30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ آپ کا نام براءکنیت ابو عمارہ ہے،انصاری حارثی ہیں،خندق اورغزوۂ احد وغیرہ ۱۵غزووں میں حضور کے ساتھ رہے۔عہدفاروقی میں کوفہ میں قیام فرمایا، ۲۴ھ میں "رے" آپ ہی نے فتح کیا،عہد مرتضوی میں جنگِ جمل صفین اور نہروان میں حضرت علی مرتضیٰ کے ساتھ تھے،کوفہ میں وفات ہوئی۔
۲؎ پوچھنے والے منکر نکیر دو فرشتے ہیں جو توحید و رسالت اور دین کا امتحان لیتے ہیں یہ جواب عام مؤمن وں کا ہے جو یہاں ارشاد ہوا،بعض عاشق جمالِ مصطفوی دیکھتے ہی اُٹھ کر فدا ہوجاتے ہیں اور ایسا طواف کرتے ہیں جیسا پروانہ شمع کا یا حاجی کعبہ کا جیساکہ بزرگوں کی تواریخ سے ثابت ہے کہ انہوں نے خواب میں لوگوں کو اپنے سوال کی تفصیل وجد انگیز طریقہ سے بتائی۔
۳؎ یہاں آخرت سے مراد قبر ہے یعنی قبر میں کوئی شخص اپنی کوشش سے کامیاب نہیں ہوسکتا محض رب کے کرم سے کامیابی ملے گی۔یعنی مؤمن وں کو زندگی اور قبر میں کلمۂ شہادت پر اﷲ تعالٰی ہی ثابت قدم رکھتا ہے ورنہ دنیا کے بہت سے حالات اور قبر کے سخت سوالات اُسے پھسلانے والے ہیں۔قول ثابت سے مراد کلمہ طیبہ ہے چونکہ قبر میں صرف عقائد کا امتحان ہے اس لئے اعمال کا ذکر نہ ہوا۔
۴؎ یعنی قبر کے عذاب و ثواب کے ثبوت میں ورنہ یہ آیت مؤمن وں کے بارے میں آئی ہے جو عذابِ قبر سے محفوظ ہیں لہذا حدیث پر کوئی ا عتراض نہیں۔
۵؎ دنیا میں امتحان کے سوالات پہلے چھپائے جاتے ہیں تاکہ کوئی جواب سوچ نہ لائے۔ہمارے حضور نے اس امتحان کے سوالات بھی آؤٹ کردیئے،ان کے جوابات بھی بتادیئے،خدا کرے اس وقت اَوسان ٹھکانے رہیں اور یہ بتائے ہوئےصحیح جوابات یاد آجائیں۔
|
126 -[2] عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنه حَدثهمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ وَتَوَلَّى عَنْهُ أَصْحَابُهُ وَإِنَّهُ لَيَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِهِمْ أَتَاهُ مَلَكَانِ فَيُقْعِدَانِهِ فَيَقُولَانِ مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ لِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ فَيَقُولُ أَشْهَدُ أَنَّهُ عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ فَيُقَالُ لَهُ انْظُرْ إِلَى مَقْعَدِكَ مِنَ النَّارِ قَدْ أَبْدَلَكَ اللَّهُ بِهِ مَقْعَدًا مِنَ الْجنَّة فَيَرَاهُمَا جَمِيعًا قَالَ قَتَادَة وَذكر لنا أَنه يفسح لَهُ فِي قَبره ثمَّ رَجَعَ إِلَى حَدِيث أنس قَالَ وَأَمَّا الْمُنَافِقُ وَالْكَافِرُ فَيُقَالُ لَهُ مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ فَيَقُولُ لَا أَدْرِي كُنْتُ أَقُولُ مَا يَقُولُ النَّاسُ فَيُقَالُ لَا دَرَيْتَ وَلَا تَلَيْتَ وَيُضْرَبُ بِمَطَارِقَ مِنْ حَدِيدٍ ضَرْبَةً فَيَصِيحُ صَيْحَةً يَسْمَعُهَا مَنْ يَلِيهِ غَيْرَ الثقلَيْن» وَلَفظه للْبُخَارِيّ |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب بندے کو قبر میں رکھا جاتا ہے اور اس کے ساتھی لوٹتے ہیں تو وہ ان کے جوتوں کی آہٹ سنتا ہے ۱؎ اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اسے بٹھاتے ہیں۲؎ پھر کہتے ہیں کہ تو ان صاحب کے متعلق کیا کہتا تھا یعنی محمد۳؎ تو مؤمن کہہ دیتا ہے میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اﷲ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۴؎ تب اس سے کہا جاتا ہے کہ اپنا دوزخ کا ٹھکانا دیکھ جسے اﷲ نے جنت کے ٹھکانے سے بدل دیا ۵؎ تو وہ ان دونوں کو دیکھتا ہے ۶؎ لیکن منافق اور کافر اس سے کہا جاتا ہے کہ ان صاحب کے بارے میں کہتا تھا ؟۷؎ وہ کہتا ہے میں نہیں جانتا جو لوگ کہتے تھے وہی میں کہتا تھا ۸؎ تو اس سے کہا جاتا ہے کہ تو نے نہ پہچانا قرآن نہ پڑھا ۹؎ اور لوہے کے ہتھوڑوں سے مار ماری جاتی ہے جس سے وہ ایسی چیخیں مارتا ہے کہ سواء جن و انس تمام قریبی چیزیں سنتی ہیں ۱۰؎ (مسلم وبخاری)الفاظ بخاری کے ہیں۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع