30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ مردے سنتے ہیں،مردوں کا سُننا قرآنی آیات اور بے شمار احادیث سے ثابت ہے۔حضرت شعیب وصالح علیہما السلام نے عذاب یافتہ قوم کی نعشوں پر کھڑے ہو کر فرمایا:" یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُکُمْ"الآیہ۔رب فرماتا ہے:"وَسْـَٔلْ مَنْ اَرْسَلْنَا مِنۡ قَبْلِکَ مِنۡ رُّسُلِنَاۤ "یعنی اے محبوب! پچھلے پیغمبروں سے پوچھو،بلکہ ابراہیم علیہ السلام سے فرمایا گیا:"ثُمَّ ادْعُہُنَّ یَاۡتِیۡنَکَ سَعْیًا"ذبح کیے ہوئے جانوروں کو پکارو دوڑتے ہوئے آجائیں گے،یہ حدیث سماع موتٰی کے لیے نصِّ صریح ہے،ہمارے حضور علیہ السلام نے بدر میں مقتول کفار کی لاشوں پر کھڑے ہو کر ان سے کلام کیا۔خیال رہے کہ مردے کا یہ سننا ہمیشہ رہتا ہے،اس لئے حکم ہے کہ قبرستان میں جاکر مردوں کو سلام کرو،حالانکہ نہ سننے والوں کو سلام کیسا ؟ جن آیتوںمیں سماع موتٰی کی نفی ہے وہاں مردوں سے مراد دل کے مردے یعنی کافر ہیں،اور سننے سے مراد قبول کرنا ہے اسی لیئے جہاں قرآن نے یہ فرمایا:"اِنَّکَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰی"تم مردوں کو سُنا نہیں سکتے،وہاں ساتھ میں یہ بھی فرمادیا:"اِنۡ تُسْمِعُ اِلَّا مَنۡ یُّؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا"یعنی تم صرف مؤمنوں کو ہی سُناسکتے ہوجس سے معلوم ہوا کہ وہاں مردوں سے مراد کافر تھے۔مرقات نے یہاں فرمایا کہ میت اپنے دینے والوں،نماز پڑھنے والوں،اٹھانے والوں اور دفن کرنے والوں کو جانتا پہچانتا ہے۔حضرت عائشہ صدیقہ گنبدِ خضریٰ میں حضرت عمر کے دفن ہونے کے بعد پردے کے ساتھ اندر جاتی تھیں،اور فرماتی تھیں کہ میں عمر سے حیا کرتی ہوں،معلوم ہوا کہ میت دیکھتی بھی ہے،امام صاحب نے میت کے سننے میں توقف نہیں کیا بلکہ سننے کی نوعیت میں جیسا کہ اسی جگہ مرقاۃ میں ہے۔دوسرے یہ کہ بعد موت قوتیں بڑھ جاتی ہیں کہ ہزار ہا من مٹی میں دفن ہونے کے باوجود میت لوگوں کے جوتوں کی آہٹ سن لیتی ہے تو جو انبیاء اور اولیاء زندگی میں مشرق و مغرب دیکھتے ہوں وہ بعد وفات فرش و عرش کی یقینًا خبر رکھتے ہیں۔حدیث شریف میں ہے کہ ہر جمعرات کو میت کی روح اپنے عزیزوں کے گھر پہنچ کر اُن سے ایصال ثواب کی درخواست کرتی ہے(اشعۃ اللمعات باب زیارۃ القبور) معراج کی رات سارے نبی بیت المقدس میں اور پھر آنًا فانًا آسمانوں پر موجود تھے یہ ہے رُوحِ میت کی رفتار۔
۲؎ اس عبارت سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ حسابِ قبر سب لوگوں کے لوٹ آنے کے بعد شروع ہوتا ہے لہذا اگر کوئی شخص قبر پر ہی رہے تو اﷲ کی رحمت سے امید ہے کہ میت سے حساب نہ ہوگا اسی لیے بعض لوگ بعد دفن سے جمعہ کی شب تک قبر پر حافظ قرآن بٹھالیتے ہیں کہ شاید ان کی موجودگی کی وجہ سے حساب اور تلاوتِ قرآن کی برکت سے عذاب نہ ہو۔دوسرے یہ کہ منکر نکیر فرشتوں میں یہ طاقت ہے کہ بیک وقت ہزاروں جگہ جاسکتے ہیں،ہزار ہا قبر وں میں ایک آن میں موجود ہو کر سب مردوں سے حساب کرلیتے ہیں اسی کو حاضر ناظر کہا جاتا ہے،لہذا اگر انبیاء اولیاء بیک وقت چند جگہ موجود ہوں تو کوئی قباحت نہیں اور نہ یہ عقیدہ شرک ہے۔خیال رہے کہ منکرنکیرمردے میں روح ڈالتے ہیں جس سے وہ زندہ ہو کر بیٹھتا ہے اور کلام کرتا ہے مگر یہ زندگی ہمیں محسوس نہیں ہوسکتی اور جنہیں جلا دیا گیا یا شیر کھا گیا ان کے اجزاءاصلیہ سے روح متعلق کردی جاتی ہے اور اس سے حساب ہوجاتا ہے۔حدیث میں کسی تاویل کی ضرورت نہیں ماں کے پیٹ میں فرشتہ بچہ بنا جاتا ہے،تقدیر لکھ جاتا ہے ماں کو خبر نہیں ہوتی عالمِ امر کی چیزیں اِن آنکھوں سے نہیں دیکھی جاسکتیں۔
۳؎ یہ"ھٰذَا الرَّجُل"کی تفسیرہے جو حضور نے خود فرمائی کسی راوی کی تفسیر نہیں ورنہ وہ رسول اﷲ یا نبی اﷲ فرماتے۔(مرقاۃ)اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ حسابِ قبر حضور سے نہیں لیا گیا کیونکہ حضور ہی کی پہچان کا تو حساب ہے پھر آپ سے کیسے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع