دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 1 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول

۲؎  یعنی جنتی ہیں اور جنت میں جو درجہ ان کے باپ دادوں کا ہوگا وہی ان کا لہذا حضرت قاسم،ابراہیم وغیرہم حضور علیہ السلام کے ساتھ ہوں گے،اولاد تو بہت اعلٰی قرب رکھتی ہے۔ان شاءاﷲحضور کو چاہنے والے حضور کے ہمراہ ہوں گے،گلدستہ کی گھاس بھی پھول کے طفیل بادشاہ کے ہاتھ میں پہنچ جاتی ہے۔

۳؎  یعنی جنت کے داخلے کے لیے بالفعل عمل ہی شرط نہیں،تقدیری عمل بھی کافی ہے کہ اگر وہ زندہ رہتے تو مسلمان کے بچے تھے،اچھے ہی کام کرتے،اس بنا پر جنت میں جائیں گے بلکہ بعض گنہگارنیک کاروں کے طفیل جنتی ہیں جیسا کہ عرض کیا جاچکا ہے۔

۴؎  یعنی اُن کے ساتھ دوزخ میں۔

۵؎  کہ اگر وہ زندہ رہتے تو کافر کے بچے تھے،کفر ہی کرتے۔جمہور علماء کا قول یہ ہے کہ یہ جزو اُن آیات سے منسوخ ہے جن میں فرمایا کہ بلا جُرم دوزخ نہ دی جائے گی یہ بارہا عرض کیا جاچکا ہے۔رب تعالٰی فرماتاہے:"وَمَاکُنَّا مُعَذِّبِیۡنَ "الآیہ۔

112 -[34]  

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الوائدة والموؤدة فِي النَّار ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم  نے زندہ دفن کرنے والی ماں اور زندہ دفن کی ہوئی بچی دونوں دوزخ میں ہیں ۱؎  (ابوداؤد)

۱؎  مالدار کفارِ عرب اپنی لڑکیوں کو پیدا ہوتے ہی زندہ گاڑ دیتے تھے،حدیث کے ظاہری معنٰے یہ ہیں کہ یہ ماں اور بچی دونوں جہنمی۔ماں کفر حقیقی کی وجہ سے اور بچی کفر حکمی کی بنا پر،تب تو اس کی تحقیق وہ ہے جو پہلے گزر چکی۔ایک احتمال یہ ہے کہ وائدہ سے مراد وہ جنا نے والی دائی جو بچی کو دفن کراتی تھی اور موؤدہ سے مراد وہ ماں جس کی بچی دفن کی گئی،تو یہ حدیث بالکل ظاہر ہے کہ دونوں عورتیں اپنے اپنے کفر کی بنا پرجہنم میں گئیں۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

113 -[35]

عَن أبي الدرداد قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَرَغَ إِلَى كُلِّ عَبْدٍ مِنْ خَلْقِهِ مِنْ خَمْسٍ:مِنْ أَجَلِهِ وَعَمَلِهِ وَمَضْجَعِهِ وَأَثَرِهِ وَرِزْقِهِ ". رَوَاهُ أَحْمَدُ

روایت ہے ابوالدرداءسے  ۱؎  فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ یقینًا اﷲ تعالٰی اپنی مخلوق میں ہر بندہ کے متعلق پانچ چیزوں سے فارغ ہوچکا ہے ۲؎   اس کی موت سے،اس کے عمل سے  ۳؎  ہر حرکت وسکون سے ۴؎   اور اس کے رزق سے۔(احمد)

۱؎  آپ کا نام شریف عویمر ابن عامر ہے،انصاری ہیں،خزرجی ہیں۔دردا ء ان کی بیٹی کا نام ہے یہ اپنے گھر والوں میں سب سے پیچھے ایمان لائے،فقیہ،عابد صحابی ہیں،شام میں قیام فرمایا،  ۳۲ھ؁ میں دمشق میں وفات پائی،وہیں مدفون ہیں۔

۲؎  یعنی اٹل فیصلہ فرماچکا ورنہ رب تعالٰی شغولیت اور فراغت سے پاک ہے اگرچہ رب تعالٰی کا فیصلہ ہرقسم کا ہوچکا ہے مگر خصوصیت سے ان پانچوں کا ذکر اس لیے فرمایا کہ انسان کو ان کی فکر زیادہ رہتی ہے۔مطلب یہ ہے کہ تم ان فکروں میں زندگی برباد کیوں کرتے ہوجو فیصلہ ہوچکا وہ ہوکر رہے گا۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن