30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الگ رہے جان بچانا ہے تو سانپ سے بھاگو،ایمان بچاناہے تو بے دینوں سے بھاگو،قدریہ یا تو کافر ہیں یا گمراہ،بہرحال ان کی صحبت زہر قاتل ہے۔
|
108 -[30] وَعَنْ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُجَالِسُوا أَهْلَ الْقَدَرِ وَلَا تفاتحوهم» رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے قدریوں کے ساتھ نشست و برخاست نہ رکھو ۱؎ نہ ان سے کلام کی ابتداءکرو ۲؎ (ابوداؤد) |
۱؎ محبت اورمیل ملاپ کے طور پر تبلیغ یا مناظرہ کے لیے ٹھوس علماء کا اُن کے پاس جانا جائز ہے،پلپلے مسلمان بہرحال ان سے بچیں۔فی زمانہ قادیانیوں،وہابیوں،روافض سب کا یہی حکم ہے اگرمسلمان اس حدیث پر عمل کرتے تو یہ دین پھیلتے ہی نہیں،رب تعالٰی فرماتا ہے:"فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّکْرٰی مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیۡنَ"۔
۲؎ لَاتُفَاتِحُوْا،فَتْح سے بنا بمعنےٰ ابتداءیا فیصلہ"رَبَّنَا افْتَحْ بَیۡنَنَا"یہ یعنی انہیں حاکم یا پنج نہ بناؤ،یا ان سے بات چیت اور مناظرہ وغیرہ کی ابتداء نہ کرو تاکہ فتنہ نہ ہو،اس سے پتہ لگاکہ بیدینوں کے جلسوں میں جانا،ان کی کتب کا مطالعہ کرنا،انہیں دعوتیں کھِلانا سب ناجائز ہیں۔
|
109 -[31] وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سِتَّةٌ لَعَنْتُهُمْ وَلَعَنَهُمُ اللَّهُ وَكُلُّ نَبِيٍّ يُجَابُ: الزَّائِدُ فِي كِتَابِ اللَّهِ وَالْمُكَذِّبُ بِقَدَرِ اللَّهِ وَالْمُتَسَلِّطُ بِالْجَبَرُوتِ لِيُعِزَّ مَنْ أَذَلَّهُ اللَّهُ وَيُذِلَّ مَنْ أَعَزَّهُ اللَّهُ وَالْمُسْتَحِلُّ لِحَرَمِ اللَّهِ وَالْمُسْتَحِلُّ مِنْ عِتْرَتِي مَا حَرَّمَ اللَّهُ وَالتَّارِكُ لِسُنَّتِي ". |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھ آدمی وہ ہیں جن پر میں نے اور اﷲ نے لعنت کی ۱؎ اور ہر نبی مقبول الدعاء ہے ۲؎ اﷲ کی کتاب میں زیادتی کرنے والا ۳؎ اﷲ کی تقدیر کا انکاری،جبرًا قبضہ جمانے والا تاکہ انہیں ذلیل کرے جنہیں اﷲ نے عزت دی او ر انہیں عزت دے جنہیں اﷲ نے ذلیل کیا۴؎ اور اﷲ کے حرام کو حلال سمجھنے والا۵؎ اور میری آل کے متعلق وہ باتیں حلال سمجھنے والا جنہیں اﷲ نے حرام کیا۶؎ اور میری سنت کو چھوڑنے والا۷؎ |
۱؎ لعنت کے معنی ہیں دُوری جب اس کا فاعل بندہ ہو تو معنٰے ہوتے ہیں دُوریٔ رحمت کی بددعا کرنا،اور اگر فاعل ربّ ہو تو معنٰے ہوتے ہیں رحمت سے دور کرنا،کسی مسلمان پر نام لے کر لعنت جائز نہیں،وصفِ اجمالی سے لعنت جائز جیسے جھوٹوں اور زانیوں پر خدا کی لعنت،نیز اُن کفار پر بھی لعنت جائز ہے جن کا کفر پر مرنا یقینی ہوچکا جیسے ابوجہل و ابولہب وغیرہ۔لِعان میں لعنت و صف ہی پر ہے اس حدیث میں بھی یہی لعنت ہے۔
۲؎ یعنی ہر نبی کی ہر دعا قبول اگر ان کی کوئی دعا خلاف قضاء وقدر ہوجائے تو ان کو دعا مانگنے سے روک دیا جاتاہے ردّ وہ بھی نہیں ہوتی،رب نے ابراہیم علیہ السلام سے فر مایا"یٰۤـاِبْرٰہِیۡمُ اَعْرِضْ عَنْ ہٰذَا"۔
۳؎ قرآن ہو یا کوئی آسمانی کتاب لفظی زیادتی کرے یامعنوی۔اس سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جنہوں نے آج قرآن کی تفسیر کو کھیل سمجھ رکھا ہے اور آیات کے وہ معانی کررہے ہیں جو آج تک کسی مؤمن کے خیال میں بھی نہ تھے،علماء فرماتے ہیں کہ قرآن کریم کی شاذ قراتیں حدیث کے حکم میں ہیں وہ قرآن نہیں نہ اس کی تلاوت جائز۔(مرقاۃ)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع