30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
152 -[13] وَعَن عبد الله بن عَمْرو قَالَ: هَجَّرْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا قَالَ: فَسَمِعَ أَصْوَاتَ رَجُلَيْنِ اخْتَلَفَا فِي آيَةٍ فَخَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْرَفُ فِي -[55]- وَجْهِهِ الْغَضَبُ فَقَالَ: «إِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ باختلافهم فِي الْكتاب» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے عبداﷲ بن عمرو سے فرماتےہیں ایک دن دوپہری میں میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے دوشخصوں کی آوازیں سنیں جو کسی آیت میں جھگڑ رہے تھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے کہ چہرہ میں غصہ معلوم ہوتا تھا فرمایا تم سے پہلے لوگ کتاب اﷲ میں جھگڑوں کی وجہ سے ہی ہلاک ہوگئے ۱؎ (مسلم) |
۱؎ کتاب میں اختلاف کی تین صورتیں ہیں: (۱)قرآن کو اپنی رائے کے مطابق کرنے کی کوشش کرنا جیسے آج کل دیکھا جارہا ہے۔(۲)خود قرآن کی آیت میں اختلاف کہ یہ آیت کتاب اﷲ ہے یا نہیں۔(۳)قرآن کریم سے مسائل نکالنے میں اختلاف،پہلے۲ دوقسم کے اختلاف حرام بلکہ کفر ہیں،تیسری قسم کا اختلاف عبادت ہے جوصحابہ کرام کے زمانہ سے چلا آرہا ہے۔یہ اختلاف آئمہ مجتہدین میں ہوسکتا ہے،یہاں پہلی دو قسم کے اختلاف مراد ہیں۔اہل کتاب نے بھی آسمانی کتب میں اسی قسم کے اختلاف کیئے تھے۔
|
153 -[14] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «أَن أعظم الْمُسلمين فِي لامسلمين جُرْمًا مَنْ سَأَلَ عَنْ شَيْءٍ لَمْ يُحَرَّمْ على النَّاس فَحرم من أجل مَسْأَلته» |
روایت ہے حضرت سعدابن ابی وقاص سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ مسلمانوں میں بڑا مجرم وہ ہے جو کسی غیر حرام چیز کے بارے میں پوچھ گچھ کرے ۲؎ اس کی پوچھ گچھ کی وجہ سے وہ چیزیں حرام کردی جاوے ۳؎ (بخاری و مسلم) |
۱؎ آپ کا اسم شریف سعد ابن ابی وقاص اور کنیت ابو اسحاق ہے،آپ کے والد کا نام مالک ابن وھیب ہے،اور کنیت ابو وقاص آپ زہری ہیں،قرشی ہیں،عشرۂ مبشرہ میں سے ہیں،قدیم الاسلام ہیں۔چنانچہ آپ تیسرے مسلمان ہیں،بوقت اسلام آپ کی عمرشریف سترہ برس تھی،بہت شاندارصحابی ہیں کہ حضور نے ان کے لیئے فرمایا تم پر میرے ماں باپ فدا،تمام غزوات میں حضور کے ساتھ رہے،بہت بڑے مقبول الدعاء تھے،لوگ آپ کی بددعا سے بہت ڈرتے تھے،عہدفاروقی اورعثمانی میں کوفہ کے گورنر رہے،ستربرس سے زیادہ عمر پائی، ۵۵ھ میں مدینہ منورہ سے قریب مقام عقیق میں وصال ہوا،وہاں سے آپ کی میت شریف مدینہ منورہ لائی گئی،مروان ابن حکم نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی اور مدینہ پاک کے قبرستان جنت البقیع میں دفن کیے گئے۔
۲؎ یہاں روئے سخن ان قیل قال والوں کی طرف ہے جنہیں بلاضرورت ہر بات کرید کرنے کی عادت ہوتی ہے ورنہ مسائل سیکھنے کے سوال اچھی چیز ہے۔رب تعالٰی فرماتا ہے:"فَسْـَٔلُوۡۤا اَہۡلَ الذِّکْرِ اِنۡ کُنۡتُمْ لَا تَعْلَمُوۡنَ "لہذا یہ حدیث قرآن کے خلاف نہیں اور پوچھ گچھ سے مراد نبی سے پوچھنا ہے کیونکہ حرام و حلال کے احکام اسی بارگاہ سے جاری ہوتے ہیں،جیسے حضور نے فرمایا کہ تم پر حج فرض ہے ایک صحابی نے پوچھا کیا ہر سال؟ فرمایا کہ اگر میں ہاں کہہ دیتا تو ہر سال ہی فرض ہوجاتا۔یہ ہیں مضر سوالات۔
۳؎ اس سے تین مسئلےمعلوم ہوئے:ایک یہ کہ اصل اشیاءمیں اباحت ہے یعنی جس سے شریعت میں خاموشی ہووہ حلال ہے۔حرام وہی ہے جسے شریعت منع کرےجیساکہ لَمْ یُحَرَّمْ سے معلوم ہوا،رب تعالٰی فرماتا ہے:"قُلۡ لَّاۤ اَجِدُ فِیۡ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیَّ مُحَرَّمًا"۔ معلوم ہوا جس کی حرمت نہ ملے وہ حلال ہے مگر اس زمانہ میں بعض جہلاء بلا دلیل ہرچیز کو حرام کہہ دیتے ہیں اور حلال ہونے کے لیئے ثبوت مانگتے ہیں بتاؤ کہاں لکھا ہے،میلادشریف اور گیارھویں شریف حلال ہے خود نہیں بتاتے کہ حرام کہاں لکھا ہے انہیں اس
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع