30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہردنیوی اخروی آنے والے عذابوں کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ فرمایااورآپ کی بشارت یا ڈرانا مشاہدے سے ہے۔رب فرماتا ہے:"اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰکَ شٰہِدًا"۔
۲؎ عرب میں دستور تھا کہ خطرناک دشمن کی اطلاع دینے والا اپنا کرتہ لاٹھی پر ٹانگ کر لوگوں میں اعلان کرتا تھا کہ ہوشیار ہوجاؤ اسے نذیر عریاں کہا جاتا تھا یعنی ننگا ڈرانے والا۔
۳؎ یعنی سننے والے دو ٹولہ بن گئے۔ایک ٹولہ نے اس نذیر کا اعتبارکیا اور دشمن لشکر کے حملے سے قبل اندھیرے ہی بھاگ گئے یہ نفع میں رہے۔
۴؎ تو جیسے نجات و ہلاکت کا دارو مدار اس اعلان کرنے والے کی تصدیق یا تکذیب ہے ایسے ہی آخرت کے عذاب سے بچنے نہ بچنے کا مدار حضور کے ماننے اور نہ ماننے پر ہے۔عذابِ الٰہی گویا لشکر ہے،موت سے پہلے تو بہ کرلینا گویا بروقت خطرناک جگہ سے نکل جانا ہے اور آخر تک گناہوں میں ڈٹا رہنا اور حضور کو جھٹلانا گویا خطرناک جگہ میں رہ کر دشمن کے ہاتھوں مارا جانا ہے۔
|
149 -[10] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «إِنَّمَا مثلي وَمثل النَّاس كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَوْقَدَ نَارًا فَلَمَّا أَضَاءَتْ مَا حوله جَعَلَ الْفَرَاشُ وَهَذِهِ الدَّوَابُّ الَّتِي تَقَعُ فِي النَّار يقعن فِيهَا وَجعل يحجزهن ويغلبنه فيقتحمن فِيهَا فَأَنَا آخِذٌ بِحُجَزِكُمْ عَنِ النَّارِ وَأَنْتُمْ يقتحمون فِيهَا» . هَذِهِ رِوَايَةُ الْبُخَارِيِّ وَلِمُسْلِمٍ نَحْوَهَا وَقَالَ فِي آخرهَا:"فَذَلِكَ مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ أَنَا آخِذٌ بِحُجَزِكُمْ عَنِ النَّارِ:هَلُمَّ عَنِ النَّارِ هَلُمَّ عَنِ النَّارِ فَتَغْلِبُونِي تَقَحَّمُونَ فِيهَا " |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری کہاوت اس شخص کی سی ہے ۱؎ جس نے آگ روشن کی جب آگ نے ارد گرد کو چمکا دیا تو پتنگے اور یہ جو آگ میں گرا کرتے ہیں(جانور)اس میں گرنے لگے۲؎ اور انہیں روکنے لگا اور وہ جانور اس پر غالب آئے جاتے ہیں آگ میں گرے جاتے ہیں۳؎ چنانچہ میں تمہاری کمر پکڑکر آگ سے بچاتا ہوں اور تم اس میں گرے جاتے ہو۴؎ یہ بخاری کی روایت ہے مسلم کی روایت اسی طرح ہے مگر اس کے آخر میں فرمایا کہ حضور نے فرمایا یہ میری تمہاری مثال ہے میں تمہیں کمر سے پکڑکر آگ سے بچارہا ہوں آگ سے بھاگ آؤ مگر تم مجھ پر غالب آئے جاتے ہو اور اس میں گرے جاتے ہو۔(مسلم و بخاری) |
۱؎ یہ بھی تشبیہ مرکب ہے کہ ایک پورے واقعہ کو پورے واقعہ سے تشبیہ دی گئی ہے۔اﷲ تعالٰی نے دنیا اور یہاں کی الجھنوں کو دین کا ذریعہ بنانے کے لیئے پیدا فرمایا مگر لوگوں نے انہیں غلط استعمال کرکے ہلاکت کا ذریعہ بنالیا جیسے کوئی جنگل میں مسافروں کی ہدایت اور روشنی کے لیئے آگ جلائے مگر پتنگے اسی آگ کو اپنی ہلاکت کا سامان بنالیں،ا ور ہلاکت کو اپنی نجات سمجھیں۔
۲؎ چنانچہ دنیا کی لذتیں آگ ہیں اور ہم ناسمجھ بندے پتنگے کہ اس کو غلط استعمال کرکے اپنے کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں۔
۳؎ خیال رہے کہ تشبیہ میں آگ جلانے والا اور ہے اور بچانے والا اور۔جن دونوں کو لفظ رجل شامل ہے ایسے ہی یہاں دنیا بنانے والا رب ہے اور اس کے غلط استعمال سے بچانے والےحضور ہیں۔
۴؎ حضور کا اپنی امت کو نرمی گرمی سے سمجھانا بجھانا گویا ان کی کمر پکڑ کر آگ سے روکنا ہے یہ روکنا تاقیامت رہے گا،علماء مشائخ کی تبلیغیں،غازیوں کے جہاد،حضور ہی کی تبلیغ ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ کوئی شخص اپنی دانائی یا اپنی تجویز کردہ عقلی عبادتوں کے ذریعہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع