30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہوتا۔دوسرے یہ کہ قبر میں ہر مردے کو قریب سے حضور کی زیارت کرائی جاتی ہے۔جیسا کہ ھذا سے معلوم ہوا،ھذا وہاں بولتے ہیں جہاں چیز نظر بھی آرہی ہو اور قریب بھی ہو۔تیسرے یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بیک وقت سب کی قبو ر میں پہنچ سکتے ہیں،یا بیک وقت نظر آسکتے ہیں جیسے سورج کی شعاعیں بیک وقت لاکھوں جگہ موجوداور بیک وقت خود ہر جگہ سے نظر آتا ہے اس سے حاضر ناظر کا مسئلہ حل ہوا۔چوتھے یہ کہ فرشتے خود حضور ہی کی زیارت کراتے ہیں نہ کہ آپ کے فوٹو کی کیونکہ فوٹو نہ رَجُل ہے،نہ اس فوٹو کا نام محمدہے،نہ وہ فوٹونبی ہے جیسے پتھر کو خدا کہنا شرک ہے ایسے ہی کسی فوٹو کو نبی بتانا بھی کفر ہے،عشاق اس دیدار قبر کی بنا پر موت کی تمنا کرتے ہیں اور عاشقوں کی موت کو عرس کہا جاتا ہے یعنی برات کا دن یا دولہا کی دید کی عید کا دن۔
۴؎ یعنی جس کا خاتمہ ایمان پر ہوا اس نے حضور کو دیکھا ہو یا نہ دیکھا ہو نورِ ایمانی سے پہچان لیتا ہے اور تڑپ کر پکارتا ہے کہ یہی وہ ہیں جن کا میں نے کلمہ پڑھا تھا۔بعض عشاق کہہ بیٹھتے ہیں کہ میں نے عمر بھر ان کو رسول اﷲ مانا،اب اُن سے پوچھو مجھے اپنا اُمتی کہتے ہیں یانہیں جیسا کہ بعض صوفیاء کے کشف سے ثابت ہے۔
۵؎ اﷲنے ہر بندے کے دو ٹھکانے رکھے ہیں،ایک جنت میں ایک دوزخ میں کافر اپنے ٹھکانے پربھی قبضہ کرتا ہے اور مؤمن کے دوزخی ٹھکانے پر بھی اور مؤمن جنت میں اپنا اور کافر کاجنتی ٹھکانہ سنبھالتا ہے رب فرماتا ہے:" وَ اَوْرَثَنَا الْاَرْضَ"اور فرماتا ہے:"اَنَّ الْاَرْضَ یَرِثُہَا عِبَادِیَ الصّٰلِحُوۡنَ "۔ یہاں زمین سے جنت کی زمین مراد ہے اور وراثت سے کافر کے حصہ کی ملکیت مراد ہے وہی اس حدیث کا مقصد ہے یعنی اگر تو جناب مصطفے کو یہاں نہ پہچانتا تو دوزخ میں یہاں رہتا،یہ اس لئے کہا جاتا ہے تاکہ مؤمن کی خوشی دوبالا ہوجائے۔
۶؎ یعنی میت اپنے قبر میں سے دوزخ و جنت کو آنکھوں سے دیکھتا ہے حالانکہ یہ دونوں اس کی قبر سے کروڑوں میل دور ہیں جب مردے کی دور بینی کا یہ عالم ہے تو اگر وہ ساری زمین اور زمین والوں کو دیکھے تو کیا بعید ہے،آج حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہراُمّتی کے ہرحال کو دیکھ رہےہیں۔اور ان کی ہر بات سُن رہے ہیں اسی لئے ہر نمازی ہر جگہ سے انہیں نماز میں سلام کرتا ہے کہتا ہے"السَّلَامُ عَلَیْكَ اَیُّہَا النَّبِیُ"۔
۷؎ اس سےمعلوم ہوتا ہے کہ قبر میں یہ اشارہ حسّیہ ہوتا ہے نہ کہ عقلیہ اور وہمیہ یعنی فرشتے جمالِ محمدی دکھا کر پوچھتے ہیں محض ذہنی،وہمی چیز کی طرف اشارہ نہیں کرتے کیونکہ کافر حضور سے خالی الذہن ہے اگر اس کے سامنے جمال محمد ی نہ ہوتا تو وہ تعجب سے کہتا کسے پوچھتے ہو؟ یہاں تو کوئی بھی نہیں یہ حدیث حضور کے حاضرناظر ہونے کی ایسی قوی دلیل ہے کہ منکرین سے ان شاءاﷲ اس کا جواب نہ بنے گا،سورج بیک وقت لاکھوں آئینوںمیں جلوہ گری کرسکتا ہے تو نبوت کا سورج بھی لاکھوں قبروں کو بیک وقت چمکا سکتا ہے۔
۸؎ اگرچہ کافر نے عمر بھر حضور کو دیکھا ہو مگر قبر میں نہ پہچان سکے گا جیسے ابوجہل،ابولہب وغیرہ کیونکہ وہاں حضور کی پہچان رشتہ ٔ ایمانی سے ہے،لطف تو یہ ہے کہ کافر وہاں اپنا کفر بھی بھول جائے گا،یہ نہ کہہ سکے گا کہ میں انہیں اپنے جیسا بشر یا بڑا بھائی یا جادو گر و مجنوں کہتا تھا،بلکہ گھبرا کر کہے گا کہ مجھے یاد نہیں کہ میں نے انہیں کیا کہا تھا جو اور لوگ کہتے تھے وہی میں نے بھی کہا ہوگا۔
۹؎ "تَلَیْتَ"اصل میں تَلَوْتَ تھا دَرَیْتَ کی و جہ سے اس کی "وَ"بھی "یَ"سے بدل گئی یعنی ان کی نبوت پر تو عقلی دلائل بھی قائم تھے،ان کے معجزات وغیرہ اور نقلی دلائل بھی آیاتِ قرآنیہ۔تو نے زندگی میں نہ تو انہیں عقل سے پہچانا،نہ قرآن کے ذریعہ مانا،نہ علماء کی پیروی کی۔ظاہر یہ ہے کہ گفتگو سارے ہی کافروں اور منافقوں سے ہے،اس میں کسی تاویل وغیرہ کی ضرورت نہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع