30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ذکرخیر کرنا ۔ (جبکہ ذکر کردہ اوصاف واقعۃً اُن میں ہوں ) ۲ ۔ اُنہیں اوصافِ حمیدہ سے متصف ہونے کی ترغیب دینا ۔ (جبکہ مذکورہ اوصاف اُن میں نہ پائے جائیں ) ۳ ۔ تاکہ یہ حضرات کتاب کی اِشاعت وترویج میں ذاتی دلچسپی لیں اور یوں علم کا فیضان عام ہو ۔
(۵) عاملْ اَنْدَرْ نحوْ صَدْ باشَدْ چُنِینْ فَرْمُودَہ اَسْتْ
شیخ عبد القاہر جُرجانی پیرِ ہُدا
حل لغات : عامل : اعراب کا مُوجِب ۔ اندر : میں ۔ صد : سو(۱۰۰) ۔ باشد : ہیں ۔ چنین : اسی طرح ۔ فرمودہ است : فرمایاہے ۔ شیخ : بزرگ، امامِ فن ۔ عبد القاہر : ائمہ نحو میں سے ایک امام کانام ۔ جرجانی : جرجان کی طرف نسبت ہے جو استرآباد کا دار الملک ہے ۔ پیر : بوڑھا، مرشد، رہبر ۔ ہدا : ہدایت، راہ راست ۔
ترجمہ : نحو میں سو عامل ہیں ، رہبرِ نحو شیخ عبد القاہر جرجانی نے اسی طرح فرمایا ہے ۔
توضیح : قولہ : عامل : یعنی وہ جو آخرِ کلمہ کے ایک خاص طریقے پر(مرفوع، منصوب، مجرور یا مجزوم) ہونے کا تقاضا کرے ۔ قولہ : صد باشد : سیبویہ کے نزدیک عوامل سو(۱۰۰) ہیں جن میں اٹھانوے لفظی اور دو معنوی ہیں (ایک مبتدا اور خبر کاعامل اور دوسرا مضارع مرفوع کا عامل) جبکہ اخفش کے نزدیک عوامل ایک سو ایک (۱۰۱) ہیں جن میں اٹھانوے لفظی اور تین معنوی ہیں (دو مذکوراور تیسرا تابع کاعامل)
(۶) معنَوی اَزْ وَی دو باشَد جُملہ دِیگرْ لفظِیَنْدْ
بازْ لفظی شُد سَماعی وقِیاسی اَیْ فَتا
حل لغات : از وی : اُن میں سے ۔ دو باشد : دوہیں ۔ جملہ : تمام ۔ دیگر : باقی ۔ لفظیند : لفظی ہیں ۔ باز : پھر ۔ شد : ہیں ۔ اَیْ فتا : اے جوان ۔
ترجمہ : اُن میں سے دو عامل معنو ی اور باقی سب لفظی ہیں پھر لفظی عامل کی دو قسمیں ہیں سَماعی اورقِیاسی اے جوان ۔
توضیح : قولہ : معنوی از وی الخ : یعنی عوامل کی دو قسمیں ہیں : ۱ ۔ لفظی یعنی وہ عامل جس کا تلفظ کیا جائے ۔ یہ کل اٹھانوے ہیں ۔ ۲ ۔ معنوی یعنی وہ عامل جس کا تلفظ نہ کیا جائے ۔ یہ کل دو ہیں ۔
پھر عامل لفظی کی دو قسمیں ہیں : ۱ ۔ سَماعی یعنی وہ عامل لفظی جس پر دوسرے کسی لفظ کو قیاس نہیں کر سکتے ۔ یہ کل اکانوے ہیں جنہیں تیرہ انواع میں تقسیم کیا گیا ہے ۔ ۲ ۔ قِیاسی یعنی وہ عامل جس پردوسرے لفظ کو قیاس کر سکتے ہیں ۔ یہ کل سات ہیں ۔ اِن سب کا بیان آگے آرہا ہے ۔
(۷) زَانْ نَوَدْ یَکْ دَانْ سَماعی ہَفْتْ دِیگرْ بَرقِیاسْ
آنْ سَماعی سِیْزْدَہ نوع اَست بے رُوی ورِیا
حل لغات : زان : اُن میں سے ۔ نود یک : اکانوے ۔ دان : جان ۔ ہفت : سات ۔ دیگر : باقی ۔ بر قِیاس : قیاس پر ۔ آن : وہ ۔ سیزدہ : تیرہ ۔ نوع : قسم ۔ است : ہے ۔ بے : بغیر، بلا ۔ روی : چہرہ، سطح ۔ ریا : دکھلاوہ ۔ یعنی بغیر کسی نوع کی رعایت کیے ۔
ترجمہ : اُن لفظی عوامل میں سے اِکانوے عوامل سَماعی اورباقی سات عوامل قِیاسی ہیں اور سَماعی عوامل کی تیرہ انواع ہیں ۔
توضیح : قولہ : زان الخ : یعنی اُن اٹھانوے لفظی عوامل میں سے اِکانوے سَماعی اور سات قِیاسی ہیں ۔ پھر سَماعی عوامل کی تیرہ انواع ہیں ۔ اِس طرح کہ جس جس عامل کا عمل متحد تھا اُن سب کو ملا کر ایک نوع بنادی گئی مثلاً سترہ حروف ایسے تھے جن کا عمل ما بعد اسم کو جر دینا ہے لہذا اُن سب کو ملاکر نوعِ اوّل بنادی گئی ۔ چھ حروف ایسے تھے جن کا عمل اسم کو نصب اور خبرکو رفع دینا ہے لہذا اُن سب کو ملاکر نوعِ ثانی بنادی گئی ۔ وعلی ہذا القیاس ۔
(۸) نوعِ اوّل ہَفْدَہ حرفِ جر بُودْ مِیْدَانْ یقین
کَاَنْدَرِینْ یَکْ بَیْتْ آمَدْ جُملہ بے چُونُ وچِرا
حل لغات : ہفدہ : سترہ ۔ بود : ہے ۔ مِیدان یقین : یقین جان لے ۔ کاندرین یک بیت : جو اِس ایک شعر میں ۔ آمد : آگئے ۔ جملہ : تمام ۔ بے : بِلا، بغیر ۔ چون : کیسے ۔ چرا : کیوں ، کس طرح ۔ یعنی بلا قیل وقال ۔
ترجمہ : پہلی نوع سترہ حروف ِجرہیں جوبلا قیل وقال اِس ایک شعر میں آگئے ۔
توضیح : قولہ : ہفدہ حرفِ جر الخ : جمہور نحات کے نزدیک حروفِ جر کی تعداد سترہ ہے جبکہ صاحبِ کافیہ کے نزدیک اٹھارہ ہے اور اٹھارواں حرفِ جرْ وَاوِ رُبَّ ہے : وَعَالِمٍ یَعْمَلُ بِعِلْمِہٖ ۔
فائدہ : حروفِ جر کو حروفِ جارہ، حروفِ اِضافت، حروفِ ربْط اور حروفِ معانی بھی کہتے ہیں ۔
(۹) باءُ وتاءُ وکافُ ولامُ وواوُ ومُنذُ مُذْ خَلا
رُبَّ حَاشَا مِنْ عَدَا فِيْ عَنْ عَلٰی حَتّٰی اِلٰی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع