30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ترجمہ : باء، تاء، کاف، لام، واو، مُنْذُ، مُذْ، خَلَا، رُبَّ، حَاشَا، مِنْ، عَدَا، فِيْ، عَنْ، عَلٰی، حَتَّی، اِلٰی ۔
توضیح : قولہ : باء وتاء الخ ۔ یہ حروف ہمیشہ اسم پر داخل ہوتے ہیں اور اُسے جر دیتے ہیں ۔ اِسی لیے اِن کو حروفِ جر کہتے ہیں ۔
(۱۰) اِنّ با اَنّ کَأَنَّ لَیْتَ لٰکِنَّ لَعَلَّ
ناصِبِ اِسْمَنْدْ ورافِعْ در خبر ضدِ مَا ولَا
حل لغات : با : ساتھ ۔ ناصبِ اِسمند : اسم کو نصب دینے والے ہیں ۔ رافع : رفع دینے والا ۔ در : میں ۔ ضدِّ مَا ولَا : مَا اور لَا مشابہ بلیس کے برعکس ۔
ترجمہ : اِنّ، اَنّ، کَاَنَّ، لَیْتَ، لٰکِنَّ اورلَعَلَّ اسم کو نصب اور خبر کو رفع دیتے ہیں بر عکس مَا اورلَاکے ۔
توضیح : قولہ : اِنّ با اَنّالخ ۔ یعنی دوسری نوع میں چھ حروفِ مشبہہ بالفعل ہیں ۔ یہ حروف جملہ اسمیہ پر داخل ہوکر اپنے اسم کو نصب اورخبر کو رفع دیتے ہیں : إِنَّ زَیْدًا قَائِمٌ ۔
فائدہ : اِن حروف کو حروفِ نواسخ، حروفِ دواخل اورحروفِ معانی بھی کہتے ہیں ۔
قولہ : ضدِّ مَا ولَا ۔ یہ تیسری نوع کی طرف اشارہ ہے یعنی تیسری نوع میں مَااور لَا مشابہ بلیس ہیں ۔ یہ دونوں حروف جملہ اسمیہ پر داخل ہوکر اسم کو رفع اور خبر کو نصب دیتے ہیں : مَا زَیْدٌ شَاعِرًا ۔ اِن کو مشابہ بلیس اس لیے کہتے ہیں کہ یہ دونوں نفی کا معنی دینے اور جملہ اسمیہ پر داخل ہونے میں لَیْسَ کی طرح ہیں ۔
خیال رہے کہ مَا اور لَا کا عامل ہونا حجازیین کے نزدیک ہے اور اِس کی تائید قرآنِ کریم سے ہے : {ما ہذا بشرا} (پ : ۱۲، یوسف : ۳۱) جبکہ بنی تمیم کے نزدیک یہ عامل نہیں ہیں اور اِن کے بعدآنے والے دونوں اسم ابتداء کی وجہ سے مرفوع ہوں گے ۔ فائدہ : اِن دونوں حروف کو حروفِ نواسخ، حروفِ نافیہ، حروفِ دواخل اور حروفِ معانی بھی کہتے ہیں ۔
(۱۱) واوُ ویاءُ وہمزہُ و اِلَّا اَیَا و اَيْ ہَیَا
ناصبِ اِسْمَنْدْ پَسْ اِینْ ہَفْتْ حَرْفْ اَی مُقتَدا
حل لغات : ناصبِ اسمند : اسم کے ناصب ہیں ۔ پس : بس ۔ این : یہ ۔ ہفت : سات ۔ ای مقتدا : اے پیشوا ۔
ترجمہ : واو ، یاء، ہمزہ، اِلَّا، اَیَا، اَيْ اور ہَیَایہ سات حروف اسم کو نصب دیتے ہیں اے پیشوا ۔
توضیح : قولہ : واو ویاء الخ ۔ یعنی چوتھی نوع میں سات حروف ہیں ۔ اِن میں واو بمعنی مع ہے ، اِلاَّ حرفِ استثناء ہے اور باقی پانچ حروف نداء کے لیے ہیں ۔ قولہ : ناصبِ اسمند ۔ یہ بعض نحات کا مذہب ہے کہ ما بعد اسم کو نصب دینے والے یہی حروف ہیں ۔ لیکن بعض دیگر نحات کا مذہب یہ ہے کہ ما بعد اسم کو نصب دینے والا فعل ہوتاہے جو اِن حروف سے پہلے لفظًا یا معنی ہوتا ہے :
اِسْتَوَی الْمَاء وَالْخَشَبَۃُ، مَا شَأْنُکَ وَبَکْرًا ۔
فائدہ : اِن کو حروفِ نواصب، حروفِ معانی اور تغلیبًا حروفِ نداء بھی کہتے ہیں ۔
(۱۲) اَنْ ولَنْ پس کَيْ اِذَنْ اِینْ چار حرفِ معتبر
نصبِ مستقبلْ کُنَنْدْ اِینْ جُملہ دائِمْ اِقتِضا
حل لغات : پس : پھر ۔ این : یہ ۔ معتبر : اعتبار والا ۔ مستقبل : فعل مضارع ۔ کنند : کرتے ہیں ۔ این جملہ : یہ تمام ۔ دائم : ہمیشہ ۔ اقتضا : چاہت ۔
ترجمہ : اَنْ، لَنْ، کَيْ اوراِذَنْ یہ چاروں حروف ہمیشہ فعل مضارع کا نصب چاہتے ہیں ۔
توضیح : قولہ : أَنْ ولَنْ إلخ ۔ یعنی پانچویں نوع میں چار حروف ہیں ۔ قولہ : این جملہ الخ ۔ خیال رہے کہ جمہور نحات کے نزدیک یہ چاروں حروف خود ناصب ہیں جبکہ خلیل نحوی کے نزدیک ناصب صرف أَنْ ہے اور باقی تین حروف تقدیر ِ أَنْ کی وجہ سے ناصب ہیں ۔ ثمرۂ اختلاف اِس طرح ظاہر ہوگا کہلَنْ یَضْرِبَ میں جمہور کے نزدیک مضارع لَنْ کی وجہ سے اور خلیل کے نزدیک تقدیر ِ أَنْ کی وجہ سے منصوب کہلائے گا ۔
فائدہ : اِن حروف کو حروفِ نواصب، حروفِ معانی اور حروفِ مصدر بھی کہتے ہیں ۔
(۱۳) اِنْ ولَمْ لَمَّا ولامِ امر ولاء نہی نِیز
پَنجْ حَرْفْ جازِمِ فِعلَنْدْ ہَریَکْ بَیدَغا
حل لغات : نیز : بھی ۔ پنج : پانچ ۔ جازمِ فعلند : فعل کے جازم ہیں ۔ ہریک : ہر ایک ۔ بیدغا : بلا خفاء، بلا شک ۔ (یہ لفظ محض قافیہ کی رعایت کے لیے لایا گیا ہے )
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع