30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱۲؎ یہ قرآن پاک کی آیت سے اقتباس ہے اور بندوں سے مراد انسان ہیں کیونکہ جنت میں ثواب کے لیے انسانوں کے سوا کوئی نہ جائے گا یہ آدم علیہ السلام کی میراث ہے انہی کی اولادکو ملیگی۔
|
97 -[19] وَعَن أبي خزامة عَن أَبِيه قَالَ سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ رُقًى نَسْتَرْقِيهَا وَ دَوَاءً نَتَدَاوَى بِهِ وَتُقَاةً نَتَّقِيهَا هَلْ تَرُدُّ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ شَيْئًا قَالَ:«هِيَ مِنْ قَدَرِ الله».رَوَاهُ أَحْمد وَالتِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه |
روایت ہے ابو خزامہ سے وہ اپنے والد سے راوی ۱؎ فرماتے ہیں میں نےعرض کیا یارسول اﷲ مطلع فرمائیے کہ جو منترہم کرتے ہیں۲؎ جو دوائیں اور پرہیز ہمارے استعمال میں آتے ہیں ۳؎ کیا یہ اﷲ کی تقدیر پلٹ دیتے ہیں فرمایا یہ خود اﷲ کی تقدیر سے ہیں ۴؎ (احمد،ترمذی،ابن ماجہ) |
۱؎ ان کے والد کے نام میں اختلاف ہے غالباان کا نام یَعْمُر ہے جو بنی حارث ابن سعد قبیلہ سے تعلق رکھتے ہیں یہ ابوخزامہ خود تابعی ہیں،ابو خزامہ صحابی دوسرے ہیں۔
۲؎ یعنی تعویذ گنڈے دم درود جھاڑ پھونک اگر قرآنی آیات یا حدیث کی دعاؤں یا بزرگوں کے اعمال سے ہوں تو جائز،ورنہ ممنوع۔اس کی پوری بحث انشاء اﷲ کِتَابُ الطّبّ وَالرُّقیٰ میں آئے گی۔
۳؎ یعنی بیماری میں دوائیں استعمال کرتے ہیں اور مضر چیز سے بچتے ہیں یا جنگ میں ڈھال وغیرہ سے دشمن کا حملہ دفع کرتے ہیں۔
۴؎ یعنی ان کا استعمال جائز ہے اور تقدیر میں یہی لکھا جاچکا ہے کہ فلاں بیماری،فلاں دوایاتعویذ سے جائے گی اور فلاں مصیبت اس جھاڑ پھونک یا اس پرہیز سے دفع ہوگی،یعنی مصیبتوں کا آنا اور ان تدابیرسےجاناسب مقدرمیں شامل ہے،تدبیرتقدیر کے خلاف نہیں۔اس سےمعلوم ہواکہ گنڈاتعویذجھاڑپھونک مثل دوا کے علاج ہیں اور جائز ہیں کہ سنتِ صحابہ اور سنّتِ رسول اﷲ ہیں،اس کا پورا ایک باب آنے والا ہے۔
|
98 -[20] وَعَن أبي هُرَيْرَة قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَتَنَازَعُ فِي الْقَدَرِ فَغَضِبَ حَتَّى احْمَرَّ وَجْهُهُ حَتَّى كَأَنَّمَا فُقِئَ فِي وجنتيه الرُّمَّانِ فَقَالَ أَبِهَذَا: «أُمِرْتُمْ أَمْ بِهَذَا أُرْسِلْتُ إِلَيْكُمْ إِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلُكُمْ حِينَ تنازعوا فِي هَذَا الْأَمر عزمت عَلَيْكُم أَلا تتنازعوا فِيهِ».رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ |
روایت ہے ابوہریرہ سے فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے حالانکہ ہم مسئلہ تقدیر پر جھگڑ رہے تھے ۱؎ تو آپ ناراض ہوئے حتی کہ چہرہ انور سرخ ہوگیا گویا کہ رخساروں میں انار کے دانے نچوڑ دیئے گئے ہیں۲؎ اور فرمایا کیا تمہیں اس کا حکم دیا گیا ہے یا میں اسی کے ساتھ تمہاری طرف بھیجا گیا۳؎ تم سے پہلے لوگوں نے جب اس مسئلہ میں جھگڑے کیئے تو ہلاک ہی ہوگئے۴؎ میں تم پر لازم کرتا ہوں لازم کرتا ہوں کہ اس مسئلہ میں نہ جھگڑو ۵؎ (ترمذی) |
۱؎ کہ جب جو کچھ ہم کرتے ہیں ارادۂ الٰہی سے کرتے ہیں،توہم مجبور ہوئے،پھر اس پر ثواب اور عذاب کیسا؟ وغیرہ جیسے آج کل کی عام گفتگوئیں۔
۲؎ یعنی غضب کے آثار چہرے پرنمودار ہوگئے۔حضور علیہ السلام کا یہ غصّہ نفس کے لئے نہ تھا بلکہ اﷲ تعالٰی کے لئے اورصحابہ کو تعلیم دینے کی غرض سے تھا،یہ غصہ عبادت ہے جس پر بڑا ثواب۔اس سے معلوم ہوا کہ استاد شاگردوں پر اور پیرمریدوں پر ناراض ہوسکتا ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع