30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نقش نعلین پاک
فتویٰ:15
نقش نعلین پاک کی فضیلت اور چند احکام
کیافرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ:
(1)حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ و الہ وسلم کے نعلین پاک کا نقش لگانے کی کیا فضیلت و فائدہ ہے؟
(2) نقشِ نعلین پاک کو زمین پر رکھنا کیسا ؟
(3)اگر کوئی شخص کہے کہ یہ نقش نعلین مبارک جو لوگوں میں مشہور ہے ،اصل نہیں ہے، آقا صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا نعلین مبارک اور قسم کا تھا، اس لیے وہ نعلین مبارک نہ لگانے دے، تو اس کے بارے میں کیا حکم ہے ؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق وا لصواب
(1)ہمارے آقا و مولامحمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے نعلین مبارک کا نقش بنا کر اپنے پاس رکھنا یا لگانا باعث برکت ہے ، جس کے فوائد بے شمار ہیں اوراس کی فضیلت و برکت پر ائمہ کرام نے باقاعدہ کتب تصنیف فرمائیں اوران میں نعلین پاک کے نقشے تحریر فرمائےاور نقش مبارک کو بوسہ دینے ،آنکھوں سے لگانے، سر پر رکھنے کا حکم فرماتے رہے اور دفعِ امراض (بیماری دور کرنے) وحصولِ اغراض (غرض و مقصد حاصل کرنے)میں اس سے توسل کرتے رہے اور بفضلِ الٰہی عظیم وجلیل برکات وآثار اس سے پاتے رہے ہیں۔علماء فرماتے ہیں جس کے پاس نعلین مبارک کا نقش ہوگا، وہ ظالموں کے ظلم ، حاسدوں کی نظراور شیطان کے شر سے محفوظ رہے گااورجو ہمیشہ پاس رکھے گا،لوگوں میں معزز ہوگا ،اسے زیارت روضہ مقدسہ نصیب ہو گی یا خواب میں زیارتِ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و اٰلہ وسلم سے مشرف ہوگا،جس قافلہ میں نقشِ نعل پاک ہو،نہ لُٹے، جس کشتی میں ہو نہ ڈوبے، جس مال میں ہو چوری نہ ہو، جس حاجت میں اس سے توسل کیا جائے پوری ہو ،جس مراد کی نیت سے پاس رکھیں پوری ہو ،اس باب میں حکایت صلحاءوروایات علماء بہت زیادہ ہیں۔
علامہ محمد بن احمد بن علی فاسی قصری مطالع المسرات میں فرماتے ہیں:’’ وقد استنابوا مثال النعل عن النعل وجعلوہ لہ من الاکرام و الاحترام ما للمنوب عنہ و ذ کروا لہ خواصا و برکات و قد جربت وقال فیہ اشعارا کثیرۃ والفوا فی صورتہ ورووہ بالاسانید وقد قال القائ ل :۔
اذا ماالشوق اقلقنی الیھا
نقشت مثالھا فی الکف نقشا
ولم اظفر بمطلوبی لدیھا
وقلت لنا ظری قصرا علیھا
علمائے کرام نے نعلِ مقدس کے نقش کو نعل مقدس کا قائم مقام بنایا اور اس کے لیے وہی اکرام واحترام جو اصل کے لیے تھا، ثابت ٹھہرایا اور اس نقشِ مبارک کےلیے خواص وبرکات ذکر فرمائے اور بلاشبہ وہ تجربے میں آئے اور اس میں کثیر اشعار کہے اور اس کی تصویر میں کتب تالیف کیں اور اسے سندوں کے ساتھ روایت کیا اور کہنے والے نے کہا:جب اس کی آتش شوق میرے سینے میں بھڑکتی ہے اور اس کا دیدار میسر نہیں ہوتا، تواس کی تصویر ہاتھ پر کھینچ کر آنکھ سے کہتاہوں اسی پر بس کر۔‘‘ ( مطالع المسرات،ص144، المکتبۃ النوریۃ الرضویۃ، فیصل آباد)
امام قسطلانی نےلکھا کہ ابواسحاق ابراہیم بن الحاج فرماتے ہیں کہ ان کے شیخ الشیخ ابوالقاسم بن محمد نے فرمایا:’’ ومما جرب من برکتہ ان من امسکہ عندہ متبرکابہ کان لہ امانا من بغی البغاۃ وغلبۃ العداۃ وحرزا من کل شیطان مارد وعین کل حاسد وان امسکت المرأۃ الحامل بیمینھا وقد اشتد علیھا الطلق تیسرامرھا بحول اﷲ تعالی وقوتہ ‘‘یعنی:نقشِ نعل مبارک کی آزمائی ہوئی برکات سے یہ ہے کہ جو شخص تبرک کی نیت سے اسے اپنے پاس رکھے، ظالموں کے ظلم اور دشمنوں کے غلبے سے امان پائے اور وہ نقشِ مبارک کی برکت سےہر شیطان سرکش سے اور حاسد کی نظر سے محفوظ ہو جائے اور حاملہ عورت درد زہ کی شدت میں اگر اسے اپنے داہنے ہاتھ میں لے ،بعنایت الٰہی اس کا کام آسان ہو۔(المواھب اللدنیہ،المقصد الثالث ،ج2،ص467،المکتب الاسلامی ،بیروت )2
امام احمدرضاخان علیہ رحمۃ الرحمن فتاویٰ رضویہ میں فرماتے ہیں:’’ اسی طرح طبقۃً فطبقۃشرقاً غرباً عرباً عجماً علمائے دین وائمہ معتمدین نعل مطہر حضور سید البشر علیہ افضل الصلوٰۃ واکمل السلام کے نقشے کاغذوں پر بناتے کتابوں میں تحریر فرماتے آئے اور انہیں بوسہ دینے آنکھوں سے لگانے سر پر رکھنے کا حکم فرماتے رہے اور دفعِ امراض وحصول اغراض میں اس سے توسل فرمایا کیے اور بفضل الٰہی عظیم وجلیل برکات وآثار اس سے پایا کیے ۔
علامہ ابوالیمن ابن عساکر وشیخ ابواسحٰق ابراہیم بن محمد بن خلف سلمی وغیرہما علما نے اس باب میں مستقل کتابیں تصنیف کیں اور علامہ احمد مقتری کی فتح المتعال فی مدح خیر النعال اس مسئلہ میں اجمع وانفع تصانیف سے ہے۔ محدث علامہ ابوالربیع سلیمان بن سالم کلاعی وقاضی شمس الدین ضیف اللہ رشیدی وشیخ فتح اللہ بیلونی حلبی معاصر علامہ مقتری وسید محمد موسیٰ حسینی مالکی معاصر علامہ ممدوح وشیخ محمد بن فرج سبتی وشیخ محمد بن رشید فہری سبتی وعلامہ احمد بن محمد تلمسانی موصوف وعلامہ ابوالیمن ابن عساکر وعلامہ ابوالحکم مالک بن عبدالرحمن بن علی مغربی وامام ابوبکر احمد ابو محمد عبداللہ بن حسین انصاری قرطبی وغیرہم رحمۃ اللہ تعالٰی علیہم اجمعین نے نقشہ نعل مقدس کی مدح میں قصائد عالیہ تصنیف فرمائے ،ان سب میں اسے بوسہ دینے سرپر رکھنے کا حکم واستحسان مذکور اوریہی مواہب لدنیہ امام احمد قسطلانی وشرح مواہب علامہ زرقانی وغیرہما کتب جلیلہ میں مسطور وقد لخصنا اکثر ذٰلک فی کتابنا المزبور ۔( اور ہم نے اکثر کا خلاصہ اپنی مذکور ہ کتاب میں ذکر کیا ہے۔)
علماء فرماتے ہیں جس کے پاس یہ نقشہ متبرکہ ہو ظلم ظالمین وشر شیطان وچشم زخم حاسدین سے محفوظ رہے۔عورت دردزہ کے وقت اپنے داہنے ہاتھ میں لے آسانی ہو، جو ہمیشہ پاس رکھے نگاہ خلق میں معزز ہو زیارت روضہ مقدس نصیب ہو یا خواب میں زیارت حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے مشرف ہو، جس لشکر میں ہونہ بھاگے، جس قافلہ میں ہو نہ لٹے، جس کشتی میں ہو نہ ڈوبے ،جس مال میں ہو نہ چُرے، جس حاجت میں اس سے توسل کیا جائے پوری ہو، جس مراد کی نیت سے پاس رکھیں حاصل ہو، موضع درد ومرض پر اسے رکھ کر شفائیں ملی ہیں، مہلکوں مصیبتوں میں اس سے توسل کرکے نجات وفلاح کی راہیں کھلی ہیں، اس باب میں حکایاتِ صلحا وروایات علما بکثرت ہیں کہ امام تلسمانی وغیرہ نے فتح المتعال وغیرہ میں ذکر فرمائیں۔‘‘ (فتاویٰ رضویہ،ج21،ص413،رضافاؤنڈیشن،لاہور)3
(2)اس سوال کا جواب بھی گزشتہ جواب سے واضح ہو چکا کہ نقشِ نعلینِ مبارک کی تعظیم کا حکم ہے اور ہر اس چیز کی تعظیم کا حکم ہے ،جس کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کچھ علاقہ ہو یا جو حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام پاک سے مشہور ہواور نقش نعلین پاک کی تعظیم بھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعظیم کی وجہ سے ہی ہےاورنقش مبارک کو زمین پر رکھنا خلاف تعظیم و بے ادبی ہے کہ ہمارے عُرف میں اسے بے ادبی سمجھا جاتا ہے اور امورِ ادب میں اعتبار عرف کا ہی ہے،کوئی عاشقِ رسول تو کبھی گوارہ نہیں کرےگاکہ نعلین مبارک کا نقشِ پاک جس کی جگہ سر اور سینہ ہے، زمین پر رکھا جائے ۔
فتاویٰ رضویہ میں ہے :’’ تواترسے ثابت کہ جس چیز کوکسی طرح حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے کوئی علاقہ بدن اقدس سے چھونے کا ہوتا صحابہ وتابعین وائمہ دین ہمیشہ اس کی تعظیم و حرمت اور اس سے طلب برکت فرماتے آئے اور دین حق کے معظم اماموں نے تصریح فرمائی ہے کہ اس کے لیے کسی سند کی بھی حاجت نہیں، بلکہ وہ چیز حضور اقد س صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے نام پاک سے مشہور ہو، اس کی تعظیم شعائر دین سے ہے۔شفا شریف ومواہب لدنیہ ومدارج شریف وغیرہا میں ہے:’’ من اعظامہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اعظامہ جمیع اسبابہ ومالمسہ او عرف بہ صلی ﷲ تعالی علیہ وسلم ‘‘یعنی رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و الہ وسلم کی تعظیم میں سے ہے، ان تمام اشیاء کی تعظیم جن کو نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ و الہ وسلم سے کچھ علاقہ ہو اور جسے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے چھوا ہو یا جو حضور کے نام پاک سے مشہور ہو۔یہاں تک کہ برابر ائمہ دین وعلمائے معتمدین نعل اقدس کی شبیہ ومثال کی تعظیم فرماتے رہے اور اس سے صدہا عجیب مددیں پائیں اور اس کے باب میں مستقل کتابیں تصنیف فرمائیں۔‘‘(فتاویٰ رضویہ ،ج21،ص414 ،415،رضا فاؤنڈیشن ،لاہور)
فتاویٰ رضویہ میں ہے :’’امورِ ادب میں قطعاً عُرف کا اعتبار۔ امام محقق علی الاطلاق فتح القدیر میں فرماتے ہیں: فیحال علی المعھود حال قصد التعظیم ،تعظیم مقصود ہونے کے وقت اسے عُرف پر محمول کیا جائےگا۔‘‘ ( فتاویٰ رضویہ،ج5،ص650،رضا فاؤنڈیشن ،لاہور)
مزید اسی میں ہے :’’قرآن مجید اگرچہ دس غلافوں میں ہو، پاخانے(بیت الخلا) میں لے جانا بلاشبہہ مسلمانوں کی نگاہ میں شنیع اور اُن کے عُرف میں بے ادبی ٹھہرے گا اور ادب وتوہین کا مدار عُرف پر ہے۔‘‘ ( فتاویٰ رضویہ ، ج4، ص609، رضا فاؤنڈیشن، لاہور )
(3)نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و الہ وسلم کی نعلین مبارک کا جو نقش مسلمانوں میں معروف و مشہور ہے، یہ نقش اصل نعلین مبار ک کے مطابق ہی ہے،تبع تابعین کے زمانے سے ہر دو رکے علماء اس کے نقشے لیتے رہے ،اپنی کتابوں میں چھاپتے رہے اور اس کی برکات بیان کرتے رہےہیں ، جس سے امت میں نقش نعلین پاک کی شہرت ہو گئی اورکسی شے کا نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و الہ وسلم کے نام سے عوام و خواص میں مشہور ہو جانا ہی اس کی تعظیم و ادب کے لیے کافی ہے، اس کے لیے علم یقینی یا سند محدّثانہ کی اصلاً حاجت نہیں ہوتی، لہٰذا اس شخص کا یہ دعویٰ کہ یہ نقش اصل نہیں باطل ہے کہ دعویٰ بلا دلیل ہے اور اس کا اپنے باطل خیال کو پیش کر کے لوگوں کو نقش نعلین پاک کی تعظیم و ادب سے روکنا اس کی بد نصیبی و سخت محرومی ہے۔4
امام اہلسنت الشاہ احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن فتاویٰ رضویہ میں ارشاد فرماتے ہیں:’’ایسی جگہ ثبوت یقینی یاسند محدثانہ کی اصلا ًحاجت نہیں اس کی تحقیق وتنقیح کے پیچھے پڑنا اوربغیر اس کے تعظیم وتبرک سے باز رہنا سخت محرومی کم نصیبی ہے۔ ائمہ دین نے صرف حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے نام سے اس شے کا معروف ہونا ،کافی سمجھا ہے۔‘‘(فتاویٰ رضویہ ،ج21،ص412،رضا فاؤنڈیشن ،لاہور)
مزید فتاویٰ رضویہ میں ہے :’’دین حق کے معظم اماموں نے تصریح فرمائی ہے کہ اس کے لیے کسی سند کی بھی حاجت نہیں بلکہ وہ چیز حضور اقد س صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے نام پاک سے مشہور ہو اس کی تعظیم شعائرِ دین سے ہے۔‘‘ (فتاویٰ رضویہ ،ج21،ص415،رضا فاؤنڈیشن ،لاہور)
معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ و الہ وسلم کے نام پاک سے کسی شے کا مشہور ہو جانا ہی تعظیم و ادب کے لیے کافی ہے،سند کی اصلاً حاجت نہیں، لیکن پھر بھی ائمہ نےاحادیث کی طرح نقش ِنعلین پاک کی باہتمام تام روایتیں کی ہیں۔ چنانچہ فتاویٰ رضویہ میں ہے :’’اب ہم بنظر اختصار ان باقی ائمہ واعلام کے بعض گرامی نام شمار کرنے پر اقتصار کریں جنہوں نے نقشہ مبارکہ بنوایا، بناکر اپنے تلامذہ کو عطافرمایا۔ ا س سے تبرک کیا، اس کی مدحیں لکھیں، اس سے فیض وبرکت حاصل کرنے ، اسے سر آنکھوں پر رکھنے، بوسہ دینے کی ترغیبیں کیں، احادیث کی طرح باہتمام تام اس کی روایتیں فرمائیں، جسےتفصیل دیکھنی ہو فتح المتعال وغیرہ کی طرف رجوع لائے، وباللہ التوفیق۔
(۲۶) امام اجل ابواویس عبداللہ بن عبداللہ بن اویس ابوالفضل بن مالک بن ابی عامر اصبحی مدنی کہ اکابر علماء مدینہ طیبہ وائمہ محدثین ورجال صحیح مسلم وسنن ابی داؤد وترمذی ونسائی وابن ماجہ اور تبع تابعین کے طبقہ اعلیٰ سے ہیں، امام مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بہنوئی اور بھتیجے یعنی ان کے حقیقی چچازاد بھائی کے بیٹے ہیں، 167ھ میں انتقال فرمایا: انہوں نے خود اپنے واسطے امام مالک و غیرہ اکابر تابعین وتبع تابعین کے زمانے میں نعل اقدس نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی مثال بنواکر اپنے پاس رکھی اور قرناً فقرناً اس مثال کے نقشے ہر طبقے کے علما لیتے رہے۔5
(۲۷) ان کے صاحبزادے امام مالک کے بھانجے اسمعیل بن ابی اویس کہ امام بخاری وامام مسلم کے استاذ اور رجال صحیحین اور اتباع تبع تابعین کے طبقہ اعلیٰ سے ہیں اور امام شافعی وامام احمد رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے معاصر، 226 ہجری میں وفات پائی(۲۸) ان کے شاگرد ابویحییٰ بن ابی میسرہ(۲۹) ان کے تلمیذ ابو محمد ابراہیم بن سہل سبتی(۳۰) ان کے شاگرد ابو سعید عبدالرحمن بن محمد بن عبداللہ مکی، (۳۱) ان کے تلمیذ محمد بن جعفرتمیمی (۳۲) ان کے تلمیذ محمد بن الحسین الفارسی،(۳۳) ان کے شاگرد شیخ ابو زکریا عبدالرحیم بن احمد بن نصر بن اسحاق بخاری،(۳۴) ان کے تلمیذ شیخ فقیہ ابوالقاسم حلی ابن عبدالسلام بن حسن رمیلی(۳۵) ان کے شاگرد شیخ عیاض(۳۶) دوسرے تلمیذ اجل امام اکمل حافظ الحدیث قاضی ابوبکر بن العربی اشبیلی اندلسی(۳۷) ان دونوں کے شاگرد امام ابن العربی کے صاحبزادے فقیہ ابو زید عبدالرحمن بن محمد بن عبداللہ(۳۸) ان کے تلمیذ ابن الحیہ(۳۹) ان کے شاگرد شیخ ابن البر تونسی(۴۰) ان کے تلمیذ شیخ ابن فہد مکی(۴۱) امام اجل ابن العربی ممدوح کے دوسرے شاگرد ابوالقاسم خلف بن بشکوال(۴۲) ان کے تلمیذ ابوجعفر احمد بن علی اوسی جن کے شاگرد ابوالقاسم بن محمد اور ان کے تلمیذ ابواسحق ابراہیم بن الحاج ان کے شاگرد ابوالیمن ابن عساکر مذکورین ہیں جن کے
اقوال طیبہ اوپر مرقوم ہوئے(۴۳) امام اسمعیل بن ابی اویس مدنی ممدوح کے دوسرے تلمیذ ابواسحق ابراہیم ابن الحسین(۴۴) ان کے شاگرد محمد بن احمد خزاری اصبہانی (۴۵) ان کے تلمیذ ابوعثمان سعید بن حسن تستری(۴۶) ان کے شاگرد ابو بکر محمد بن علی منقری(۴۷) ان کے تلمیذ ابوطالب عبداللہ بن حسن بن احمد عنبری(۴۸) ان کے شاگرد ابو محمد عبدالعزیز بن احمد کنانی (۴۹) ان کے تلمیذ ابو محمد ہبۃ اللہ بن احمد بن محمد اکفانی دمشقی(۵۰) ان کے شاگرد حافظ ابو طاہر احمد بن محمد بن احمد اسکندرانی(۵۱) ان کے تلمیذ ابوعبداللہ محمد بن عبدالرحمن تجیبی(۵۲) ان کے شاگرد ابوعبداللہ محمد بن عبداللہ سبتی ان کے تلمیذ ابواسحق ابراہیم بن الحاج سلمٰی ممدوح ان کے شاگرد ابن عساکر(۵۳) ان کے تلمیذ بدر فارقی، یہ تین سلسلے مثل سلاسل حدیث تھے۔ ۔۔۔۔۔ بالجملہ مزار اقدس کا نقشہ تابعین کرام اور نعل مبارک کی تصویر تبع تابعین اعلام سے ثابت اور جب سے آج تک ہر قرن وطبقہ کے علما وصلحا میں معمول اور رائج، ہمیشہ اکابر دین ان سے تبرک کرتے اور ان کی تکریم وتعظیم رکھتے آئے ہیں ،تو اب انہیں بدعت شنیعہ اور شرک و حرام نہ کہے گا،مگر جاہل بیباک یا گمراہ بددین مریض القلب ناپاک والعیاذباﷲمن مہاوی الہلاک۔ آج کل کے کسی نو آموز قاصر ناقص فاتر کی بات ان اکابر ائمہ دین واعاظم علماء معتمدین کے ارشادات عالیہ کے حضور کسی ذی عقل دیندار کے نزدیک کیا وقعت رکھتی ہے، عاقل منصف کے لیے اسی قدر کافی ہے۔‘‘(ملخصاًمن فتاویٰ رضویہ ،ج21،ص453تا456،رضا فاؤنڈیشن ،لاہور)
و اللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
کتبــــــــــــــــــــــــــــہ
مفتی ابوالحسن محمد ھاشم خان عطاری
فتویٰ:16
نقش نعلین پاک مسجد کی محراب میں لگانا
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے نعلین مبارک کا نقش مسجد میں محراب کے اندر لگا ہوا ہے اور امام کے سر سے اونچا ہےمعلوم یہ کرنا ہے کہ محراب ِمسجد میں اس طرح نقشِ نعلین مبارک لگانے میں کوئی حرج تو نہیں ؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق وا لصواب
دریافت کی گئی صورت میں اس طرح محرابِ مسجد میں نقش نعلین مبارک لگانے میں کوئی حرج نہیں بلکہ باعث برکت ہے۔
تفصیل اس میں یہ ہے کہ دیوارِ قبلہ اور محراب میں نعلین پاک کے عکوس یا تحریر یا مقدس مقامات کے ماڈل لگانااس صورت میں مکروہ ہے جب کہ وہ اتنے نیچے ہوں کہ حالتِ قیام میں سجدہ کی جگہ پر نظر رکھنے کی صورت میں نمازی کو نظر آئیں کیونکہ ایسی صورت میں وہ نمازی کی توجہ کے بٹنے کا سبب بنیں گے، لیکن صورت ِ مسئولہ میں نعلین مبارک کا عکس چونکہ اتنا اونچا ہے کہ حالت قیام میں اگر سجدہ کی جگہ پر نظر ہو گی تو اس پر نظر نہیں پڑے گی لہٰذا اس طرح لگانے میں کوئی حرج نہیں بلکہ بنیت تبرک یوں لگانا باعث برکت ہے ۔
اور اگر اتنا بلند نہیں تو ضرورموقع کراہت میں ہے اور اس میں اندرونی وبیرونی محراب کا تفرقہ نہیں مسجد کا درجہ مسقفہ وصحن دونوں مسجد ہیں ، اس حالت میں چاہئے کہ اس تحریر پر نمازوں کے اوقات میں غلاف ڈال دیں۔
علمائے کرام نے نعلین مقدس کے نقشے کو اصل نعلین کے قائم مقام بتایا اور اس کے لیے وہی اکرام و احترام جو اصل کے لئے تھا ثابت ٹھہرایا اور اس نقشہ مبارکہ کو پاس رکھنے اور لگانے کے خواص و برکات ذکر فرمائے اور خود علماء اس کی تعظیم اور ان سے برکت حاصل کرتے آئے اور اس باب میں اہل ایمان کے لئے روح افزا ارشادات فرمائے بلکہ اس بارے میں مستقل تصانیف لکھیں۔
و اللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
کتبــــــــــــــــــــــــــــہ
مفتی ابوالحسن محمد ھاشم خان عطاری
فتویٰ :17
نقش نعلین کے اوپر یا اس کے اَطراف میں مقدس تحریر لکھناکیسا؟
کیا فرماتے ہیں علمائےدین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ نقش نعلین کہ جو تبرک کی نیت سے گھر میں رکھے جاتے ہیں اگر کوئی شخص مارکیٹ میں ملنے والی تصویر لینے کے بجائے اپنے ہاتھ سے نقش بناکر حصول برکت کی نیت سے رکھے تو کیا اس سے بھی برکت حاصل ہوگی یا یہ عکسی تصویر ہی کے ساتھ خاص ہے ؟نیز نقش نعلین کے اوپر یا اطراف میں اللہ عزوجل اور رسول پاک صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے اسمائے مبارکہ تحریر کرنا کیسا ہے ؟ بیان فرمادیں ۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق وا لصواب
نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے نعلین مقد س کا نقش بناکر رکھنا ، مستحسن اور بابرکت عمل ہے اور جس طرح کیمرہ وغیرہ کی پرنٹ شدہ نقش نعلین کی تصویر رکھنا جائز و مستحسن ہے یونہی ہاتھ سے نقش مبارک بناکر رکھنا بھی باعث برکت اور اچھا عمل ہے کیونکہ تصویر خواہ کیمرے کے ذریعے لی گئی ہو یا ہاتھ سے بنائی گئی ہو ، حکم کے اعتبار سے ان میں کچھ فرق نہیں ہے ۔ہاں ہاتھ سے بناتے ہوئے رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی جو محبت دل میں مزید پیدا ہوگی اور خالص توجہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی طرف دیر تک قائم ہوگی اس کے تو کہنے ہی کیا ہیں اس لیے عشق رسول میں ڈوب کر صحیح نقش نعلین شریفین ہاتھ سے بنانا تو بہت بہتر بات ہے۔
پھر نعلین مقدس کا نقش بنانا ،اس سےبرکتیں حاصل کرنا تبع تابعین کے مبارک زمانہ سے آج تک مسلمانوں میں رائج ہے ۔ جبکہ کیمرہ وغیرہ نوایجاد چیزیں ہیں ۔ ایک دو صدی قبل تک ان کا وجود ہی نہیں تھاپہلے ہاتھ ہی سے نقش نعلین شریفین بنائی جاتی تھی صدیوں سے ان ہاتھ سے بنے ہوئے نقوش ہی سے برکت حاصل کی جاتی رہی تو اس بارے میں کچھ خیال پیدا ہونے اور اس بارے میں سوال کی گنجائش ہی پیدا نہیں ہوتی ، الغرض نقش نعلین سے حاصل ہونے والی برکتیں کیمرہ کی تصویر کے ساتھ ہرگز خاص نہیں بلکہ کیمرہ کی عکسی تصویر اور ہاتھ سے بنائے ہوئے نقش دونوں اس حکم میں برابر ہیں ۔
نقش نعلین سے متعلق سیدی اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضا خاں علیہ الرحمۃ ارشاد فرماتے ہیں :"طبقۃً فطبقۃ شرقا غربا عجما عربا علمائے دین اور ائمہ معتمدین نعل مطہر حضور سید البشر علیہ افضل الصلاۃ و اکمل السلام کے نقشے کاغذوں پر بناتے ، کتابوں میں تحریر فرماتے آئے ہیں اور انہیں بوسہ دینے آنکھوں سے لگانے سر پر رکھنے کا حکم فرماتے رہے اور دفع امراض و حصول اغراض میں اس سے توسل فرمایا کئے اور بفضل الٰہی عظیم و جلیل برکات و آثار اس سے پایا کیے۔‘‘(فتاویٰ رضویہ ، ج 21، ص 413، رضا فاونڈیشن ، لاہور )
سیدی اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا خاں علیہ الرحمۃ نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے روضہ مطہرہ کا نقش اورنقش نعلین کے جواز و برکات سے متعلق تفصیلی رسالہ تحریر فرمایا جس کا نام " شفاء الوالہ فی صور الحبیب و مزارہ و نعالہ " ہے۔اس میں آپ علیہ الرحمۃارشاد فرماتے ہیں :"بالجملہ مزار اقدس کا نقشہ تابعین کرام اور نعل مبارک کی تصویر تبع تابعین اعلام سے ثابت اور جب سے آج تک ہر قرن و طبقہ کے علماء و صلحا میں معمول و رائج ، ہمیشہ اکابر دین ان سے تبرک کرتے اور ان کی تکریم و تعظیم رکھتے آئے ہیں ۔(فتاویٰ رضویہ ، ج 21، ص 456، مطبوعہ رضا فاونڈیشن ، لاہور )
نیز نقش نعلین کے اطراف یا اوپر اللہ عزوجل اور رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک نام تحریر کرنا ، جائز ہے ۔ یہ بے ادبی نہیں ۔ چنانچہ سیدی اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا خاں علیہ الرحمۃ نقش نعلین پر بسم اللہ شریف تحریر کرنے سے متعلق ارشاد فرماتے ہیں :’’اور بسم اللہ شریف اس پر لکھنے میں کچھ حرج نہیں ، اگر یہ خیال کیجئے کہ نعل مقدس قطعاً تاج فرق اہل ایماں مگر اللہ عزوجل کا نام و کلام ہر شی سے اجل و اعظم و ارفع و اعلیٰ ہے ، یوہیں تمثال میں بھی احتراز چاہیئے تو یہ قیاس مع الفارق ہے ۔ اگر حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے عرض کی جاتی کہ نام الٰہی یا بسم اللہ شریف حضور کی نعل اقدس مقدس پر لکھی جائے تو پسند نہ فرماتے مگر اس قدر ضروری ہے کہ نعل بحالت استعمال و تمثال محفوظ عن الابتذال میں تفاوت بدیہی ہے ۔ (یعنی حقیقی استعمالی نعلین شریف اور استعمال سے محفوظ و جدا نقش کے درمیان واضح فرق ہے )اور اعمال کا مدار نیت پر ہے ، امیر المومنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ نے جانورانِ صدقہ کی رانوں پر حبیس فی سبیل اللہ (یعنی اللہ کی راہ میں وقف ہے )داغ فرمایا تھا ، حالانکہ ان کی رانیں بہت محل بےاحتیاطی ہیں ۔ الخ ‘‘ (فتاویٰ رضویہ ، ج 21، ص413،414، رضا فاونڈیشن لاہور )
سیدی اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا خاں علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں :’’دستی و عکسی(تصویر ) میں صرف تخفیف عمل کا فرق ہے جیسے پیادہ اور ریل ۔ جہاں جانا شرعاً حرام ہے پیادہ و ریل دونوں یکساں ہیں ، وہ نہیں کہہ سکتا کہ اس میں مجھے پاوں کو حرکت دینی نہ پڑی ، نہ منزل منزل ٹھہرتا گیا، بالجملہ تصویر عکسی و دستی کے بنانے ، رکھنے سب باتوں کے احکام قطعاً ایک ہیں اور فرق کی کوئی وجہ نہیں ۔‘‘ (فتاویٰ رضویہ ، ج 24، ص 567، مطبوعہ رضا فاونڈیشن لاہور ) و اللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
کتبــــــــــــــــــــــــــــہ
مفتی فضیل رضا عطاری
فتویٰ :18
نقش نعلین یاروضہ اقدس کی تصویر بنانا اور تعظیم کرنا
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے روضۂ اقدس یا نعل پاک کی تصویر اور نقش بنانا اور ان کی تعظیم و تکریم کرنا کیسا ہے؟ اس بارے میں رہنمائی فرما دیں۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق وا لصواب
حضور سیدِ عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے روضہ اقدس یا نعل پاک کی تصویر اور نقش بنانا ، جائز ہے اور ان کی تعظیم و تکریم ہر مسلمان کے ایمان کا تقاضا ہے۔ روضہ اقدس اور نعلین شریفین کے نقش اور ان سے برکتوں کا حصول چودھویں صدی کی ایجاد نہیں ، بلکہ نقشِ روضہ اقدس کا ثبوت تابعین اور نقش نعل پاک کا ثبوت تبع تابعین سے ہے جب سے آج تک ہر دور اور طبقہ کے علماء و صلحاء میں معمول اور رائج رہا ہے ، اور شرقاً غرباً ہر دور کے علمائے دین و ائمہ معتمدین ، اکابر دین انہیں بوسہ دینے ، آنکھوں سے لگانے ، سر پر رکھنے کا حکم فرماتے رہے اور ان سے برکت حاصل کرتے اور ان کی تکریم و تعظیم کرتے آئے ہیں۔ اور اس کا انکار کرنا اور اس کے خلاف زبان درازی کرنا اس صدی کی بدعت ہے۔
چنانچہ حضرت علامہ شیخ محمدعبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمۃ اپنی مشہور زمانہ کتاب
’’مدارج النبوۃ “میں نقش نعلین شریفین کے متعلق فرماتے ہیں:’’بعض علماء نے نعلین شریفین کی تمثال و نقشے میں علیحدہ رسالے لکھے ہیں اور اس سے برکت و نفع اور فضل حاصل ہونا بیان کیا ہے اور مواہب میں اس کا تجربہ لکھا کہ مقام درد پر نعلین شریفین کا نقشہ رکھنے سے درد سے نجات ملتی ہے اور پاس رکھنے سے راہ میں لوٹ مار سے محافظت ہوجاتی ہے اور شیطان کے مکر و فریب سے امان میں رہتا ہے اور حاسد کے شر و فساد سے محفوظ رہتا ہے مسافت طے کرنے میں آسانی ہوتی ہے اس کی تعریف و مدح اور اس کے فضائل میں قصیدے لکھے گئے ہیں۔ ‘‘(مدارج النبوۃ مترجم ،ج 1،ص 577،مطبوعہ لاہور)
سیدی اعلیٰ حضرت امام اہلِ سنّت رحمۃ اللہ علیہاپنے رسالہ ’’ شفاء الوالہ فی صور الحبیب و مزارہ و نعالہ“ میں اس مسئلے پر تفصیلی کلام کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:’’بالجملہ مزار اقدس کا نقشہ تابعین کرام اور نعل مبارک کی تصویر تبع تابعین اعلام سے ثابت اور جب سے آج تک ہر قرن و طبقہ کے علماء و صلحا میں معمول اور رائج ہمیشہ اکابر دین ان سے تبرک کرتے اور ان کی تکریم و تعظیم رکھتے آئے ہیں تو اب انھیں بدعت شنیعہ اور شرک و حرام نہ کہے گا مگر جاہل بیباک یا گمراہ بددین ، مریض القلب ناپاک والعیاذ باﷲ من مھاوی الھلاک (اللہ تعالیٰ کی پناہ ہلاکت و بربادی کے ٹھکانوں سے۔ ) آج کل کے کسی نو آموز قاصر ناقص فاتر کی بات ان اکابر ائمہ دین و اعاظم علماء معتمدین کے ارشادات عالیہ کے حضور کسی ذی عقل دیندار کے نزدیک کیا وقعت رکھتی ہے ، عاقل منصف کے لئے اسی قدر کافی ہے۔ “ (فتاویٰ رضویہ ،ج 21،ص 456،رضا فائڈیشن ،لاہور)
ایک اور مقام پر فرماتے ہیں:’’طبقۃ فطبقۃ شرقاً غرباً عجماً عرباً علمائے دین و ائمہ معتمدین نعل مطہر حضور سید البشر علیہ افضل الصلوٰۃ واکمل السلام کے نقشے کاغذوں پر بناتے کتابوں میں تحریر فرماتے آئے اور انہیں بوسہ دینے آنکھوں سے لگانے سر پر رکھنے کا حکم فرماتے رہے اور دفع امراض و حصول اغراض میں اس سے توسل فرمایا کئے ، اور بفضلِ الٰہی عظیم و جلیل برکات و آثار اس سے پایا کیے۔ علامہ ابوالیمن ابن عساکر وشیخ ابواسحٰق ابراہیم بن محمد بن خلف سلمی وغیرہما علماء نے اس باب میں مستقل کتابیں تصنیف کیں ۔“(فتاویٰ رضویہ ،ج 21،ص 413، رضا فائڈیشن ،لاہور)
مزید ایک اور مقام پر فرماتے ہیں:’’روضۂ منورہ حضور پُرنور سیدِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی نقل صحیح بلاشبہہ معظماتِ دینیہ سے ہے اس کی تعظیم و تکریم بروجہ شرعی ہر مسلمان صحیح الایمان کا مقتضاءِ ایمان ہے۔ “ (فتاوی ٰرضویہ ،ج 21 ص 420، رضا فائڈیشن ،لاہور)
مزید تفصیل جاننے کے لئے فتاویٰ رضویہ جلد21 ،صفحہ نمبر 425پر موجود امام اہلسنت رحمۃ اللہ علیہ کا رسالہ’’ شفاء الوالہ فی صور الحبیب و مزارہ و نعالہ “ کا مطالعہ کریں ۔
و اللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
کتبــــــــــــــــــــــــــــہ
مفتی محمد قاسم عطاری
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع