30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
علم کا یہ عالم ہے تو ہمارے حضور علیہ الصلوۃ والسلام اس معمولی بات سے کیسے بے خبر ہو سکتے ہیں۔اس کی پوری تحقیق ہماری کتاب "جاء الحق"میں دیکھو۔
۵؎ یعنی ہمارے فرمان دوقسم کے ہیں:شرعی احکام اور دنیوی رائے شریف۔شرعی احکام لازم العمل ہیں کیونکہ وہاں نبوت اور نورانیت کا لحاظ ہے مگر رائے مبارک کا قبول کرنا مستحب ہے نہ ماننے کا بھی اختیار ہےلیکن بڑا یاحقیرجاننا اس کا بھی کفر ہوگا۔یہی اہل سنت کا عقیدہ ہے اور یہی اس حدیث کا مطلب ہے کہ میرا کلام قرآن کو منسوخ نہیں کرسکتا،یعنی رائے اور مشورےکیونکہ رائے میں حضور کی بشریت کی جلوہ گری ہے۔خیال رہے کہ حضور کا اپنے کو بشر فرمانا آپ کاکمال ہے۔ہم اگر یہ لفظ اہانت یا برابری کے دعویٰ سے کہیں تو کافر ہوجائیں گے۔شیطان نبی کی حقارت کرکے اور انہیں بشر کہہ کر ہی کافر ہوا کہ کہا"مَا کُنْتُ لِاَسْجُدَ لِبَشَرٍ"یونس علیہ السلام نے اپنے کو ظالم کہا:"اِنِّیۡ کُنۡتُ مِنَ الظّٰلِمِیۡنَ"کوئی اورشخص نبی کو ظالم کہے تو خود ظالم ہوجائے،بادشاہ کہے میں آپ کا خادم ہوں اس کا کمال ہے لیکن اور کوئی کہے تو سزا پائے گا۔خیال رہے کہ حکم اور مشورے کا فرق قرآن کریم میں موجود ہے فرماتا ہے: "اَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ "(نماز قائم کرو)یہ حکم ہے جس کا تارک گنہگار ہے اور فرماتا ہے:"اِذَا تَدَایَنۡتُمۡ بِدَیۡنٍ اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی فَاکْتُبُوۡہ"جب کسی کو وقت مقرر تک قرض دو تو لکھ لو،یہ قرآن کا مشورہ ہے جس پرعمل نہ کرنا گناہ نہیں،دنیاوی سلاطین بھی اپنی رعایا کوکبھی حکم دیتے ہیں کبھی مشورہ۔احکام قرآنیہ میں رب تعالٰی کی سلطنت اورقدرت کاظہور ہے اور اس کےمشوروں میں رب کی رحمانیت کی جلوہ گری۔
|
148 -[9] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُ مَا بَعَثَنِي اللَّهُ بِهِ كَمَثَلِ رَجُلٍ أَتَى قَوْمًا فَقَالَ يَا قَوْمِ إِنِّي رَأَيْتُ الْجَيْشَ بِعَيْنِي وَإِنِّي أَنَا النَّذِيرُ الْعُرْيَانُ فَالنَّجَاءَ النَّجَاءَ فَأَطَاعَهُ طَائِفَةٌ مِنْ قَوْمِهِ فَأَدْلَجُوا فَانْطَلَقُوا عَلَى مَهْلِهِمْ فَنَجَوْا وَكَذَّبَتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ فَأَصْبَحُوا مَكَانَهُمْ فَصَبَّحَهُمُ الْجَيْشُ فَأَهْلَكَهُمْ وَاجْتَاحَهُمْ فَذَلِكَ مَثَلُ مَنْ أَطَاعَنِي فَاتَّبَعَ مَا جِئْتُ بِهِ وَمثل من عَصَانِي وَكذب بِمَا جِئْتُ بِهِ مِنَ الْحَقِّ» |
روایت ہے حضرت ابوموسیٰ سے فرماتے ہیں فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میری اورجو کچھ مجھے اﷲ نے دے کر بھیجا اس کی کہاوت اس شخص کی سی ہے جس نے کسی قوم کے پاس آکر کہا کہ میں نے اپنی آنکھوں سے ایک لشکر دیکھا ہے ۱؎ میں کھلا ڈرانے والاہوں۲؎ بچو بچو کہ اس کی قوم سے ایک ٹولہ نے اس کی بات مان لی اور اندھیرے منہ اٹھے اور بروقت نکل گئے تو بچ گئے۳؎ اور ان کے ایک ٹولہ نے جھٹلا دیا وہ اسی جگہ رہے پھر سویرے ہی لشکر ان پرٹوٹ پڑا انہیں ہلاک کرکے تہس نہس کر دیا۴؎ یہ ہی اس کی مثال ہے جس نے میری اطاعت کی تو میرے لائے ہوئے کی اتباع کی اور اس کی جس نے میری نافرمانی کی اورمیرے لائے ہوئے حق کو جھٹلادیا۔(مسلم وبخاری) |
۱؎ یہ تشبیہ مرکب ہے پورے واقعہ کو پورے واقعہ کے ساتھ مشابہت دی گئی ہے۔اس شخص سے مراد وہ امین اورسچا آدمی ہے جس کی بات پر لوگوں کو اعتماد ہو۔حضور کی سچائی ظہورنبوت سے پہلے ہی عام خاص میں مشہور ہوچکی تھی۔اس تشبیہ سے معلوم ہوتا ہے کہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع