30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۲۳) دِیگرْ افعالِ مُقارِبْ دَرْ عملْ چُونْ ناقِصَنْدْ
ہَسْتْ آنْ کَادَ کَرُبَ با أَوْشَکَ دیگرعَسٰی
حل لغات : دیگر : مزید ۔ درعمل : عمل میں ۔ چون ناقصند : افعالِ ناقصہ کی طرح ہیں ۔ ہست : ہے ۔ آن : وہ ۔ با : ساتھ ۔
ترجمہ : افعالِ مُقارَبہ عمل میں افعالِ ناقصہ کی مانند ہیں اور وہ کَادَ، کَرُبَ، أَوْشَکَ اور عَسٰی ہیں ۔
توضیح : قولہ : دیگر افعالِ مقارب الخ ۔ یعنی گیارہویں نوع میں چار افعالِ مُقارَبہ ہیں ، اور یہ عمل میں افعالِ ناقصہ کی طرح ہیں یعنی یہ افعال بھی اپنے اسم کو رفع اور خبر کو نصب دیتے ہیں ۔ لیکن یاد رہے کہ ان کی خبر ہمیشہ جملہ فعلیہ مضارعیہ ہوتی ہے لہذا محلًّا منصوب ہوگی : کَادَ بَکْرٌ یَجِیُٔ، کَرَبَ زَیْدٌ یَخْرُجُ، أَوْشَکَ خَالِدٌ یَذْہَبُ، عَسَی اللّٰہُ أَنْ یَشْفِیَنِيْ ۔
تنبیہ : خیال رہے کہ افعالِ مقاربہ کا چار ہونا صاحبِ ’’مائۃ عامل‘‘ شیخ عبد القاہر جرجانی کے نزدیک ہے جبکہ بعض نحات کے نزدیکجَعَلَ، طَفِقَاور أَخَذَ بھی افعالِ مقاربہ میں ہیں ۔
فائدہ : افعالِ مقاربہ کو افعالِ منسلخہ بھی کہتے ہیں ۔
(۲۴) دِیگرْ افعالِ یقین وشک بُوْدْ کَانْ بر دُو اسم
چونْ دَرْ آیَدْ ہریکِی منصوبْ سازَدْ ہَر دُو رَا
حل لغات : دیگر : مزید ۔ بود : ہیں ۔ کان : وہ جو ۔ بردو اسم : دو اسموں پر ۔ چون : جب ۔ درآید : آتے ہیں ۔ ہریکی : ہر ایک ۔ سازد : کردیتاہے ۔ ہردورا : دونوں کو ۔
ترجمہ : مزید افعالِ شک ویقین ہیں جن میں سے ہر ایک فعل ٗدواسموں پر آکر دونوں کو منصوب کر دیتاہے ۔
توضیح : قولہ : دیگر افعالِ یقین وشک الخ ۔ یعنی بارہویں نوع میں سات افعالِ یقین وشک ہیں اِن میں ہر ایک فعل جملہ اسمیہ پر داخل ہوکر مبتدا اور خبر دونوں کو مفعولیت کی بناء پر منصوب کر دیتاہے : عَلِمْتُ اللّٰہَ خَالِقًا ۔
(۲۵) خِلْتُ باشَدْ با عَلِمْتُ پَسْ حَسِبْتُ با زَعَمْتُ
پس ظَنَنْتُ با رَأَیْتُ پَسْ وَجَدْتُ بَی خَطا
حل لغات : باشد : ہے ۔ با : ساتھ ۔ پس : پھر ۔ بی خطا : بلا خطا ۔
ترجمہ : خِلْتُ، عَلِمْتُ، حَسِبْتُ، زَعَمْتُ، ظَنَنْتُ، رَأَیْتُ اور وَجَدْتُ ۔
توضیح : ان میں سے عَلِمْتُ، رَأَیْتُاور وَجَدْتُ یقین پر دلالت کر تے ہیں ، خِلْتُ، حَسِبْتُاور ظَنَنْتُ شک ظاہر کرنے کے لیے آتے ہیں اورزَعَمْتُ شک ویقین دونوں کے لیے آتاہے : زَعَمْتُ اللّٰہَ غَفُوْرًا، زَعَمْتُ زَیْدًا فَاضِلًا ۔
فائدہ : اِن افعال کو افعالِ قلوب، افعالِ نواسخ اور دواخلِ مبتدا وخبر بھی کہتے ہیں ۔
تنبیہ : جب عَلِمْتُ بمعنی عَرَفْتُ، رَأَیْتُبمعنی أَبْصَرْتُ اور وَجَدْتُ بمعنی أَصَبْتُ ہوتو اِن کا ایک ہی مفعول بہ آئے گا اور اُس وقت یہ افعالِ شک ویقین نہیں کہلائیں گے بلکہ عام افعال کی طرح ہوں گے : عَلِمْتُ زَیْدًا، رَأَیْتُ جَبَلًا، وَجَدْتُ الضَالَّۃَ ۔
جو طالب علمی کے زمانے میں پرہیزگاری اختیار نہیں کرتااللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اُسے تین اشیاء میں سے کسی ایک میں مبتلا فرمادیتا ہے یاتو اسے جوانی میں موت دیتا ہے یا پھر وہ باوجود علم ہونے کے قریہ بہ قریہ مارا مارا پھرتا ہے یا پھر وہ ساری عمر حکمرانوں کی غلامی کرتا رہتا ہے ۔ (راہِ علم ، ص۸۱)
(۲۶) رافِعِ اسمای جنسْ افعالِ مدْحُ وذَمّ بُودْ
چارْ باشَدْ نِعْمَ بِئْسَ سَاء آنگہ حَبَّذَا
حل لغات : رافع اسمای جنس : اسمائے جنس کو رفع دینے والے ۔ بود : ہیں ۔ چار باشد : چار ہیں ۔ آنگہ : اس وقت، جس وقت ۔
ترجمہ : افعالِ مدح وذم اسمائے جنس کورفع دیتے ہیں (یہ) چار ہیں : نِعْمَ، بِئْسَ، سائَاورحَبَّذَا ۔
توضیح : قولہ : رافع اسمای جنس الخ ۔ یعنی تیرہویں نوع میں چار افعالِ مدح وذم ہیں جو اسم جنس کو رفع دیتے ہیں ، نِعْمَاور حَبَّذَا مدح کے لیے اوربِئْسَ اور سَائَ ذم کے لیے موضوع ہیں ۔ حَبَّذَا کے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع