30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ رھط دس سے کم کی جماعت کو کہا جاتا ہے،یہاں غالبًا بمعنی فرد ہے،یعنی۳ صحابہ حضرت علی،عثمان ابن مظعون اور عبداﷲ ابن رواحہ یا مقداد ابن اسود حضور کی رات کی عبادتوں کو معلوم کرنے کے لیئے کسی بیوی پاک کے پاس حاضر ہوئے ورنہ دن کی عبادات تو وہ جانتے ہی تھے۔(مرقاۃ)
۲؎ کیونکہ ان کا خیال تھا کہ حضور ساری رات جاگتے ہی ہوں گے اور سوا عبادت کے کوئی کام نہ کرتے ہوں گے مگر بتایا یہ گیا کہ شب میں سوتے بھی ہیں،جاگتے بھی ہیں،اور جاگتے میں عبادت بھی کرتے ہیں،دنیاوی کام بھی تب انہیں یہ خیال گزرا۔
۳؎ سبحان اﷲ! کیا ادب ہے کہ اس کمئ عبادت کو حضور کی عظمت شان کی دلیل بنایا اور یہ توجیہ کی کہ عبادت کی زیادتی گناہ معاف کرانے کے لیئے چاہیئے،حضور بے گناہ ہیں اگر بالکل عبادت نہ کریں تو بھی درست ہے۔خیال رہے کہ کہ یہ کلام قرآن کریم سے ماخوذ ہے:"لِّیَغْفِرَ لَکَ اللہُ مَا تَقَدَّمَ مِنۡ ذَنۡۢبِکَ وَ مَا تَاَخَّرَ"اس آیت کی بہت توجیہیں کی گئی ہیں،مگر قوی بات یہ ہے کہ ذَنْب سے مراد لغزش ہے نہ کہ گناہ۔عشق کہتا ہے کہ"ذَنۡۢبِکَ"سے مراد امت کے گناہ ہیں،جن کا بخشواناحضور علیہ الصلوۃ والسلام کے ذمہ ہے،جیسے پیروی کرنے والا وکیل کہتا ہے کہ آج میرا مقدمہ ہے۔
۴؎ یعنی ہر رات تمام شب بیدار رہ کر۔
۵؎ سوا ممانعت کے پانچ دنوں کے شوال کی پہلی اور بقر عید کی دسویں،گیارھویں،بارھویں،تیرھویں تاریخ کہ ان میں روزے رکھنا حرام ہیں۔
۶؎ کہ نکاح ہی رب سے غفلت،دنیا میں پھنسنے کا ذریعہ ہے،اسی وجہ سے طلب معاش کی فکر ہوتی ہے۔
۷؎ سبحان اﷲ! کیا نفیس تعلیم ہے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ہم کو عیسائیوں اور سادھوؤں کی طرح تارك الدنیا نہ بنایا بلکہ دنیا کو دین بنایا کیونکہ حضور کا ہر کام سنت۔لہذا افطار بھی سنت،رات کو تہجد پڑھنا اور سونا بھی سنت،نکاح کرنا،اولاد حاصل کرنا،دنیوی کاروبار کرنا سبھی سنت اور عبادت ہے جس پر ثواب ملتا ہے۔ان شاءاﷲ !مؤمن کو ان سب کاموں پر ثواب ہے۔اس جگہ مرقاۃ نے خوف صحابہ کا بہت بڑا قصہ بیان کیا ہے۔
۸؎ یعنی جو کسی سنت کو برا جانے وہ اسلام سے خارج ہے یا جو بلا عذر ترک سنت کا عادی ہوجائے وہ میرے پرہیزگاروں کی جماعت سے خارج ہے۔لہذا حدیث پر کوئی اعتراض نہیں۔خیال رہے کہ نکاح اکثر سنت ہے کبھی فرض اور کبھی حرام بھی ہوجاتا ہے۔چنانچہ نامرد کو نکاح منع ہے حضور علیہ ا لصلوۃ والسلام کی ہرسنت پر عمل کی کوشش کرنی چاہیئے۔
|
146 -[7] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا فَرَخَّصَ فِيهِ فَتَنَزَّهَ عَنْهُ قَوْمٌ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَ فَحَمِدَ اللَّهَ ثُمَّ قَالَ: «مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَتَنَزَّهُونَ عَنِ الشَّيْءِ أَصْنَعُهُ فَوَاللَّهِ إِنِّي لأعلمهم بِاللَّه وأشدهم لَهُ خشيَة» |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ کوئی کام کیا پھر اس کی اجازت ہوگئی ۱؎ مگر ایک گروہ نے اس سے پرہیز کیا۲؎ یہ خبر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے خطبہ پڑھا اور اﷲ کی حمدکی پھر فرمایا کہ ان لوگوں کا کیا حال ہے کہ ان چیزوں سے بچتے ہیں جو میں کرتا ہوں اﷲ کی قسم میں ان سب سے اﷲ کو زیادہ جانتا ہوں اور سب سے زیادہ اﷲ سے خوف والا ہوں۳؎ (مسلم،بخاری) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع