30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
132 -[8] وَعَن عُثْمَان رَضِي الله عَنهُ أَنه إِذَا وَقَفَ عَلَى قَبْرٍ بَكَى حَتَّى يَبُلَّ لِحْيَتَهُ فَقِيلَ لَهُ تُذْكَرُ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ فَلَا تَبْكِي وَتَبْكِي مِنْ هَذَا فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ الْقَبْرَ أَوَّلُ مَنْزِلٍ مِنْ مَنَازِلِ الْآخِرَةِ فَإِنْ نَجَا مِنْهُ فَمَا بَعْدَهُ أَيْسَرُ مِنْهُ وَإِنْ لَمْ يَنْجُ مِنْهُ فَمَا بَعْدَهُ أَشَدُّ مِنْهُ قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا رَأَيْت منْظرًا قطّ إِلَّا الْقَبْر أَفْظَعُ مِنْهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَ ابْنُ مَاجَهْ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ هَذَا حَدِيث غَرِيب |
روایت ہے حضرت عثمان سے کہ آپ جب کسی قبر پر کھڑے ہوتے تو اتنا روتے کہ آپ کی داڑھی تر ہوجاتی ۱؎ عرض کیا گیا کہ آپ جنت دوزخ کا ذکر کرتے ہیں تو نہیں روتے اس سے روتے ہیں تو فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ قبر آخرت کی منزلوں سے پہلی منزل ہے اگر اس سے نجات پاگیا تو بعد والی منزلیں اس سے آسان تر ہیں۲؎ اور اگر اس سے ہی نجات نہ پائی تو بعد والی منزلیں اس سے سخت ہیں۳؎ فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میں نے کوئی منظر نہ دیکھا مگر قبر اس سے زیادہ وحشت ناک ہے۴؎ اسے ترمذی و ابن ماجہ نے روایت کیا اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔ |
۱؎ مردے کی یاد میں نہیں بلکہ قبر کی ہیبت میں اور عذاب قبر کے خوف سے اگرچہ آپ ہر قسم کے عذاب سے محفوظ تھے،زبان مصطفوی سے جنت کی بشارت پاچکے تھے،لیکن ہیبت دل میں موجود تھی جو ایمان کا تقاضا ہے جب محفوظین کا یہ خوف ہے تو ہم گنہگاروں کو کتنا خوف چاہیئے اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ انہیں حضور کی بشارت پر یقین نہ تھا یا رب تعالٰی کے جھوٹ کا احتمال تھا۔رب نے فرمایا تھا: "مَا کَانَ اللہُ لِیُعَذِّبَہُمْ وَاَنۡتَ فِیۡہِمْ "اس کے باوجود آندھی دیکھ کرحضور کے چہرۂ انور پر آثار خوف نمودار ہوتے تھے۔
۲؎ یعنی مرنے کے بعد قبر،حشر،میزان،پل صراط وغیرہ بہت سی منزلوں سے ہمیں گزرنا ہے لیکن تمام منزلوں کا پتہ قبرسے چل جاتا ہے۔یہاں بچ گیا تو ان شاءاﷲ آگے بھی محفوظ رہے گا بلکہ گنہگار مؤمن کے لیئے قبر کا عارضی عذاب اس کے گناہوں کا کفارہ ہوگا جیسے کہ مرقاۃ میں ہے۔سبحان اﷲ!مؤمن کے لیئے وہ سختی بھی رحمت۔
۳؎ یعنی قبر کا دائمی عذاب کفار کے لیئے ہے اس کے لیئے حشر و پل صراط قبر سے زیادہ خطرناک ہے۔
۴؎ یعنی دنیا کی بڑی سے بڑی مصیبت قبر کے معمولی عذاب سے بھی آسان ہے،عیش میں رہنے والے کافر کو قبر کی ایک گرم ہوا دےکر پوچھیں گے کہ کیا تو نے کبھی عیش دیکھا تھا وہ کہے گا میں جانتا بھی نہیں کہ عیش کیا چیز ہے۔دنیا میں مصیبت زدہ اپنے مال اولاد ساتھیوں کو دیکھ کرتسلی پالیتا ہے،قبر میں کسے دیکھے گا؟یا مٹی کو یا عذاب کے فرشتوں کو۔
|
133 -[9] وَعَن عُثْمَان رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا فَرَغَ مِنْ دَفْنِ الْمَيِّتِ وَقَفَ عَلَيْهِ فَقَالَ: «اسْتَغْفِرُوا لِأَخِيكُمْ ثُمَّ سَلُوا لَهُ بِالتَّثْبِيتِ فَإِنَّهُ الْآنَ يُسْأَلُ».رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم میت کے دفن سے فارغ ہوتے تو وہاں کچھ ٹھہرتے اور فرماتے اپنے بھائی کے لیے دعائے مغفرت کرو پھر اس کے لیے ثابت قدم رہنے کی دعا کرو ۱؎ کہ اس سے اب سوالات ہورہے ہیں۲؎(ابوداؤد) |
۱؎ ہمارے ہاں رواج ہے کہ بعد دفن فورًا واپس نہیں ہوتے بلکہ قبر کے آس پاس حلقہ بنا کر کھڑے ہوتے ہیں کچھ پڑھ کر بخشتے ہیں اور میت کے لیے دعا کرتے ہیں۔ان سب کا ماخذ یہ حدیث ہے،یہ تمام فعل سنت ہیں،بعض جگہ بعد دفن قبر پر اذان بھی کہتے ہیں،یہ بھی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع