30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ ملنے یا کسی اور کام کے لیئے نہ کہ محبت وغیرہ کی بنا پر مسلمہ عورت کا بدکار عورتوں سے پردہ لازم ہے نہ کہ کافرہ عورتوں سے لہذا قولِ فقہاء اس حدیث کے خلاف نہیں۔
۲؎ کیونکہ توریت شریف میں پڑھا تھا یا اپنے پادریوں سے سُنا تھا۔معلوم ہوا کہ یہود و نصاری بھی عذاب قبر کے قائل ہیں جو مسلمان اسلام کا دعویٰ کرکے اس کا انکار کرے وہ ان سے بھی بدترہے تمام آسمانی کتب میں اس کا ذکر تھا معتزلہ روافض اور اس زمانہ کے بعض نئی روشنی کے دلدادہ اس کے انکاری ہیں۔
۳؎ کیونکہ اب تک آپ کو اس کی خبر نہ تھی اور یہود کی بات پر اعتبار نہ کیا۔اس سےمعلوم ہوا کہ کفار کی بتائی بات پر اعتبار نہ کیا جائے جب تک کہ اس کی تصدیق علماء اسلام سے نہ ہوجائے۔
۴؎ کہ تمام آسمانی دین اس کے قائل ہیں۔خیال رہے کہ کفار کا عذابِ قبرکسی صورت سے دفع نہیں ہوسکتا۔مگر گنہگار مؤمن وں کا یہ عذاب سبزہ کی تسبیح،بزرگوں کی دعا،ایصال ثواب وغیرہ سے ختم یا کم ہوجاتا ہے۔جیسا کہ احادیث سے ثابت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں پرکھجور کی ترشاخیں گاڑدیں،اب قبروں پر پھول ڈالنے گھاس اگانے کا بھی یہی منشاء ہے۔
۵؎ ہرنماز کے بعد بلند آواز سے،اس سے پہلے آہستہ دعا مانگتے تھے،یہ دعا امت کی تعلیم کے لیئے ہے تاکہ لوگ سیکھ لیں ورنہ انبیائے کرام سے نہ سوالِ قبر ہے نہ عذاب ان کی برکت سے لوگوں کے عذاب دور ہوتے ہیں۔
|
129 -[5] عَن زيد بن ثَابت قَالَ بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَائِطٍ لِبَنِي النَّجَّارِ عَلَى بَغْلَةٍ لَهُ وَنَحْنُ مَعَهُ إِذْ حَادَتْ بِهِ فَكَادَتْ تُلْقِيهِ وَإِذَا أَقْبُرُ سِتَّةٍ أَو خَمْسَة أَو أَرْبَعَة قَالَ كَذَا كَانَ يَقُول الْجريرِي فَقَالَ: «من يعرف أَصْحَاب هَذِه الأقبر فَقَالَ رجل أَنا قَالَ فَمَتَى مَاتَ هَؤُلَاءِ قَالَ مَاتُوا فِي الْإِشْرَاك فَقَالَ إِنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ تُبْتَلَى فِي قُبُورِهَا فَلَوْلَا أَنْ لَا تَدَافَنُوا لَدَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يُسْمِعَكُمْ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ الَّذِي أَسْمَعُ مِنْهُ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ النَّارِ قَالُوا نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَاب النَّار فَقَالَ تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ قَالُوا نَعُوذُ بِاللَّه من عَذَاب الْقَبْر قَالَ تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنَ الْفِتَنِ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ قَالُوا نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الْفِتَنِ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ قَالَ تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ قَالُوا نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ |
روایت ہے حضرت زیدابن ثابت سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بنی نجار کے باغ میں اپنے خچر پرسوار تھے۲؎ اور ہم حضور کے ساتھ تھے کہ اچانک آپ کا خچر بدکا ۳؎ قریب تھا کہ آپ کو گرادیتا ناگاہ وہاں پانچ چھ قبریں تھیں حضور نے فرمایا کہ ان قبروں کو کوئی پہچانتا ہے ؟۴؎ ایک شخص نے عرض کیا کہ میں حضور نے فرمایا یہ کب مرے عرض کیا زمانہ شرک میں۵؎ تب حضور نے فرمایا کہ یہ گروہ ۶؎ اپنی قبروں میں عذاب دیئے جاتے ہیں۷؎ اگر یہ خطرہ نہ ہوتا کہ تم دفن کرنا چھوڑو گے تو میں اﷲ سے دعاکرتا کہ اس عذاب سے کچھ تمہیں بھی سنا دے جو میں سن رہا ہوں۸؎ پھر ہماری طرف چہرہ کرکے فرمایا کہ دوزخ کے عذاب سے اﷲ کی پناہ مانگو سب نے کہا ہم دوزخ کے عذاب سے اﷲ کی پناہ مانگتے ہیں فرمایا عذاب قبر سے اﷲ کی پناہ مانگو سب بولے ہم عذاب قبرسے اﷲ کی پناہ مانگتے ہیں ۹؎ فرمایا کھلے چھپے فتنوں سے اﷲ کی پناہ مانگو سب بولے ہم کھلے چھپےفتنوں سے اﷲ کی پناہ مانگتے ہیں۱۰؎ فرمایا دجال کے فتنہ سے اﷲ کی پناہ مانگو سب بولے کہ ہم دجال کے فتنہ سے اﷲ کی پناہ مانگتے ہیں۱۱؎ (مسلم) |
۱؎ آپ انصاری ہیں،مدنی ہیں،کاتب وحی،علم فرائض کے امام ہیں،آپ کے حالات پہلے ذکر کیئے جاچکے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع