30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دوزخ سے نہیں بچ سکتا جب تک کہ حضور کی ہدایت کو قبول نہ کرے ورنہ ہندو،سادھو اور عیسائی راہب ترک دنیا کرکے عمربھرعبادتیں کرتے ہیں مگر دوزخی ہیں۔
|
150 -[11] (مُتَّفق عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي مُوسَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَثَلُ مَا بَعَثَنِي اللَّهُ بِهِ مِنَ الْهُدَى وَالْعلم كَمثل الْغَيْث الْكثير أصَاب أَرضًا فَكَانَ مِنْهَا نقية قَبِلَتِ الْمَاءَ فَأَنْبَتَتِ الْكَلَأَ وَالْعُشْبَ الْكَثِيرَ وَكَانَتْ مِنْهَا أَجَادِبُ أَمْسَكَتِ الْمَاءَ فَنَفَعَ اللَّهُ بِهَا النَّاس فَشَرِبُوا وَسقوا وزرعوا وأصابت مِنْهَا طَائِفَةً أُخْرَى إِنَّمَا هِيَ قِيعَانٌ لَا تُمْسِكُ مَاءً وَلَا تُنْبِتُ كَلَأً فَذَلِكَ مَثَلُ مَنْ فَقُهَ فِي دِينِ اللَّهِ وَنَفَعَهُ مَا بَعَثَنِي اللَّهُ بِهِ فَعَلِمَ وَعَلَّمَ وَمَثَلُ مَنْ لَمْ يَرْفَعْ بِذَلِكَ رَأْسًا وَلَمْ يَقْبَلْ هُدَى اللَّهِ الَّذِي أُرْسِلْتُ بِهِ» |
روایت ہے حضرت ابوموسیٰ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اس ہدایت و علم کی مثال جو رب نے مجھے دے کر بھیجا ۱؎ اس بہت سی بارش کی طرح ہے ۲؎ جوکسی زمین میں پہنچی اس کا کچھ حصہ اچھا تھا جس نے پانی چوسا اور گھاس اور بہت چارہ اگادیا اور بعض حصہ سخت تھا۳؎ جس نے پانی جمع کرلیا جس سے اﷲ نے لوگوں کو نفع دیا کہ انہوں نے خود پیا پلایا اور کھیتی کی اور ایک دوسرے حصہ میں پہنچا جو چیٹل تھا کہ نہ پانی جمع کرے اور نہ گھاس اُگائے۴؎ یہ اس کی مثال ہے جو دینی عالم ہوا اور اسے اس چیزنے نفع دیا جو مجھے رب نے دے کر بھیجا اس نے سیکھا اورسکھایا ۵؎ اور اس کی مثال ہے جس نے اس پر سر نہ اٹھایا اور اﷲ کی وہ ہدایت قبول نہ کی جو مجھے دے کر بھیجا گیا ۶؎ (بخاری و مسلم) |
۱؎ اس سے اشارۃً معلوم ہوا کہ علم اور ہدایت ایک نہیں کبھی علم ہوتا ہے،ہدایت نہیں ہوتی جیسے اس امت کے بے دین علماء،کبھی ہدایت نصیب ہوجاتی ہے بہت ساعلم نہیں ہوتا جیسے وہ عوام جو بے علم ہیں مگر ایمان دار ہیں کبھی علم اور ہدایت دونوں جمع ہوجاتے ہیں،جیسے علمائے دین ہیں۔ہدایت علم سے افضل ہے،اسی لیئے اس کا ذکر پہلے ہوا،علم کتابوں سے ملتا ہے ہدایت کسی کی نظر سے۔
۲؎ اس سے اشارۃً معلوم ہوا کہ حضور کے یہاں علم اور فیضان کی کمی نہیں تمام دنیا فیض لے لے تو گھٹتا نہیں کوئی نہ لے تو بیکاربچتا نہیں جیسےسورج کی روشنی اوربادلوں کاپانی۔
۳؎"اَجَادِبْ" اَجْدَبْ کی جمع ہے،بمعنی وہ سخت زمین جوپانی کو چوس کر ختم نہ کردے اسی لیئے قحط کو جدب کہتے ہیں،یہاں مرادنشیبی زمینیں ہیں تالاب بن جاتے ہیں۔
۴؎ اس تشبیہ کا خلاصہ یہ ہے کہ حضورگویا رحمت کا بادل ہیں حضور کا ظاہری اور باطنی فیض اور نورانی کلام بارش۔ انسانوں کے دل مختلف قسم کی زمین۔چنانچہ مؤمن کا دل قابلِ کاشت زمین ہے،جہاں عمل اورتقویٰ کے پودے اُگتے ہیں،علماء اور مشائخ کے سینے گویا تالاب ہیں اور اس خزینہ کے گنجینے ہیں جس سے تاقیامت مسلمانوں کے ایمان کی کھیتیاں سیراب ہوتی رہیں گی۔منافقین اور کفار کے سینے کھاری زمین ہیں نہ فائدہ اٹھائیں نہ پہنچائیں۔
۵؎ اس تشبیہ سے دو فائدے حاصل ہوئے:ایک یہ کہ کوئی شخص کسی درجہ پر پہنچ کر حضور سے بے نیاز نہیں ہوسکتا،زمین کیسی اعلٰی ہو اور کتنا ہی اچھا تخم بویا جائے،مگر بارش کی محتاج ہے،دین و دنیا کی ساری بہاریں حضور کے دم سے ہیں۔شعر
شکر فیض تو چمن چوں کنداے ابر بہار کہ اگر خاور گرگل ہمہ پروردۂ تست
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع