت گاہ خاص وعام ہے۔فقیر نے زیارت کی ہے آپ کی کتاب حدیث مؤطا امام مالک مشہور ہے۔
۲؎ آپ کی کنیت ابوعبداﷲہے،نام محمد ابن ادریس ابن عباس ابن عثمان ابن شافعی ابن سائب ابن عبید ابن عبدِ یزید ابن ہاشم ابن عبدالمطلب ابن عبدمناف ہے،لہذا آپ مطلبی ہاشمی ہیں۔شافعی ابن سائب کی نسبت سے آپ کا لقب شافعی ہے اور آپ کے سلسلۂ مذہب کا نام بھی شافعی،اورشافع کی والدہ خلدہ بنت اسد حضرت علی مرتضیٰ کی خالہ ہیں یعنی فاطمہ بنت اسدکی ہمشیرہ۔سائب جنگ بدرمیں کفار مکہ کےعلمبردار تھے جومسلمانوں کی قیدمیں آئے اورفدیہ دےکررہائی پائی،بعدمیں اسلام لائے،امام شافعی اسلام کے مایہ ناز امام،مجتہد،صاحبِ مذہب عابد،زاہد،بڑےباادب بزرگ ہیں۔اصول دین میں آپ نے چودہ ضخیم کتاب تصنیف فرمائیں،اورفروعات میں سوسے زیادہ،جب آپ کسی مصیبت میں ہوتے تو بغداد شریف حضرت امام ابوحنیفہ رضی اﷲ عنہ کے مزار پاک پر حاضر ہو کر دو رکعت نفل ادا کرکے حضور امام ابوحنیفہ کے توسل سے دعا فرماتے،رب تعالٰی مصیبت رفع فرماتا،خودفرماتے ہیں کہ امام ابوحنیفہ کی قبر قبول دعا کے لیے تریاق ہے،آپ کی ولادت ۱۸۰ھ میں عین امام اعظم کی وفات کے دن مقام عسقلان یا مقام منیٰ میں ہوئی،مکہ معظمہ میں پرورش پائی،۵۴ سال عمر شریف پاکر ۲۰۴ھ مصر میں وفات پائی۔قرافہ مصر میں مزار پرانوار ہے،امام مالک کے شاگرد ہیں اور امام محمد کی تصنیفات سے کسب علم فرمایا،رمضان شریف میں ہر شب ایک قرآن ختم فرماتے تھے۔رضی الله عنہ۔
إِدْرِيسَ الشَّافِعِيِّ،وَأَبِي عَبْدِ اللَّهِ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّد بن حَنْبَل الشَّيْبَانِيّ،وَأبي عِيسَى مُحَمَّد بن عِيسَى
ترجمہ:
اور ابو عبداﷲ احمد ابن محمد ابن حنبل شیبانی ۱؎ اور ابو عیسیٰ محمد ابن عیسیٰ ترمذی ۲؎
تشریح:
۱؎ آپ کی کنیت ابوعبداﷲ ہے،نام شریف احمد ابن محمد ابن حنبل ابن بلال ابن ادریس ابن عبداﷲ ابن جتان ابن اسد ابن نزار ابن معد ابن عدنان ہے،بڑےمحدث،فقیہ ومجتہدہیں۔امام مذہب ہیں،بغدادشریف میں ولادت ہوئی،طالبِ علمی میں کوفہ،بصرہ،شام،مکہ معظمہ ومدینہ منورہ گئے،آئمہ حدیث سے ملاقاتیں کیں،امام بخاری و مسلم ابوداؤد وغیرہ آپ کے شاگرد ہیں۔ساڑھے سات لاکھ احادیث سے منتخب کرکےمسنداحمدابن حنبل تصنیف فرمائی۔آپ کی بڑی عظمت یہ ہے کہ حضور غوث الثقلین سیدشیخ محی الدین عبدالقادربغدادی رضی اﷲ عنہ آپ کے مذہب حنبلی کے پیرو ہیں،ہمیشہ فقر وفاقہ میں گزاری۔مسئلہ خلق قرآن پر شاہ بغداد مامون رشید آپ کا مخالف ہوگیا،آپ کوتیس کوڑے لگائے،ہرکوڑے پر آپ فرماتے کہ قرآن کلام اﷲ قدیم ہے،آپ کی ولادت بغداد شریف میں ۱۶۴ھ میں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع