30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ نعمان پہاڑ مکہ معظمہ اور طائف کے درمیان سے شروع ہوکر عرفات تک پہنچتا ہے اس پہاڑ پر یہ واقعہ ہوا لہذا یہ حدیث بھی درست ہے کہ عرفات میں یہ عہد لیا گیا اور یہ بھی کہ طائف کے قریب لیا گیا۔
۲؎ تاکہ آدم علیہ السلام سب کو جان پہچان لیں اور یہ معاہدہ سن لیں اور دیکھ لیں۔
۳؎ رب اور بندوں کی یہ گفتگو بلاواسطہ اس طرح ہوئی کہ بندوں نے رب کو دیکھا جیسا کہ"قُبُلًا "سےمعلوم ہوا،یہ اقرارِ ربوبیت سارے بندوں سے لیا گیا جن میں انبیاء،اولیاء،مؤمن ین،کفار سب شامل تھے۔حضور علیہ السلام کی اتباع کا عہد صرف انبیاء سے لیا گیا اور تبلیغ کا معاہدہ علمائے بنی اسرائیل سے،یہ تینوں عہد قرآن حکیم میں موجود ہیں۔
۴؎ یعنی توحید سے تمہیں یہاں خبردار کردیا گیا تم سے اس کا اقرار لیا گیا،اس کی یاد دہانی کے لئے انبیاء اور کتابیں بھیجی جائیں گی،لہذا اب کوئی بھی معذور نہ ہوگا۔اس سےمعلوم ہوا کہ عقیدۂ توحید ہرشخص پر لازم ہے اور کفّار کے چھوٹے فوت شدہ بچے دوزخی نہیں۔
|
122 -[44] عَن أبي بن كَعْب فِي قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ (وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورهمْ ذرياتهم وأشهدهم على أنفسهم) الْآيَة قَالَ جمعهم فجعلهم أرواحا ثُمَّ صَوَّرَهُمْ فَاسْتَنْطَقَهُمْ فَتَكَلَّمُوا ثُمَّ أَخَذَ عَلَيْهِمُ الْعَهْدَ وَالْمِيثَاقَ وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالَ فَإِنِّي أشهد عَلَيْكُم السَّمَوَات السَّبْعَ وَالْأَرَضِينَ السَّبْعَ وَأُشْهِدُ عَلَيْكُمْ أَبَاكُمْ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَام أَنْ تَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَمْ نَعْلَمْ بِهَذَا اعْلَمُوا أَنَّهُ لَا إِلَهَ غَيْرِي وَلَا رَبَّ غَيْرِي فَلَا تُشْرِكُوا بِي شَيْئا وَإِنِّي سَأُرْسِلُ إِلَيْكُمْ رُسُلِي يُذَكِّرُونَكُمْ عَهْدِي وَمِيثَاقِي وَأُنْزِلُ عَلَيْكُمْ كُتُبِي قَالُوا شَهِدْنَا بِأَنَّكَ رَبُّنَا وَإِلَهُنَا لَا رب لَنَا غَيْرُكَ فَأَقَرُّوا بِذَلِكَ وَرُفِعَ عَلَيْهِمْ آدَمُ يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ فَرَأَى الْغَنِيَّ وَالْفَقِيرَ وَحَسَنَ الصُّورَةِ وَدُونَ ذَلِكَ فَقَالَ رَبِّ لَوْلَا سَوَّيْتَ بَيْنَ عِبَادِكَ قَالَ إِنِّي أَحْبَبْتُ أَنْ أَشْكُرَ وَرَأَى الْأَنْبِيَاءَ فِيهِمْ مِثْلَ السُّرُجِ عَلَيْهِمُ النُّورُ خُصُّوا بِمِيثَاقٍ آخَرَ فِي الرِّسَالَةِ وَالنُّبُوَّةِ وَهُوَ قَوْلُهُ تَعَالَى (وَإِذ أَخذنَا من النَّبِيين ميثاقهم)إِلَى قَوْله (عِيسَى ابْن مَرْيَم) كَانَ فِي تِلْكَ الْأَرْوَاحِ فَأَرْسَلَهُ إِلَى مَرْيَمَ فَحُدِّثَ عَنْ أُبَيٍّ أَنَّهُ دَخَلَ مِنْ فِيهَا. رَوَاهُ أَحْمد |
روایت ہے حضرت ابی ابن کعب سے رب تعالٰی کے اس فرمان کے متعلق جب آپ کے رب نے اولاد آدم کی پشت سے ان کی اولاد نکالی فرمایا انہیں جمع کیا انہیں جوڑے بنایا ۱؎ پھر انہیں صورت وگویائی دی ۲؎ تو وہ وہ بولے پھر ان سے عہد میثاق لیا اور انہیں خود انکی ذات پر گواہ بنایا۳؎ کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں بولے ہاں فرمایا میں تم پر سات آسمانوں اور سات زمینوں کو اور تمہارے والد آدم کو گواہ بناتا ہوں ۴؎ کہیں قیامت میں کہہ دو کہ ہم کو خبر نہ تھی جان لو میرے سوا نہ کوئی معبود ہے اور نہ کوئی رب کسی کو میرا شریک نہ ٹھہرانا ۵؎ عنقریب تم تک اپنے پیغمبر بھیجوں گا جو تمہیں میرا عہد میثاق یاد دلائیں گے ۶؎ اور تم پر اپنی کتابیں اتاروں گا ۷؎ بولے ہم اس کے گواہ ہیں کہ تو ہمارا رب ہمارا معبود ہے تیرے سوا نہ کوئی ہمارا رب ہے نہ معبود ۸؎ پھر سب نے اس کا اقرار کیا ان پر آدم علیہ السلام کو انہیں دیکھنے کے لیے اٹھایا گیا ۹؎ تو آپ نے امیرفقیرحسین وغیرہ دیکھے ۱۰؎ تو عرض کیا اے رب تو نے اپنے بندوں میں برابری کیوں نہ کی فرمایا میں نے چاہا کہ شکر کیا جاؤں ۱۱؎ ان میں نبیوں کو چراغوں کی طرح دیکھا جن پر نور تھا۲؎۱ ان سے دوسرا خصوصی عہد رسالت اور نبوت کےمتعلق لیا گیا وہ رب تعالٰی کا یہ فرمان ہے اور جب ہم نے نبیوں سے ان کا عہد لیا الخ عیسیٰ ابن مریم کےقول تک۱۳؎ حضرت عیسیٰ بھی ان روحوں میں تھے انہیں بی بی مریم کی طرف بھیجا ابی سے خبر ملی کہ آپ حضرت مریم کے منہ سے داخل ہوئے۱۴؎ (احمد) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع