30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ سبحان اﷲ!یہ ہے صحابہ کرام کا ایمان وہ دعا سنتے ہی سمجھ گئے کہ یہ دعا ہمارے لیے ہے نہ کہ خود حضور کے اپنے لیے۔خیال رہے کہ عَلَیْنَاسےمرادتاقیامت عام مسلمان ہیں ورنہ بعض صحابہ حضور کے کرم سے اس سے مستثنٰے ہیں۔فرماتے ہیں کہ عمر کے سایہ سے شیطان بھاگتا ہے،حضور کی نگاہ سے ڈگمگاتے جم جاتے ہیں رب تعالٰی فرماتا ہے:"اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللہِ لَاخَوْفٌ عَلَیۡہِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُوۡنَ "۔
۳؎ عنی جن و انس کے دل اس کی تفسیر پہلے بارہا گرچکی۔
|
103 -[25] وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَثَلُ الْقَلْبِ كَرِيشَةٍ بِأَرْضِ فَلَاةٍ يُقَلِّبُهَا الرِّيَاحُ ظَهْرًا لِبَطْنٍ» . رَوَاهُ أَحْمد |
روایت ہے ابو موسیٰ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے دل کی مثال اس پر کی سی ہے جو میدانی زمین میں ہو جسے ہوائیں ظاہروباطن الٹیں پلٹیں ۱؎ (احمد) |
۱؎ دل گویا پَتّہ ہے دنیا بڑا میدان اورصحبتیں تیز ہوائیں اگر یہ پتہ کسی بھاری پتھر کے نیچے آجائے تو ہواؤں کی زد سے محفوظ رہتا ہے اگر ہم گنہگارکسی شیخ کی پناہ میں آجائیں تو ان شاءاﷲ بے دینی سے محفوظ رہیں گے بیعت مرشد کا یہ ہی منشاءہے۔
|
104 -[26] وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتَّى يُؤْمِنَ بِأَرْبَعٍ: يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ بَعَثَنِي بِالْحَقِّ وَيُؤْمِنُ بِالْمَوْتِ وَالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ وَيُؤْمِنُ بِالْقَدَرِ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْن مَاجَه |
روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت تک بندہ مؤمن نہیں ہوتا جب تک چار باتوں پر ایمان نہ لائے گواہی دے کے اﷲ کے سواکوئی معبود نہیں اور میں اﷲ کا رسول ہوں مجھے اﷲنےحق کےساتھ بھیجا اور مرنے اورمرے بعد اٹھنے ۱؎ اور تقدیر پر ایمان لائے۲؎ (ترمذی،وابن ماجہ) |
۱؎ موت میں دہریوں کا رد ہے کہ وہ شخصی موت کے تو قائل ہیں مگر عالم کی مجموعی موت کے قائل نہیں اور اٹھنے میں منکرین قیامت کا رد ہے یعنی یہ بھی مانیں کہ سارے عالم کوفنا ہے اور یہ بھی کہ بعد موت سزاو جزا کے لیے اٹھنا ہے اورممکن ہے کہ موت سے مرادشخصی موت ہو اوراٹھنے سے قبر میں اٹھنا۔
۲؎ کہ نہ جبریہ بن کر انسان کو مجبورمحض مانے اور نہ قدریہ بن کرتقدیر کا انکارکرے،اوراپنےکوقادرِمطلق جانے۔
|
105 -[27] وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "صِنْفَانِ مِنْ أُمَّتِي لَيْسَ لَهُمَا فِي الْإِسْلَامِ نَصِيبٌ: الْمُرْجِئَةُ وَ الْقَدَرِيَّةُ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ |
روایت ہے حضرت عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری امت کے دو گروہ ہیں ۱؎ جن کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں مرجیہ اور قدریہ ۲؎ اسے ترمذی نے روایت کیا اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔ |
۱؎ اُمت سے مراد یا تو اُمت دعوت ہے جس میں کافر بھی شامل ہیں یا امت اجابت یعنی کلمہ گو،جنہیں قومی حیثیت سے مسلمان کہا جاتا ہے دیکھو مسلمانوں کے۷۲ناری فرقے قومی مسلمان ہیں،اور ایک فرقہ ناجیہ قومًا بھی مسلمان اور مذہبًابھی،لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ ان کافرگروہوں کوحضور علیہ الصلوۃ والسلام نے اُمت کیوں فرمایا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع