دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 1 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول

۱۰؎  یعنی چونکہ جن و انس ایمان اور شرعی احکام کے مکلف ہیں اور ایمان بالغیب چاہیئے اس لیئے قبر کا عذاب اور کافر مردے کی چیخ و پکار ان دونوں سے مخفی رکھی گئی تاکہ یہ غیب شہادت نہ بن جائے۔ان کے علاوہ باقی تمام قریبی حیوانات بلکہ درخت و پتھر وغیرہ بھی یہ آواز سنتے ہیں۔خیال رہے کہ ہر قبر میں سوال و جواب کرنے والے دو فرشتے جاتے ہیں تاکہ یہ گواہ بھی بن جائیں مگر ہتھوڑوں سے مارنے والے دوسرے فرشتے۔

127 -[3] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم قَالَ: «إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا مَاتَ عُرِضَ عَلَيْهِ مَقْعَدُهُ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ إِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَمِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَمِنْ أَهْلِ النَّارِ فَيُقَالُ هَذَا مَقْعَدُكَ حَتَّى يَبْعَثك الله يَوْم الْقِيَامَة»

روایت ہے عبداﷲ ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تم میں سے جب کوئی مرجاتا ہے تو صبح شام اس پر اس کا ٹھکانا پیش کیا جاتا رہتا ہے ۱؎  اگر جنتی ہے تو جنت کا ٹھکانہ اور اگر دوزخیوں میں سے ہے تو دوزخ کا ٹھکانہ۲؎  پھر اس سے کہا جاتا ہے کہ یہ تیرا ٹھکانہ ہے تاآنکہ  قیامت کے دن اﷲ تجھے ادھربھیجے گا۳؎  (مسلم،بخاری)

۱؎   یہاں صبح و شام سے مراد ہمیشگی ہے یعنی میت قبر سے ہر وقت اپنے جنتی یا دوزخی ٹھکانے کو دیکھتا رہتا ہے لہذا احادیث میں تعارض نہیں اس کی تائید اس آیت سے ہے"اَلنَّارُ یُعْرَضُوۡنَ عَلَیۡہَا غُدُوًّا وَّ عَشِیًّا"۔(ازمرقاۃ)

۲؎   دیکھتا ر ہتا ہے اور قبر میں جنت کی خوشبوئیں،وہاں کی ٹھنڈی ہوائیں بلکہ وہاں کے پھل بھی آتے رہتے ہیں۔ایسے ہی کافر کی قبر میں کہ دوزخ کی لُو،وہاں کی بدبو اور سانپ بچھو قبر میں پہنچتے رہتے ہیں۔خیال رہے کہ قبر میں جنت کا آرام یا دوزخ کی تکلیف پہنچ جاتی ہے مگر جسم کا جنت میں ثواب کے لیئے پہنچنا بعد قیامت ہوگا۔ہاں شہداء کی رُوحیں مرتے ہی جنت میں پہنچ جاتی ہیں جسمانی داخلہ ان کا بھی بعد قیامت ہے۔

۳؎ خیال رہے کہ مؤمن کی روح قبر میں یا کسی اور مقام پر قید نہیں ہوتی بلکہ بعض ارواح تو تمام عالم میں چکر لگاتی ہیں جیساکہ مرقاۃ وغیرہ میں ہے مگر ہیڈ کوارٹر قبر ہی ہوتی ہے اور تعلق وہاں سے ہر وقت رہتا ہے۔جیسے سونے کی حالت میں سیلانی روح کا تعلق جسم سے،اسی لیئے زیارت قبور کی جاتی ہے اور وہاں میت کو ایصالِ ثواب اور عرض و معروض کیا جاتا ہے۔"ھٰذَا مَقْعَدُكَ "سے یہی مرادہے۔

128 -[4] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ يَهُودِيَّةً دَخَلَتْ عَلَيْهَا فَذَكَرَتْ عَذَابَ الْقَبْرِ فَقَالَتْ لَهَا أَعَاذَكِ اللَّهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ فَسَأَلَتْ عَائِشَةُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَذَابِ الْقَبْرِ فَقَالَ: «نَعَمْ عَذَابُ الْقَبْر قَالَت عَائِشَة رَضِي الله عَنْهَا فَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بعد صلى صَلَاة إِلَّا تعوذ من عَذَاب الْقَبْر»

روایت ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ ایک یہودی عورت ان کی خدمت میں حاضرہوئی ۱؎  اور اس نے عذاب قبر کا ذکر کیا۲؎  اور آپ سے عرض کیا اﷲ تمہیں عذاب قبر سے بچائے تب حضرت عائشہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عذابِ قبر کے متعلق پوچھا۳؎   آپ نے فرمایا ہاں  عذاب قبر حق ہے۴؎  حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ اس کے بعد میں نے کبھی نہ دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی نماز پڑھی ہو اور عذاب قبر سے رب کی پناہ نہ مانگی ہو۵؎ (مسلم،بخاری)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن