30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
131 -[7] عَن الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «وَيَأْتِيهِ مَلَكَانِ فَيُجْلِسَانِهِ فَيَقُولَانِ لَهُ مَنْ رَبُّكَ فَيَقُولُ رَبِّيَ اللَّهُ فَيَقُولَانِ لَهُ مَا دِينُكَ فَيَقُولُ ديني الْإِسْلَام فَيَقُولَانِ لَهُ مَا هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي بُعِثَ فِيكُمْ قَالَ فَيَقُول هُوَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَقُولَانِ وَمَا يُدْرِيكَ فَيَقُولُ قَرَأْتُ كِتَابَ اللَّهِ فَآمَنْتُ بِهِ وَصَدَّقْتُ زَاد فِي حَدِيث جرير فَذَلِك قَول الله عز وَجل (يثبت الله الَّذين آمنُوا بالْقَوْل الثَّابِت) الْآيَة ثمَّ اتفقَا قَالَ فينادي مُنَاد من السَّمَاء أَن قد صدق عَبدِي فأفرشوه مِنَ الْجَنَّةِ وَافْتَحُوا لَهُ بَابًا إِلَى الْجَنَّةِ وألبسوه من الْجنَّة قَالَ فيأتيه من روحها وطيبها قَالَ وَيفتح لَهُ فِيهَا مد بَصَره قَالَ وَإِن الْكَافِر فَذكر مَوته قَالَ وتعاد رُوحُهُ فِي جَسَدِهِ وَيَأْتِيهِ مَلَكَانِ فَيُجْلِسَانِهِ فَيَقُولَانِ لَهُ مَنْ رَبُّكَ فَيَقُولُ هَاهْ هَاهْ لَا أَدْرِي فَيَقُولَانِ لَهُ مَا دِينُكَ فَيَقُولُ هَاهْ هَاهْ لَا أَدْرِي فَيَقُولَانِ مَا هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي بُعِثَ فِيكُمْ فَيَقُولُ هَاهْ هَاهْ لَا أَدْرِي فَيُنَادِي مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ أَنَّ كَذَبَ فَأَفْرِشُوهُ مِنَ النَّارِ وَأَلْبِسُوهُ مِنَ النَّارِ وَافْتَحُوا لَهُ بَابًا إِلَى النَّارِ قَالَ فَيَأْتِيهِ مِنْ حَرِّهَا وَسَمُومِهَا قَالَ وَيُضَيَّقُ عَلَيْهِ قَبْرُهُ حَتَّى تَخْتَلِفَ فِيهِ أَضْلَاعُهُ ثمَّ يقيض لَهُ أعمى أبكم مَعَهُ مِرْزَبَّةٌ مِنْ حَدِيدٍ لَوْ ضُرِبَ بِهَا جبل لصار تُرَابا قَالَ فَيَضْرِبُهُ بِهَا ضَرْبَةً يَسْمَعُهَا مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمغْرب إِلَّا الثقلَيْن فَيصير تُرَابا قَالَ ثمَّ تُعَاد فِيهِ الرّوح» . رَوَاهُ أَحْمد وَأَبُو دَاوُد |
روایت ہے براءابن عازب سے وہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی فرماتے ہیں کہ مردے کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اسے بٹھاتے ہیں ۱؎ پھر اس سے کہتے ہیں تیرا رب کون؟وہ کہتا ہے میرا رب اﷲہے پھر کہتے ہیں تیرا دین کیا وہ کہتا ہے میرا دین اسلام ہے۲؎ پھر وہ کہتے ہیں یہ کون صاحب ہیں جو تم میں بھیجے گئے تو وہ کہتا ہے وہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں فرشتے کہتے ہیں۔تجھے یہ کیسے معلوم ہوا ۳؎ وہ کہتا ہے میں نے اﷲ کی کتاب پڑھی اس پر ایمان لایا،اسے سچا جانا۴؎ یہ ہی اس آیت کی تفسیر ہے "یُثَبِّتُ اللہُ "الایہ۔فرمایاحضورصلی اللہ علیہ وسلم نے پھر آسمان سے پکارنے والا پکارتا ہے کہ میرا بندہ سچا ہے۵؎ لہذا اس کے لیے جنت کا بستر بچھاؤ اسے جنت کا لباس پہناؤاور اس کے لیے جنت کی طرف دروازہ کھول دو پس کھول دیا جاتا ہے فرماتے ہیں کہ اس تک جنت کی ہوا اور وہاں کی خوشبو آتی ہے ۶؎ اور تاحد نظر قبر میں فراخی کردی جاتی ہے ۷؎ رہا کافرحضور نے اس کی موت کا ذکر فرمایا ۸؎ فرمایا کہ اس کی روح اس کے جسم میں لوٹائی جاتی ہے اور اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں پھر وہ اسے بٹھاتے ہیں اور اس سے کہتے ہیں تیرا رب کون ہے؟وہ کہتا ہے ہائے ہائے میں نہیں جانتا ۹؎ پھر اس سےپوچھتے ہیں تیرا دین کیا؟وہ کہتا ہے ہائے ہائے میں نہیں جانتا۱۰؎ پھر وہ کہتے ہیں کہ یہ کون صاحب ہیں جو تم میں بھیجے گئے ۱۱؎ وہ کہتا ہے ہائے ہائے میں نہیں جانتا۱۲؎تب پکارنے والا آسمان سے پکارتا ہے کہ یہ جھوٹا ہے ۱۳؎ لہذا اس کے لیے آگ کا بچھونا بچھاؤآگ کا لباس پہناؤ اور اس کے لیے آگ کی طرف دروازہ کھول دو فرمایا پھر اس تک وہاں کی گرمی اور لو آتی ہے۱۴؎ فرمایا اس پر اس کی قبر تنگ ہوجاتی ہے۔حتی کہ وہاں اس کی پسلیاں ادھر کی ادھر ہوجاتی ہیں۱۵؎ پھر اس پر اندھے بہرے فرشتے مسلط ہوتے ہیں۱۶؎ جن کے پاس لوہے کے ہتھوڑے ہوتے ہیں اگر ان سے پہاڑ کو مارا جائے تو وہ بھی مٹی ہوجائے اس سے اسے مارتے ہیں ایسی مار جس سے جن و انس کے سوا پورب پچھم کی مخلوق سنتی ہے ۱۷؎ جس سے وہ مٹی ہوجاتا ہے پھر اس میں روح لوٹائی جاتی ہے ۱۸؎ (احمد، ابوداؤد) |
۱؎ خیال رہے کہ لیٹے ہوئے کا بیٹھنا جلوس ہے اور کھڑے ہوئے بیٹھنا قعود کبھی مجازًا ایک کو دوسرے کے معنے میں استعمال کرلیتے ہیں یہاں حقیقی معنے میں ہے۔یہاں بٹھالنا بھی غیرحسی ہے،مردے خانہ میں کافر کی لاشیں ہمارے سامنے پڑی رہتی ہیں مگر فرشتے اسے بٹھال کر امتحان لے کر عذاب میں گرفتار کرجاتے ہیں اور ہمیں پتہ بھی نہیں لگتا ہمارے سامنے سونے والا بدخوابی میں تکلیف پارہا ہے گھبرا رہا ہے مگر ہمیں خبر نہیں۔
۲؎ یہ سوال جواب سب عربی زبان میں ہوتے ہیں بعد موت سب کی زبان عربی ہوجاتی ہے۔(مرقاۃ)لیکن مردہ اپنی زندگی کی زبان بھی سمجھتا ہے۔ہمارے حضور زندگی شریف میں تمام زبانیں جانتے ہیں حتی کہ لکڑی و پتھر کی زبانیں،جانور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے فریادیں کرتے تھے اور اب بھی ہر زبان سے واقف ہیں،حضور کے روضہ پر ہر فریادی اپنی زبان میں عرض و معروض کرتا ہے وہاں ترجمہ کی ضرورت نہیں پڑتی۔
۳؎ یہ سوال خوشی کا ہے یعنی اے بندے!اس نازک موقعہ پر تو نے انہیں کیسے پہچان لیا اور تو امتحان میں کامیاب کیسے ہوگیا؟
۴؎ یعنی بلاواسطہ میں نے قرآن شریف خو د سیکھا یا علماء کے ذریعہ اس سے عقائد اور اعمال حاصل کیئے لہذا یہ جواب علماء کے لیئے بھی درست ہے اور جاہلوں کے لیے بھی،اس جواب سے معلوم ہوا کہ قبر میں حضور کی پہچان ایمانی رشتہ سے ہوگی خواہ حضور کو دیکھا ہو یا نہ دیکھا ہو۔خیال رہے کہ مؤمن ایک لحاظ سے حضور سے قرآن کو جانتا ہے اور دوسرے لحاظ سے قرآن سے حضور کو پہچانتا ہے۔
۵؎ عبدی سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کلام رب کا ہے۔جسے بندہ آج پہلی بار اپنے کان سے سنتا ہے اس کلام کو سن کر جو خوشی بندے کو ہوتی ہے وہ بیان نہیں ہوسکتی،سچا ہے کہ یہ معنی ہیں کہ دنیا میں بھی سچا رہا اور آج بھی سچ بولا۔
۶؎ پہلے عرض کیا جاچکا ہے کہ قبر میں جنت کی نعمتیں پہنچتی ہیں مگر بندہ وہاں نہیں پہنچا،بندے کاجنت میں پہنچنا حشر کے بعد ہوگا۔
۷؎ یہ حدیث ستر۷۰گز فراخی کی تفسیر ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع