30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۳؎ کہ کیا کرے گا وہ کہاں اور کب مرے گا۔
۴؎ مضجع کے معنی ہیں پہلو رکھنے کی جگہ یعنی خوابگاہ،اثر،نشان،قدم کو کہتے ہیں یعنی کہاں رہے گا اور کہاں پھرے گا کہاں کہاں جائے گا اور کہاں دفن ہوگا یا دفن بھی نہ ہوگا۔
|
114 -[36] وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ تَكَلَّمَ فِي شَيْءٍ مِنَ الْقَدَرِ سُئِلَ عَنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَنْ لَمْ يَتَكَلَّمْ فِيهِ لم يسْأَل عَنهُ» . رَوَاهُ ابْن مَاجَه |
روایت ہےحضرت عائشہ صدیقہ سےفرماتی ہیں میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جو مسئلۂ تقدیر میں بحث کرے گا اس سے قیامت میں اس کی باز پرس ہوگی ۱؎ اور جو اس میں بحث نہ کرے گا اس سے پرسش نہ ہوگی ۲؎ (ابن ماجہ) |
۱؎ بطور عتاب کہ تو نے اس میں اپنا وقت ضائع کیوں کیا اور اس میں بحث کیوں کی؟خیال رہے کہ لوگوں کو گمراہ کرنے یا ان کے دلوں میں شک ڈالنے کے لئے یا جو لوگ کم عقل ہوں اُن کے سامنے مسئلۂ تقدیر چھیڑنا جرم ہے وہی یہاں مراد ہے مگر اس مسئلے کی تحقیق کرنے،شک دفع کرنے کے لیے بحث کرنا حق اور باعث ِ ثواب ہے۔لہذا وہ صحابہ یا علماءمعتوب نہیں جنہوں نے اس مسئلہ پر گمراہوں سے مناظرے کیے یا کتابیں تصنیف کیں۔
۲؎ عوام کے لیے ضروری ہے کہ اس کو مانیں بحث نہ کریں،ہم ماننے کے مکلف ہیں نہ کہ بحث کے،یہی حکم رب تعالٰی کے ذات و صفات کے مسئلے کا بھی ہے۔شعر
تو دل میں تو آتا ہےسمجھ میں نہیں آتا پہچان گیا میں تری پہچان یہی ہے
|
115 -[37] وَعَنِ ابْنِ الدَّيْلَمِيِّ قَالَ: أَتَيْتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ فَقُلْتُ لَهُ: قَدْ وَقَعَ فِي نَفْسِي شَيْء من الْقدر فَحَدثني بِشَيْء لَعَلَّ الله أَن يذهبه من قلبِي قَالَ لَو أَن الله عَذَّبَ أَهْلَ سَمَاوَاتِهِ وأَهْلَ أَرْضِهِ عَذَّبَهُمْ وَهُوَ غَيْرُ ظَالِمٍ لَهُمْ وَلَوْ رَحِمَهُمْ كَانَتْ رَحْمَتُهُ خَيْرًا لَهُمْ مِنْ أَعْمَالِهِمْ وَلَوْ أَنْفَقْتَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا قَبِلَهُ اللَّهُ مِنْكَ حَتَّى تُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ وَتَعْلَمَ أَنَّ مَا أَصَابَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَكَ وَأَنَّ مَا أَخْطَأَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَكَ وَلَوْ مُتَّ عَلَى غَيْرِ هَذَا لَدَخَلْتَ النَّارَ قَالَ ثُمَّ أَتَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ قَالَ ثُمَّ أَتَيْتُ حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ فَقَالَ مثل ذَلِك قَالَ ثُمَّ أَتَيْتُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَحَدَّثَنِي عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ ذَلِكَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ |
روایت ہے ابن دیلمی سے ۱؎ فرماتے ہیں میں ابی ابن کعب۲؎ کی خدمت میں حاضرہوا اورعرض کیامیرے دل میں تقدیر کےمتعلق کچھ شکوک پڑ گئے۳؎ مجھے کوئی حدیث سنائیے شاید اﷲ میرے دل سے وہ دور فرمادے۴؎ فرمایا اگراﷲ تعالٰی اپنے آسمانی اور زمینی بندوں کو عذاب دے تو وہ ان پر ظالم نہیں۵؎ اور اگر ان پر رحم فرمادے تو اس کی رحمت ان کے اعمال سے بہتر ہے۶؎ اور اگر تم احد برابر سونا اﷲ کی راہ میں خیرات کرو تو اﷲ قبول نہ کرے گا،جب تک تم تقدیر پر ایمان نہ لاؤ۷؎ اور یہ نہ جان لو کہ جو تمہیں پہنچا وہ تم سے بچ سکتا نہ تھا اور جو تم سے بچ گیا وہ تمہیں پہنچ سکتا نہ تھا۸؎ اور اگر تم اس کے سواکسی اور عقیدے پر مرے تو دوزخ میں جاؤ گے فرماتے ہیں پھر میں عبداﷲ ابن مسعود کے پاس گیا تو انہوں نے بھی یہ ہی فرمایا پھر میں حذیفہ ابن یمان کے پاس گیا تو انہوں نے بھی یہ ہی فرمایا پھر میں زید ابن ثابت ۹؎ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کی۱۰؎(احمد،ابوداؤد،ابن ماجہ) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع