دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 1 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول

۴؎  یعنی جیسے انسانوں کی مختلف صورتیں مختلف مٹیوں کی وجہ سے ہیں ایسے ہی ان کی سیرتیں بھی مختلف مٹیوں کے اثرات سے مختلف ہیں کہ جن میں نرم مٹی کے اجزاءغالب ہیں ان کی طبیعت نرم ہے،اور سخت مٹی والوں کی طبیعت بھی سخت،جو گندی مٹی سے بنے وہ طبیعت کے گندے ہیں،پاک مٹی والے طبیعت کے پاک صاف۔خیال رہے کہ جیسے جسم کا اصلی رنگ نہیں بدلتا ایسے ہی انسان کی اصلی فطرت نہیں بدلتی،اور جیسے پوڈر یا سیاہی کا عارضی رنگ اترجاتا ہے،ایسے ہی طبیعت کی عارضی حالتیں تبدیل ہوجاتی ہیں۔ابوجہل کا کفر اصلی تھا نہ دُھل سکا،عمر فاروق کا عارضی،ایک نگاہِ مصطفے نے دھوکرپھینک دیا۔

101 -[23]  

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٌو قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ خَلْقَهُ فِي ظُلْمَةٍ فَأَلْقَى عَلَيْهِمْ مِنْ نُورِهِ فَمَنْ أَصَابَهُ مِنْ ذَلِكَ النُّورِ اهْتَدَى وَمَنْ أَخْطَأَهُ ضَلَّ فَلذَلِك أَقُول: جف الْقلب على علم الله ". رَوَاهُ أَحْمد وَالتِّرْمِذِيّ

روایت ہے عبداﷲ بن عمروسےفرماتے ہیں میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کو فرماتے سنا کہ اﷲ نے اپنی مخلوق اندھیرے میں پیدا کی ۱؎  پھر ان پر اپنی شعاع نور ڈالی ۲؎  جسے اس نور سے کچھ پہنچا وہ ہدایت پا گیا۳؎ جوا س سے رہ گیا گمراہ ہوگیا۴؎  اسی لیئے میں کہتا ہوں کہ قلم اﷲ کے علم پرسوکھ چکا ۵؎  (احمدوترمذی)

۱؎  یعنی جِنّ وانس نہ کہ فرشتے یہ دونوں فریق پیدائش کے وقت نفسانی اورشہوانی اندھیریوں میں تھے۔

۲؎  یعنی ایمان اورمعرفت کی روشنی معلوم ہوا کہ تاریکی ہماری اصلی حالت ہے،روشنی رب کا کرم،گناہ ہم خود کرتے ہیں،نیکی وہ کرالیتا ہے مٹی کے ڈھیلے کی طرح لیجیے ہم خود گرتے ہیں،اپنے کرم سے  اوراوپر وہ اٹھالیتا ہے۔

۳؎ جنّت کے راستہ کی جن پر گہراچھینٹا پڑا وہ انبیاء یا اولیاء ہوئے جن پر ہلکا پڑا وہ مؤمن ہوئے۔

۴؎  یعنی کافر رہا،خیال رہے کہ تاریکی میں پیدائش  میثاق والے اقرار سے پہلے ہے،سب لوگ پہلے ہی تقسیم ہوچکے تھے،معاہدے کے وقت مؤمن وں نے خوشی سے بلٰی کہا تھا اور کافروں نے ناخوشی سے،اسی اقرار پرماں کے پیٹ سے پیدا ہوئے،لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں کہ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے،وہاں فطرت سے مراد یہ اقرار ہے۔

۵؎  یعنی جو لکھنا تھا وہ لکھ دیا۔خیال رہے کہ اس سے انسان کا جبر لازم نہیں آتا کیونکہ وہاں یہی لکھا جاچکا ہے،کہ یہ بندہ اپنی خوشی سے یہ کام کرے گا کام بھی تحریر میں آچکے اور اس کا ارادہ اور خوشی بھی۔

102 -[24]  

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ: «يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ»فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ آمَنَّا بِكَ وَبِمَا جِئْتَ بِهِ فَهَلْ تَخَافُ عَلَيْنَا؟ قَالَ: «نَعَمْ إِنَّ الْقُلُوبَ بَيْنَ أُصْبُعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ اللَّهِ يُقَلِّبُهَا كَيْفَ يَشَاءُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه

روایت ہےحضرت انس سے کہ رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم  اکثر یہ فرماتے تھے اے دلوں کے پھیرنے والے میرا دل  اپنے دین پر ثابت رکھ ۱؎  میں نے عرض کیا یا نبی اﷲ ہم آپ پراورآپ کی تمام لائی ہوئی چیزوں پر ایمان لاچکے تو کیا اب بھی آپ ہم پر اندیشناک ہیں۲؎  فرمایا ہاں لوگوں کے دل اﷲ کی انگلیوں میں سے دوانگلیوں کے بیچ میں جدھر چاہے پھیر دے۳؎  (ترمذی وابن ماجہ)

۱؎   یہ دعاتعلیم امّت کے لیے ہے تاکہ لوگ سن کرسیکھ لیں ورنہ نبی  کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دینِ حق سے ہٹ جانا ایسے ہی ناممکن ہے جیسے خدا کا شریک بلکہ جس پر وہ نگاہِ کرم کردیں وہ نہیں پھسل سکتا عثمان غنی سے فرمادیا کہ جو چاہوکرو مگر وہ گناہ نہ کرسکےجیساکہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن