30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
118 -[40] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ آدم مسح ظَهره فَسقط من ظَهْرِهِ كُلُّ نَسَمَةٍ هُوَ خَالِقُهَا مِنْ ذُرِّيَّتِهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَجَعَلَ بَيْنَ عَيْنَيْ كُلِّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ وَبِيصًا مِنْ نُورٍ ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى آدَمَ فَقَالَ أَيْ رَبِّ مَنْ هَؤُلَاءِ قَالَ هَؤُلَاءِ ذُرِّيَّتُكَ فَرَأَى رَجُلًا مِنْهُمْ فَأَعْجَبَهُ وَبِيصُ مَا بَين عَيْنَيْهِ فَقَالَ أَي رب من هَذَا فَقَالَ هَذَا رجل من آخر الْأُمَم من ذريتك يُقَال لَهُ دَاوُدُ فَقَالَ رَبِّ كَمْ جَعَلْتَ عُمُرَهُ قَالَ سِتِّينَ سنة قَالَ أَي رب زده من عمري أَرْبَعِينَ سنة فَلَمَّا قضي عمر آدم جَاءَهُ ملك الْمَوْت فَقَالَ أَوَلَمْ يَبْقَ مِنْ عُمُرِي أَرْبَعُونَ سَنَةً قَالَ أولم تعطها ابْنك دَاوُد قَالَ فَجحد آدم فَجحدت ذُريَّته وَنسي آدم فنسيت ذُريَّته وخطئ آدم فخطئت ذُريَّته».رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب اﷲ نے حضرت آدم کو پیدا کیا تو ان کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا تو ان کی پشت سے تاقیامت ان کی اولاد کی روحیں نکلیں جنہیں اﷲ پیدافرمانے والا ہے اور ان میں سے ہر انسان کی دو آنکھوں کے بیچ نور کی چمک دی ۱؎ پھر انہیں آدم پر پیش فرمایا وہ بولے اے رب یہ کون ہیں فرمایاتمہاری اولاد۲؎ ان میں ایک شخص کو دیکھاتو ان کی آنکھوں کے درمیان کی چمک پسند آئی ۳؎ بولے اے رب یہ کون ہے فرمایا حضرت داؤد بولے اے رب ان کی عمرکتنی مقرر فرمائی ہے فرمایا ساٹھ سال۴؎ عرض کیا مولا میری عمر میں سے چالیس سال انہیں بڑھادے ۵؎ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب آدم کی عمر ماسوائے چالیس سال پوری ہوئی تو ان کی خدمت میں فرشتہ موت حاضر ہوا ۶؎ آدم بولے کیا ابھی میری عمر کے چالیس سال باقی نہیں فرمایا کہ وہ تم اپنے فرزند داؤد کو نہ دے چکے ۷؎ حضرت آدم انکاری ہوئے اس لئے انکی اولاد انکار کرنے لگی۸؎ حضرت آدم بھول کر درخت سے کھا گئے لہذا ان کی اولاد بھولنے لگی حضرت آدم نے خطا کی تو انکی اولاد خطائیں کرنے لگی ۹؎(ترمذی) |
۱؎ فطری نوریعنی فطرۃ سلیمہ کا نور چہرے پرنمودار ہوا،خیال رہے کہ سقط یعنی گرا ہوا حمل اس میں داخل نہیں کیونکہ اس میں روح پھونکی ہی نہ گئی،جس بچہ میں روح پھونکی جائے وہ دکھایا گیا،یہ تمام کارروائی حضرت آدم کو مطلع فرمانے کے لئے کی گئی،رب تعالٰی تو ہمیشہ سےعلیم وخبیر ہے۔
۲؎ اس سے معلوم ہوا کہ آدم علیہ ا لسلام نے اپنی ساری اولاد کو دیکھ بھی لیا،پہچان بھی لیا اور ا ن کے انجام سے اطلاع بھی پالی کہ فلاں جنتی ہے فلاں دزوخی ہے۔
۳؎ اس سے معلوم ہوا کہ ان کی چمکیں مختلف تھیں اور حضرت آدم کو داؤد علیہ السلام کی چمک پسند آنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ ان کی چمک ہمارے حضور کی چمک سے زیادہ یا افضل ہو،حسن واقعی اور چیز ہے۔پسند آنا کچھ اور لیلےٰ سے بڑھ کرحسینہ اورعورتیں موجودگی تھیں مگر عاشق کی آنکھ میں وہی مرغوب تھی۔(اشعۃ اللمعات)
۴؎ معلوم ہوا کہ اﷲ تعالٰی اپنے مقبولوں کو اپنے خاص علوم عطا فرماتا ہے کیونکہ مقدارعمرعلوم خمسہ میں سے ہے جو رب العالمین نےسیدنا آدم کے پوچھنے پر بتادی۔
۵؎ آدم علیہ السلام کی عمر ایک ہزارسال تھی،آپ نے عرض کیا کہ میری عمر نو سو ساٹھ سال کردے اورداؤد علیہ السلام کی عمر پورے سو۱۰۰سال،یہ دعا رب نے قبول فرمالی۔معلوم ہوا کہ نبی کی دعا سے عمریں گھٹ بڑھ جاتی ہیں،ان کی شان تو بہت ارفع ہے شیطان کی دعا سے اس کی عمر بڑھ گئی کہ اُس نے عرض کیا تھا" اَنۡظِرْنِیۡۤ اِلٰی یَوْمِ یُبْعَثُوۡنَ "رب تعالٰی نے اس کی دعا قبول کرتے ہوئے فرمایا:"فَاِنَّکَ مِنَ الْمُنۡظَرِیۡنَ "الآیہ"فَاِنَّکَ" کی ف سےمعلوم ہوتاہے کہ یہ زیادتی عمر اس کی دعا سے ہوئی،رہی وہی آیت کریمہ"اِذَا جَآءَ اَجَلُہُمْ فَلَا یَسْتَاۡخِرُوۡنَ سَاعَۃً وَّلَایَسْتَقْدِمُوۡنَ "وہ اس حدیث کے خلاف نہیں کیونکہ آیت میں تقدیر مبرم یعنی علمِ الٰہی کا ذکر ہے،اور یہاں تقدیرمعلق کی تحریر کا ذکر یا آیت کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے اختیار سے اپنی عمر کم و بیش نہیں کرسکتا،اور حدیث کا مطلب یہ ہے کہ بندوں کی دعا سے عمریں رب گھٹا بڑھا دیتا ہے۔آخر عیسیٰ علیہ السلام مردوں کو زندہ فرماتے تھے انہیں آپ کی دعا سے نئی عمریں مل جاتی تھیں سچ ہے دعا سے تقدیر پلٹ جاتی ہے۔
۶؎ یعنی جب آپ کے نو سو ساٹھ سال پورے ہوئے تو حضرت عزرائیل نے حاضر ہو کر آپ کو موت کا پیغام سنایا،معلوم ہوا کہ انبیاء کی وفات ہماری طرح جبرًا نہیں ہوتی،بلکہ فرشتۂ موت ظاہر ظہور خدمت میں حاضر ہوتےہیں اور ان کی اجازت سے جان قبض کرتے ہیں ان کی وفات اختیاری ہے۔
۷؎ معلوم ہوا کہ آدم علیہ السلام کو اپنی عمرمعلوم تھی کہ کل اتنی ہوگی یہ علوم خمسہ میں سے ہے یہ بھی معلوم ہوا انبیائے کرام کی وفات ان کی رضا سےسمجھا بجھا کر ہوتی ہے۔ہم سے ملک الموت کبھی حساب کتاب نہیں کرتے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع