دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 1 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول

120 -[42]  

وَعَن أبي نَضرة أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَالُ لَهُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ دَخَلَ عَلَيْهِ أَصْحَابُهُ يَعُودُونَهُ وَهُوَ يَبْكِي فَقَالُوا لَهُ مَا يُبْكِيكَ أَلَمْ يَقُلْ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُذْ مِنْ شَارِبِكَ ثُمَّ أَقِرَّهُ حَتَّى تَلْقَانِي قَالَ بَلَى وَلَكِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَبَضَ بِيَمِينِهِ قَبْضَةً وَأُخْرَى بِالْيَدِ الْأُخْرَى وَقَالَ هَذِهِ لِهَذِهِ وَهَذِه لهَذِهِ وَلَا أُبَالِي فَلَا أَدْرِي فِي أَيِّ الْقَبْضَتَيْنِ أَنَا» . رَوَاهُ أَحْمَدُ

روایت ہےحضرت ابی نضرہ سے ۱؎  کہ حضور کے صحابہ میں سے ایک صاحب جنہیں ابوعبداﷲ کہا جاتا تھا ان کی بیمار پُرسی کے لیئے ان کے دوست گئے وہ رو رہے تھے۲؎  تو یہ حضرات بولے کیوں روتے ہو؟کیا تم سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہ فرمایا تھا اپنی مونچھیں کٹواؤ پھر اس کے پابند رہو یہاں تک کہ مجھے ملو۳؎  وہ بولے ہاں لیکن میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم  کو فرماتے سنا کہ اﷲ عزوجل نے اپنے داہنے ہاتھ میں ایک مٹھی لی اور دوسری دوسرے ہاتھ میں۴؎  اور فرمایا کہ یہ اس کے لیئے ہے اور یہ اس کے لیئے۵؎  اور مجھے پروا ہ نہیں اور مجھے خبر نہیں کہ میں کون سی مٹھی میں تھا۶؎(احمد)

۱؎  آپ نضرہ ابن منذر ابن مالک جوہدی ہیں،جلیل القدر تابعی ہیں،خواجہ حسن بصری سے کچھ پہلے بصرہ میں ہوئے،۱۰۷ھ؁ میں وہیں وفات پائی۔

۲؎  موت کے خوف یا بیماری کی تکلیف سے نہیں بلکہ خوفِ خدا سے جیسا کہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے اس وقت یہ حالت اﷲ کی خاص رحمت ہے ان صحابی کا نام معلوم نہ ہوسکا،ظاہر ہے کہ عیادت کرنے والے حضرات صحابہ کرام بھی تھے اور تابعین بھی۔

۳؎  یعنی اے صحابی رسول تمہیں آیندہ کا کیا کھٹکا ہے،تمہیں تو حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے دو خوشخبریاں دے دی ہیں ایک یہ کہ تم جنتی ہو،دوسرے یہ کہ تم جنت میں حضور کے قرب کے مستحق ہو۔خیال رہے کہ داڑھی بڑھانا اور مونچھ کتروانااتنا کہ اوپر کے ہونٹ کا سارا کنارہ کھل جائے سنت مؤکّدہ بلکہ واجب ہے اور اس کی پابندی جنتی ہونے اور حضور کے قرب ملنے کا ذریعہ ہے  جیسے کہ ترک سُنت کی عادت حضور علیہ السلام سے دوری کا سبب ہے۔

۴؎  دستِ قدرت کی ان مٹھیوں میں انسانوں کی روحیں تھیں،یہ حدیث متشابہات میں سے ہے،رب تعالٰی مٹھی کے ظاہر معنے سے پاک ہے۔

۵؎  یعنی داہنی مٹھی والے جنت کے لیے ہیں،اور بائیں والے دوزخ کے لیے۔

۶؎  داہنی میں یا بائیں میں لہذا میں جنتی ہوں یا دوزخی،یہاں علم کی نفی نہیں،بلکہ درایت کی نفی ہے۔درایت اٹکل اور قیاس سے جاننے کو کہتے ہیں۔حضور کی بشارت سے ان کو اپنے جنتی ہونے کا علم یقینی حاصل ہوچکا تھا۔آج صدیق اور فاروق کے جنتی ہونے پر ہمارا ایمان ہے،جو ان کے جنتی ہونے میں شک کرے وہ بے ایمان ہے۔آپ کے جواب کا مقصد یہ ہے کہ اس مٹھیوں والی حدیث میرے سامنے ہونے کی وجہ سے میری نظر اس بشارت پر رہی ہی نہ تھی اس لیے میں رو رہا تھا۔خیال رہے کہ ان صحابہ کا یا خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کا خوف،خوفِ جلال ہے نہ کہ خوفِ عتاب،انہیں خدا کے وعدوں پر بے اعتباری نہ تھی جیسے وزیر اعظم کو دربارِ شاہی کی ہیبت ہوتی ہے،جو خدا کے وعدوں پر اعتماد نہ کرے وہ کافر ہے خوفِ جلال قوتِ ایمان کی دلیل ہے،موسیٰ علیہ السلام کو فرعون سے ایذاء کا خوف تھا ا گرچہ رب نے اُن کی حفاظت کا وعدہ فرمالیا تھا لہذا اس حدیث سے مسئلۂ امکانِ کذب ہرگز ثابت نہیں ہوسکتا۔

 121 -[43]  

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَخذ الله الْمِيثَاق من ظهر آدم بنعمان يَعْنِي عَرَفَة فَأخْرج من صلبه كل ذُرِّيَّة ذَرَاهَا فَنَثَرَهُمْ بَيْنَ يَدَيْهِ كَالذَّرِّ ثُمَّ كَلَّمَهُمْ قِبَلًا قَالَ: (أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى شَهِدْنَا أَنْ تَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَذَا غافلين أَوْ تَقُولُوا إِنَّمَا أَشْرَكَ آبَاؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَكُنَّا ذُرِّيَّةً مِنْ بَعْدِهِمْ أَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ المبطلون) رَوَاهُ أَحْمد

روایت ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی فرماتے ہیں اﷲ تعالٰی نے پشت آدم سے نعمان یعنی عرفات میں عہد لیا ۱؎  اس طرح کہ ان کی پشت سے ساری اولاد نکالی انہیں حضرت آدم کے ساتھ چیونٹیوں کی طرح بکھیردیا ۲؎  پھر ان کے آمنے سامنے گفتگو فرمائی فرمایا کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ سب بولے ہاں ہم گواہ ہیں۳؎  کہ کہیں قیامت کے دن یہ کہہ دو کہ ہم اس سے غافل تھے یا کہہ دو کہ شرک تو صرف ہمارے باپ دادوں نے کیا ہم تو ان کے بعد کی پیداوار تھے تو کیا تو ہم کو جھوٹوں کے جرموں سے ہلاک فرماتا ہے۴؎ (احمد)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن