30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۴؎ ہیبت سےگھبرا کر رو پڑے اور بے اختیاری چیخ نکل گئی،اس میں ریاء کی گنجائش نہ تھی۔خیال رہے کہ خوفِ الٰہی میں صرف آنسوؤں سے رونا بہت بہترہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"تَرٰۤی اَعْیُنَہُمْ تَفِیۡضُ مِنَ الدَّمْعِ "لیکن اگر بے اختیاری میں لوگوں کے سامنے چیخ نکل جائے تو بھی عبادت۔
۵؎ اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ عورت اجنبی مرد سے ضرورتًا پردے میں رہ کر کلام کرسکتی ہے،بشرطیکہ سادی گفتگو کرے آواز میں شیرینی اور لوچ نہ ہو،رب فرماتاہے:"وَ اِذَا سَاَلْتُمُوۡہُنَّ مَتٰعًا فَسْـَٔلُوۡہُنَّ مِنۡ وَّرَآءِ حِجَابٍ"اورفرماتا ہے:"فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ"۔دوسرے یہ کہ دعائیں دےکر کوئی بات پوچھنا بہتر ہے تاکہ مخاطب کو خوشی ہو،مؤمن کو خوش کرنا بھی عبادت ہے۔تیسرے یہ کہ دینی باتوں میں ایک کی خبربھی قبول ہے گواہیوں کی ضرورت نہیں۔
۶؎ یعنی فتنۂ قبرفتنۂ دجال کی طرح بڑا ہی خطرناک ہے جیسے دجال کی شرسے وہی بچے گا جسے اﷲ بچائے،ایسے ہی حساب قبر میں وہی کامیاب ہوگاجسے اﷲ کامیاب کرے،ان دونوں جگہ ثابت قدمی اپنی بہادری سے نہیں،دجال دعوئے خدائی کرے گا اور بہت لوگ اس کا اقرار کرلیں گے،قبر میں شیطان سامنے آجاتا ہے اور کہتا ہے کہ میں تیرا رب ہوں،مجھے رب مان لے کامیاب ہوجائے گا،اس کی ذریت میت کے مرے ہوئے عزیزوں کی شکل میں آکر کہتی ہے کہ بیٹے اسے خدا مان لے،دیکھو اعلٰی حضرت قُدِّسَ سِرُّہ کی کتاب ایذان الاجر اور ہماری کتاب "جاء الحق"اسی لیئے قبر پر اذان کہہ دیتے ہیں تاکہ شیاطین دفع ہوں۔
|
138 -[14] وَعَنْ جَابِرٌ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا أُدْخِلَ الْمَيِّتُ الْقَبْرَ مَثَلَتْ لَهُ الشَّمْسُ عِنْدَ غُرُوبِهَا فَيَجْلِسُ يَمْسَحُ عَيْنَيْهِ وَيَقُولُ: دَعونِي أُصَلِّي ". رَوَاهُ ابْن مَاجَه |
روایت ہے حضرت جابررضی اللہ عنہ سے وہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی فرماتے ہیں کہ جب میت قبر میں داخل کی جاتی ہے تو اسے سورج ڈوبتا ہوا معلوم ہوتاہے ۱؎ تو وہ آنکھیں ملتا ہوا بیٹھتا ہے اور کہتا ہے مجھے چھوڑو میں نماز پڑھ لوں ۲؎ (ابن ماجہ) |
۱؎ یہ احساس منکر نکیر کے جگانے پر ہوتا ہے۔خواہ دفن کسی وقت ہو چونکہ نماز عصر کی زیادہ تاکید ہے اور آفتاب کا ڈوبنا اس کا وقت جاتے رہنے کی دلیل ہے،اسی لئے یہ وقت دکھایا جاتا ہے۔
۲؎ یعنی اے فرشتو سوالات بعد میں کرنا عصر کا وقت جارہا ہے مجھے نماز پڑھ لینے دو۔یہ وہی کہے گا جو دنیا میں نماز عصر کا پابند تھا،اﷲ نصیب کرے اسی لیئے رب فرماتا ہے:"حٰفِظُوۡا عَلَی الصَّلَوٰتِ وَالصَّلٰوۃِ الْوُسْطٰی"تمام نمازوں کی خصوصًا عصر کی بہت نگہبانی کرو۔صوفیاءفرماتے ہیں جیسے جیوگے ویسے ہی مرو گے اور جیسےمرو گے ویسے ہی اٹھو گے۔خیال رہے کہ مؤمن کو اس وقت ایسا معلوم ہوگا جیسے میں سوکر اٹھا ہوں نزع وغیرہ سب بھول جائے گا ممکن ہے کہ اس عرض پر سوال جواب ہی نہ ہوں اور ہوں تو نہایت آسان کیونکہ اس کی یہ گفتگو تمام سوالوں کا جواب ہوچکی۔
|
139 -[15] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ الْمَيِّتَ يَصِيرُ إِلَى الْقَبْرِ فَيَجْلِسُ الرَّجُلُ الصَّالح فِي قَبره غير فزع وَلَا مشعوف ثمَّ يُقَال لَهُ فِيمَ كُنْتَ فَيَقُولُ كُنْتُ فِي الْإِسْلَامِ فَيُقَالُ لَهُ مَا هَذَا الرَّجُلُ فَيَقُولُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَنَا بِالْبَيِّنَاتِ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ فَصَدَّقْنَاهُ فَيُقَالُ لَهُ هَلْ رَأَيْتَ اللَّهَ فَيَقُولُ مَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَرَى اللَّهَ فَيُفْرَجُ لَهُ فُرْجَةً قِبَلَ النَّارِ فَيَنْظُرُ إِلَيْهَا يُحَطِّمُ بَعْضُهَا بَعْضًا فَيُقَالُ لَهُ انْظُرْ إِلَى مَا وَقَاكَ اللَّهُ ثمَّ يفرج لَهُ قِبَلَ الْجَنَّةِ فَيَنْظُرُ إِلَى زَهْرَتِهَا وَمَا فِيهَا فَيُقَال لَهُ هَذَا مَقْعَدك وَيُقَال لَهُ عَلَى الْيَقِينِ كُنْتَ وَعَلَيْهِ مِتَّ وَعَلَيْهِ تُبْعَثُ إِن شَاءَ الله وَيجْلس الرجل السوء فِي قَبره فَزعًا مشعوفا فَيُقَال لَهُ فِيمَ كُنْتَ فَيَقُولُ لَا أَدْرِي فَيُقَالُ لَهُ مَا هَذَا الرَّجُلُ فَيَقُولُ سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ قولا فقلته فيفرج لَهُ قِبَلَ الْجَنَّةِ فَيَنْظُرُ إِلَى زَهْرَتِهَا وَمَا فِيهَا فَيُقَالُ لَهُ انْظُرْ إِلَى مَا صَرَفَ اللَّهُ عَنْك ثمَّ يفرج لَهُ فُرْجَةً قِبَلَ النَّارِ فَيَنْظُرُ إِلَيْهَا يُحَطِّمُ بَعْضُهَا بَعْضًا فَيُقَالُ لَهُ هَذَا مَقْعَدُكَ عَلَى الشَّك كنت وَعَلِيهِ مت وَعَلِيهِ تبْعَث إِن شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی فرماتے ہیں کہ مردہ قبر میں پہنچتا ہے پھر اپنی قبر میں بٹھایا جاتا ہے نہ گھبرایا ہوا نہ پریشان ۱؎ پھر اس سے کہا جاتا ہے تو کس دین میں تھا ؟وہ کہتا ہے اسلام میں تھا۲؎ پھر کہا جاتا ہے یہ کون صاحب ہیں؟وہ کہتاہے محمدرسول اﷲ ہیں جو ہمارے پاس رب کی طرف سے نشانیاں لائے ہم نے ان کی تصدیق کی۳؎ تب کہا جاتا ہے کیا تو نے اﷲ کو دیکھا ہے ؟۴؎ وہ کہتا ہے کوئی خدا کو نہیں دیکھ سکتا۵؎ پھر دوزخ کی طرف کھڑکی کھولی جاتی ہے وہ ادھر دیکھتا ہے کہ بعض بعض کو کچل رہی ہے ۶؎ پھر اس سے کہاجاتا ہے کہ ادھر دیکھو جس سے تجھے اﷲ نے بچالیا ۷؎ پھر جنت کی طرف کھڑکی کھولی جاتی ہے تو وہ اس کی ترو تازگی کی طرف اور جو اس میں ہے دیکھتا ہے۸؎ پھر اس سے کہا جاتا ہے کہ یہ تیرا ٹھکانہ ہے تو یقین پر تھا اسی پر مرا اور ان شاءاﷲ اسی پر اٹھے گا ۹؎ برا آدمی اپنی قبر میں بٹھالا جاتا ہے حیران پریشان۱۰؎ اس سے کہا جاتا ہے تو کس دین میں تھا؟وہ کہتا ہے مجھے نہیں خبر پھرکہا جاتا ہے یہ صاحب کون ہیں؟وہ کہتا ہے میں نے لوگوں کو کچھ کہتے سنا وہ میں نے بھی کہا تھا ۱۱؎ تب اس کے سامنے جنت کی طرف کھڑکی کھولی جاتی ہے وہ وہاں کی ترو تازگی اور جو کچھ اس میں ہے دیکھتا ہے پھر اس سے کہا جاتا ہے وہ دیکھ جو اﷲ نے تجھ سے پھیر دیا پھر دوزخ کی طرف کھڑکی کھولی جاتی ہے دیکھتا ہے کہ بعض بعض کو کچل رہا ہے پھر کہا جاتا ہے یہ ہے تیرا ٹھکانہ۲؎۱ تو شک پر تھا اس پر مرا اسی پر ان شاءاﷲ اٹھے گا۳؎۱(ابن ماجہ) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع