30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہونا،کسی کامثبت وجوب ہونامعلوم فرماتے ہیں۔مقلدین حضرات ان کاوشوں سے آزادہیں ان کےلیئے قول امام دلیل ہے اورحدیث امام کی دلیل،پولیس کے لیے حاکم کا فیصلہ دلیل ہے اورحاکم کےلیے تعزیرات ہند کے دفعات دلیل ہیں۔اس لیے صاحب مصابیح نے صرف متن حدیث نقل فرمایااسنادیں چھوڑدی تھیں۔(ازمرقات)خیال رہےکہ عبارتِ حدیث کومتن کہتے ہیں،راویوں کے سلسلہ کو اسناد اور اصل کتاب کا ذکر جہاں سے حدیث لی گئی ہو تخریج کہلاتاہے۔
۳؎ اس طرح کہ مصابیح کی احادیث پرشبہ کرنےلگے،کہنے لگے کہ جب نہ اسنادوں کا ذکرہے نہ تخریج معلوم،تو کیا معلوم اس کی احادیث صحیح ہیں یا نہیں۔ناقدین وہ حضرات کہلاتے ہیں جو صحیح اور ضعیف حسن وغیرہ میں امتیاز کریں،راویوں کے حالات سے خبر رکھیں،ان کی توثیق تعدیل وجرح کرسکیں۔
۴؎ یعنی امام محی السنۃ اس پایہ کے محدث ہیں کہ ان کاکسی حدیث کو بغیرجرح نقل فرمادینا اس حدیث کی قوت کی دلیل ہے،ان کی نقل گویا اسناد ہے۔اس عبارت سے دو مسئلہ معلوم ہوئے:ایک یہ کہ مقلد کو امام کی حدیث پر اعتمادکرلینا درست ہے،اسے حدیث کی چھان بین کرنے کی ضرورت نہیں،مریض طبیب کے نسخے پر اعتمادکرے،اسےکتب طب کی تحقیقات ضروری نہیں۔دوسری یہ کہ ضعیف احادیث پر فقہاء کا عمل فرمالینا اس حدیث کو قوی کردیتا ہے۔
۵؎ لہذا تخریج بیان کردینے سے لوگوں کوطعن کا موقع نہ ملے گا اور صاحب مصابیح پر اعتراض نہ کرسکیں گے۔سبحان اﷲ!کیسا ادب ہےکہ فرمایا نشانیوں والا راستہ یعنی مشکوٰۃ شریف بے نشان والے راہ یعنی مصابیح کی طرح نہیں۔مصابیح بہت اعلٰی ہے یہ ہے انکسارِنفس۔
واستوفقت مِنْهُ،فأعلمت مَا أغفله،فأودعت كل حَدِيث مِنْهُ فِي مقره كَمَا رَوَاهُ الْأَئِمَّة المنقنون،وَالثِّقَاتُ الرَّاسِخُونَ؛مِثْلُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيِّ،وَأَبِي الْحُسَيْنِ مُسْلِمِ بْنِ الْحَجَّاجِ الْقُشَيْرَيِّ،وَأَبِي عَبْدِ اللَّهِ
ترجمہ:
مانگی ۱؎ اور ان کے بے نشانوں کو نشاندار بنادیا۲؎ کہ اس کی ہر حدیث اپنے ٹھکانے میں ویسے ہی رکھی۳؎ جیسے ماہر عادل حافظ اماموں نے روایت فرمائی جیسےابوعبداﷲمحمدابن اسمعیل بخاری۴؎ اورابوالحسین مسلم ابن حجاج قشیری۵؎ اور ابوعبداﷲ
تشریح:
۱؎ اس طرح کہ مشکوٰۃ شریف لکھنے سے پہلے باقاعدہ استخارہ کیا،جیسا کہ طبرانی نے حضرت انس سے روایت کی:"مَا خَابَ مَنِ اسْتَخَارَ وَلَانَدِمَ مَنِ اسْتَشَارَ"استخارہ کرلینے والا نقصان نہیں اٹھاتا،مشورہ سے کام کرنے والا شرمندہ نہیں ہوتا،اوردرمیانِ تصنیف میں اﷲ سے توفیقِ اتمام مانگتا رہا۔فقیر احمدیاربھی بارگاہِ الٰہی میں دعا کرتا ہے کہ مولٰی بطفیل اپنے حبیب صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اس بڑے کام کو بخیر و خوبی انجام دینے کی توفیق دے،اسے قبول فرما کر صدقہ جاریہ اور میرے گناہوں کا کفارہ بنا۔آمین یارب العالمین !
۲؎ اس طرح کہ ہر حدیث کے اول صحابی،راوی کا نام شریف اور آخر میں کتاب حدیث کا نام صراحۃً بتادیا۔
۳؎ یعنی جوحدیث مصابیح میں جس جگہ تھی میں نے بھی مشکوٰۃ میں وہاں ہی بیان کی،بلاوجہ آگے پیچھے نہ کی اور ہر حدیث میں محدثین کی روایات کی پیروی کی،جس طرح ان اماموں سے منقول تھی ویسے ہی میں نے نقل کی۔
۴؎ آپ کا نام شریف محمد،والد کا نام اسمعیل ہے،بخاریٰ جو ماوراءالہندمیں بہت بڑا شہر ہے وہاں آپ کی پیدائش ہوئی،اس لیئے آپ کو بخاری کہا جاتا ہے۔امت محمدیہ کے بڑے عالم،محدث،فقیہ،مجتہد تھے،آپ کے والد بڑے عالم اور حماد ابن زید و امام مالک کے شاگرد
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع