30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۴؎ یعنی لوگوں کے خلاف مرضی اُن کا ناجائز حاکم بن جانے والا جیسا آج کل علی العموم ہورہا ہے۔خیال رہے کہ قوم یا ملک کے بگڑنے کی صورت میں اس کو سنبھالنے کے لیے زمامِ حکومت ہاتھ میں لے لینا سنت یوسف علیہ السلام ہے۔یہاں وہ حکام مراد ہیں جو دین و ملک کو بگاڑنے کے لیے حاکم بنیں،فاسقوں کو مرتبے دیں،علماء واولیاء کو ذلیل کرنے کی کوشش کریں۔
۵؎ یعنی مکہ مکرمہ کے حدود میں فتنہ،فساد،شکار اور قطع اشجار وغیرہ وہ کام کرنے والا جو شریعت نے علی العموم یا وہاں حرام کیے۔
۶؎ یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد کی بے حرمتی،اُن پر ظلم و ستم کرنے والا،عترت رسول اﷲ اولادِ فاطمہ زہرا ہے ان کی تعظیم داخل فی الدین ہے،جب قرب کعبہ کی وجہ سے حرم کی زمین کا احترام ہے تو قرابت ِ مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے سادات کرام کا احترام یقینًالازم ہے،یا اس جملے کے معنے یہ ہیں کہ جو میری اولاد ہو اور اﷲ کے حرام کو حلال جانے اس پر لعنت ہے۔(اشعۃ اللمعات)کہ اگرچہ جرم سب کے لیے بُرا مگر سادات کے لیے زیادہ بُرا،اس سے سید حضرات کو عبرت پکڑنی چاہیے وہ اپنے باپ دادوں کا نمونہ بنیں صرف سیّد ہونے پر فخر نہ کریں۔
۷؎ حقیر جان کر سنتِ رسول اﷲ مؤکدہ ہو یا غیر مؤکدہ زائدہ ہو یا ھُدٰی اس کو حقیر جاننا،مذاق اُڑانا قطعًا کفر ہے۔سنت ھُدٰی کا ہمیشہ چھوڑنے والاحضور کی ایک شفاعت سےمحروم رہے۔
|
110 -[32] وَعَن مطر بن عكام قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«إِذَا قَضَى اللَّهُ لِعَبْدٍ أَنْ يَمُوتَ بِأَرْضٍ جَعَلَ لَهُ إِلَيْهَا حَاجَةً».رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيّ |
روایت ہے مطر بن عکاس سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب اﷲ تعالٰی کسی بندے کے متعلق کسی زمین میں مرنے کا فیصلہ فرمادیتا ہے تو اس کے لئے وہاں ضروری کام ڈال دیتا ہے ۲؎ (احمدوترمذی) |
۱؎ آپ سلمی ہیں،اہلِ کوفہ سے آپ کا شمار ہے،آپ سے صرف یہی ایک حدیث مروی ہے آپ کی صحابیت میں اختلاف ہے،حق یہ ہے کہ آپ صحابی ہیں،صحابیت کے لیے ایک آن صحبت پاک کافی ہے۔
۲؎ دنیوی یادینی چنانچہ بعض لوگ زیارتِ روضہ کے لیے یا حج کے لیئے مدینہ پاک یا مکّہ مکرمہ جاتے ہیں اور وہاں انتقال ہوجاتا ہے ایسی حاجت بھی مبارک اورموت بھی۔
|
111 -[33] وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَرَارِيُّ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَ: «مِنْ آبَائِهِمْ» . فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ بِلَا عَمَلٍ؟ قَالَ: «اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ» . قُلْتُ فذاراري الْمُشْرِكِينَ؟ قَالَ:«مِنْ آبَائِهِمْ».قُلْتُ:بِلَا عَمَلٍ؟ قَالَ:«اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہےحضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسےفرماتی ہیں میں نے عرض کیا یارسول اﷲ مسلمانوں کے بچے ۱؎ (کہاں جائیں گے) فرمایا وہ اپنے باپ دادوں سے ہیں ۲؎ تو میں بولی یارسول اﷲ بغیر عمل فرمایا اﷲ جانتا ہے وہ کیا کرتے۳؎ میں نے عرض کیا تو کفار کے بچے،فرمایا وہ اپنے باپ دادوں سے ہیں۴؎ میں بولی بغیر کچھ کیئے فرمایا اﷲ خوب جانتا ہے جو وہ کرتے۵؎ (ابوداؤد) |
۱؎ یعنی جو ہوش سے قبل فوت ہوجائیں وہ کہاں جائیں گے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع