دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 1 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول

117 -[39]

عَن عَليّ رَضِي الله عَنهُ قَالَ سَأَلت خَدِيجَة النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَلَدَيْنِ مَاتَا لَهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هُمَا فِي النَّارِ قَالَ فَلَمَّا رأى الْكَرَاهِيَة فِي وَجْهِهَا قَالَ لَوْ رَأَيْتِ مَكَانَهُمَا لَأَبْغَضْتِهِمَا قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَوَلَدِي مِنْكَ قَالَ فِي الْجنَّة قَالَ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْمُؤْمِنِينَ وَأَوْلَادَهُمْ فِي الْجَنَّةِ وَإِنَّ الْمُشْرِكِينَ وَأَوْلَادَهُمْ فِي النَّارِ ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُهُمْ بِإِيمَانٍ أَلْحَقْنَا بِهِمْ ذرياتهم)

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں کہ بی بی خدیجہ نے ۱؎  نبی صلی اللہ علیہ وسلم  سے اپنے بچوں کے متعلق پوچھا جو زمانہ جاہلیت میں فوت ہوچکے تھے  ۲؎  حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ دونوں آگ میں ہیں۳؎  فرماتےہیں جب حضور علیہ السلام نے ان کے چہرے میں غم کے آثار دیکھے تو فرمایا کہ اگر تم ان کا ٹھکانہ دیکھتیں تو ان سے نفرت کرتیں۴؎  انہوں نےعرض کیا اچھا آپ سے جو میرے بچے ۵؎  ہیں فرمایا وہ جنت میں ہیں،پھرحضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان اور انکی اولاد جنت میں ہے۶؎  اور کفار اور ان کی اولاد دوزخ میں پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی اور جو ایمان لائے اور ان کی اولاد ان کے تابع ہے ۷؎ (احمد)

۱؎   آپ مسلمانوں کی پہلی ماں ہیں،نام شریف خدیجہ بنتِ خویلد ابن اسد ہے،قرشیہ ہیں،قصٰی ابن کلاب میں حضور سے مل جاتی ہیں،اوّلًا ہالہ ابن زرارہ کے نکاح میں تھیں،پھر عتیق ابن عائز سے نکاح کیا،پھر چالیس سال کی عمر میں حضور کے نکاح میں آئیں،حضور نے سب سے پہلے انہیں سے نکاح کیا اور ان کی موجودگی میں کسی بیوی سے نکاح نہ فرمایا،سب سے پہلے آپ ہی حضور پر ایمان لائیں،حضور کی ساری اولاد بجز حضرت ابراہیم آپ ہی سے ہے۔۲۵ سال حضور کے نکاح میں رہیں ۶۵ سال کی عمر پا کر ہجرت سے چار سال پہلے مکہ معظمہ میں وفات پائی،جنت معلٰے کے دوسرے حصے میں دفن کی گئیں،قبر شریف زیارت گاہ خلق ہے،فقیر نے حاضری دی ہے۔

۲؎ گزشتہ خاوندوں سے ظہور اسلام سے پہلے۔

۳؎  کیونکہ ان کے باپ بھی مشرک تھے اور اے خدیجہ!اس وقت تم بھی مشرکہ تھیں لہذا نہ وہ خود مؤمن ہوسکے نہ ماں باپ کے تابع ہو کر جنتی۔اس مسئلہ کی تحقیق اسی باب میں بارہا کی جاچکی۔خیال رہے کہ یہ خبر نہیں ہے بلکہ بیانِ قانون ہے یعنی قانونًا تمہارے وہ بیٹے جہنمی ہونے چاہئیں لہذا یہ حدیث ان آیات سے منسوخ ہے جن میں فرمایا گیا کہ ہم بغیر جرم کسی کو عذاب نہیں دیتے۔

۴؎  یعنی تمہیں ان سے مادری محبت اور ان کے عذاب پرغم جبھی تک ہے جب تک تم نے اُن کاٹھکانا دیکھا نہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ جنتی ماں باپ اور دوزخی اولاد میں قطعًا محبت نہ ہوگی،وہاں محبت رشتۂ ایمان سے ہوگی نہ کہ رشتہ جان سے۔

۵؎  طیّب وطاہروقاسم جوبچپن میں فوت ہوگئے،ظہور اسلام سے قبل۔

۶؎  یہ حدیث اس حدیث کی ناسخ ہے جس میں فرمایا گیا تھا کہ مسلمانوں کے چھوٹے بچے اپنے مقدرہ اعمال کے مطابق جنتی یا دوزخی ہیں۔

۷؎  اس آیت سے دو مسئلےمعلوم ہوئے:ایک یہ کہ اگر ماں باپ میں سے کوئی مسلمان ہو تو بچہ مؤمن ہوگا۔دوسرے یہ کہ بچہ ماں باپ کے ساتھ رہے گا،ماں باپ کو کمی نہ دی جائے گی۔

118 -[40]  

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ آدم مسح ظَهره فَسقط من ظَهْرِهِ كُلُّ نَسَمَةٍ هُوَ خَالِقُهَا مِنْ ذُرِّيَّتِهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَجَعَلَ بَيْنَ عَيْنَيْ كُلِّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ وَبِيصًا مِنْ نُورٍ ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى آدَمَ فَقَالَ أَيْ رَبِّ مَنْ هَؤُلَاءِ قَالَ هَؤُلَاءِ ذُرِّيَّتُكَ فَرَأَى رَجُلًا مِنْهُمْ فَأَعْجَبَهُ وَبِيصُ مَا بَين عَيْنَيْهِ فَقَالَ أَي رب من هَذَا فَقَالَ هَذَا رجل من آخر الْأُمَم من ذريتك يُقَال لَهُ دَاوُدُ فَقَالَ رَبِّ كَمْ جَعَلْتَ عُمُرَهُ قَالَ سِتِّينَ سنة قَالَ أَي رب زده من عمري أَرْبَعِينَ سنة فَلَمَّا قضي عمر آدم جَاءَهُ ملك الْمَوْت فَقَالَ أَوَلَمْ يَبْقَ مِنْ عُمُرِي أَرْبَعُونَ سَنَةً قَالَ أولم تعطها ابْنك دَاوُد قَالَ فَجحد آدم فَجحدت ذُريَّته وَنسي آدم فنسيت ذُريَّته وخطئ آدم فخطئت ذُريَّته».رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب اﷲ نے حضرت آدم کو پیدا کیا تو ان کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا تو ان کی پشت سے تاقیامت ان کی اولاد کی روحیں نکلیں جنہیں اﷲ پیدافرمانے والا ہے اور ان میں سے ہر انسان کی دو آنکھوں کے بیچ نور کی چمک دی ۱؎  پھر انہیں آدم پر پیش فرمایا وہ بولے اے رب یہ کون ہیں فرمایاتمہاری اولاد۲؎  ان میں ایک شخص کو دیکھاتو ان کی آنکھوں کے درمیان کی چمک پسند آئی ۳؎  بولے اے رب یہ کون ہے فرمایا حضرت داؤد بولے اے رب ان کی عمرکتنی مقرر فرمائی ہے فرمایا ساٹھ سال۴؎ عرض کیا مولا میری عمر میں سے چالیس سال انہیں بڑھادے ۵؎ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب آدم کی عمر ماسوائے چالیس سال پوری ہوئی تو ان کی خدمت میں فرشتہ موت حاضر ہوا ۶؎  آدم بولے کیا ابھی میری عمر کے چالیس سال باقی نہیں فرمایا کہ وہ تم اپنے فرزند داؤد کو نہ دے چکے ۷؎  حضرت آدم انکاری ہوئے اس لئے انکی اولاد انکار کرنے لگی۸؎ حضرت آدم بھول کر درخت سے کھا گئے لہذا ان کی اولاد بھولنے لگی حضرت آدم نے خطا کی تو انکی اولاد خطائیں کرنے لگی ۹؎(ترمذی)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن