30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کر دے اوراُسے کوئی راستہ نہ سجھائی دے اور گھمنڈی اور اترانے والے کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس وقت تک موت نہیں دیتا جب تک اسے اسی کے پیشاب وپاخانے سے آلودہ نہ کر دے ۔
منقول ہے کہ ’’جو ناحق تکبر کرے گا اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے ضرور رسوا فرمائے گا ۔ ‘‘
(4)…تکبر کرنے والا آخرت میں عذاب نار کا مستحق ہو گا ۔ مروی ہےکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ارشاد فرمایا : تکبر میری چادر اور عظمت میرا ازار ہے تو جو ان دونوں میں سے کسی ایک کو بھی مجھ سے لینے کی کوشش کرے گا میں اسے جہنم کی آگ میں ڈال دوں گا ۔ (1) مطلب یہ ہے کہ عظمت اور کبریائی وہ صفات ہیں جو صرف میرے ساتھ خاص ہیں اور میرے سوا کسی کو لائق نہیں ، جیسا کہ ہر انسان کی چادر اور ازار اسی کے ساتھ خاص ہوتا ہے، اس میں کوئی دوسرا شریک نہیں ہوتا ۔
پھر جب تکبرجیسی مذموم صفت تم سے حق کی معرفت فوت کر دیتی ہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی آیات واحکام کوسمجھنے سے روکتی ہے جبکہ یہ آیات واحکام ہر چیز کی اصل ہیں نیز اس تکبر کی وجہ سے تمہیں ربّ تعالیٰ کی ناراضی وغضب، دنیا میں ذلت ورسوائی اور آخرت میں عذابِ دوزخ کا سامنا کرنا پڑے گاتو عقل مند کے لئے کوئی گنجائش نہیں کہ وہ اپنے نفس سے غافل رہے اورتکبر سے بچ کراور اس سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی پناہ طلب کرکے اپنی اصلاح نہ کرے ۔ بے شک اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی اپنے فضل وکرم سے توفیق دینے اور حفاظت فرمانے والا ہے ۔
یہ چار آفات کی مختصر وضاحت تھی اوراپنے دل کو اہمیت دینے اور اپنے دین کی حفاظت کرنے والے عقلمند کی نصیحت کے لیے ان میں سے ایک ہی آفت کافی ہے ۔
[1] ابو داود، کتاب اللباس، باب ماجاء فی الکبر، ۴ / ۸۱، حدیث : ۴۰۹۰
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع