دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Methi Eid Aur Methi Batain | میٹھی عید اور میٹھی باتیں

book_icon
میٹھی عید اور میٹھی باتیں

بُدَیْل کُوفی  رحمۃُ اللہِ علیہ  تھے۔ موسیٰ بن بُغاء کی اُس علاقے میں کچھ زمین تھی ، جس میں وہ تعمیراتی کام کروانا چاہتا تھا ۔ اُس کی جگہ کے بالکل ساتھ زمین کا ایک ٹکڑا ایک یتیم بچے کی ملکیت میں تھا ، مجھے موسیٰ بن بُغاء نے حکم دیا کہ وہاں جاکر زمین وغیرہ دیکھوں اور مزید زمین خرید نی پڑے تو خرید لوں۔ میں وہاں پہنچا اور زمین کو دیکھا تو یہی بات سمجھ آئی کہ جب تک اُس یتیم کی زمین نہ خرید ی جائے گی اس وقت تک تعمیراتی کام ٹھیک انداز میں نہ ہوگا۔ چنانچہ میں وہاں کے قاضی حضرت احمد بن بُدَیْل  رحمۃُ اللہِ علیہ  کے پاس گیا اورعرض کی : آپ یتیم بچے کی زمین ہمیں  بیچ دیں ۔  قاضی صاحب نے انکار کرتے ہوئے فرمایا : اُس یتیم بچے کو اپنی زمین بیچنے کی ابھی کوئی ضرورت نہیں اور میں یہ جرأت نہیں کرسکتا کہ زمین بیچ کر اسے زمین سے محروم کردوں۔    ہوسکتا ہے میں زمین کے بدلے قیمت لے لو ں اور خدا ناخواستہ کسی طر ح اس کا مال ہلاک ہوجائے توگو یا میں اُس کے حق کو ضائع کرنے والا ہوجاؤں گا۔ میں نے کہا : آپ ہمیں وہ زمین بیچ دیں ہم اس کی ڈبل قیمت ادا کریں گے۔ قاضی صاحب نے کہا : میں ڈبل قیمت پر بھی اُس کی زمین نہیں بیچوں گا کیونکہ مال تو گھٹتابڑھتا رہتا ہے۔ زیادہ مال کا لالچ مجھے زمین بیچنے کی طرف مائل نہیں کرسکتا۔ الغر ض میں نے قاضی صاحب کو ہر طر ح سے راضی کرنے کی کوشش کی لیکن وہ نہیں مانےاوراُن کے سامنے میری ایک نہ چلی۔ ان کی باتوں نے مجھے پریشان کردیا۔ میں نے تنگ آ کر کہا : قاضی صاحب! آپ ایسا قدم نہ اٹھائیے جس سے آپ کو پریشانی ہو ، کیا آپ جانتے نہیں کہ یہ موسیٰ بن بُغاء کا معاملہ ہے؟ ذرا سوچ سمجھ کر قدم اُٹھایئے ، ایسے لوگو ں سے ٹکر لینا درست نہیں۔ قاضی صاحب نے کہا : اللہ پاک تجھے عزت عطا فرمائے ، تُو میرے معاملے میں پریشان نہ ہو ، بے شک میرا پر ورد گار عزت والا اور بڑی بُلندی والا ہے۔ قاضی صاحب کی یہ باتیں سن کر میں واپس پلٹ آیا اور اللہ پاک سے حیا کرتے ہوئے میں دوبارہ قاضی صاحب کے پاس نہ گیا۔ جب میں موسیٰ بن بُغاءکے پاس گیا تو اُس نے مجھ سے پوچھا : تمہیں جس کام کے لئے بھیجا تھا اس کا کیا ہوا ؟ میں نے قاضی صاحب سے ملاقات کا سارا واقعہ بیان کردیا اور جب اُسے قاضی صاحب کا یہ جملہ بتایاکہ ’’بے شک میرا پرورد گار بڑی بلندی و عظمت والاہے۔ ‘‘تویہ سنتے ہی موسیٰ بن بُغاء رونے لگا اور بار بار اِسی جملے کو دُہراتا رہا پھر مجھ سے کہا : اَب تم اُس زمین کورہنے دو اور قاضی صاحب کو تنگ نہ کرو۔ جاؤ! اور اُس نیک مرد(یعنی قاضی صاحب) کے حالات معلوم کرو۔ اگر اُسے کسی چیز کی ضرورت ہو تو میں اُسے پورا کرو ں گا ، ایسے نیک لوگ دُنیا میں بہت کم ہوتے ہیں۔ میں موسیٰ بن بُغاء سے رخصت ہوکر حضرت احمد بن بُدَیْل کُوفی  رحمۃُ اللہِ علیہ  کے پاس آیا اور کہا : قاضی صاحب! مبارک ہو ، اَمیر موسیٰ بن بُغاء نے زمین والے معاملے میں آپ کوعافیت بخشی اور یہ اِس وجہ سے ہوا کہ میں نے وہ تمام باتیں جو ہمارے درمیان ہوئی تھیں ، تفصیلاً موسیٰ بن بُغاء کو بتادیں۔ اَب امیر موسیٰ بن بُغاء نے یہ حکم دیا ہے کہ اگرآپ کو کسی چیز کی ضروت ہو تو ہمیں بتا ئیں ہم ضرور پورا کریں گے ۔    قاضی صاحب نے اُسے دعائیں دی اور فرمایا : یہ سب اِس کا بدلہ ہے کہ میں نے ایک یتیم کے مال کی حفاظت کی ، میں اُس کے بدلے دنیوی مال ودولت کا طلب گار نہیں ہوا ۔ (عیون الحکایات مترجم ، 1 / 396 )

اللہ ربُّ العزّت کی اُن پر رحمت ہواوراُن کے صدقے ہماری بے حساب مغفرت ہو۔            اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین  صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم  ۔

امیرِ اہلِ سنت کی احتیاط

دورِ حاضر میں اسلامی دنیا کے عظیم  مبلغ اور علمی وروحانی پیشوا  ، امیر ِ اہلِ سنت مولانا  محمد الیاس عطار قادری رضوی دامت بَرَکاتہم العالیہ  یتیموں کے مال میں احتیاط کے بارے میں اپنا ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : جن دنوں  بڑے بھائی (مرحوم عبد الغنی ) کا انتقال ہوا ان دنوں ہم دونوں بھائی  مل کر جھاڑو کا کاروبار کرتے تھے اور شاید میں شہید مسجد یا نور مسجد میں امامت بھی کررہا تھا ۔ بھائی کے انتقال کے بعد ذمہ داری میرے اوپر آئی اور ترکہ(Inheritance) تقسیم کرنے کا بھی مسئلہ ہوا کیونکہ میرے والد  مرحوم کا تَرکہ تقسیم نہیں ہوا تھا  اور ان کے چھوڑے ہوئے مال میں ہی کاروبار ہوتا رہا لیکن اب میں سخت آزمائش میں آگیا کیوں کہ اب ہر چیز میں بھائی کے پانچ یتیم بچوں اور ان یتیموں کی ماں کا حق شامِل ہوگیاتھا ۔  ان دنوں میرا  مفتی وقار الدین  رحمۃُ اللہِ علیہ  کى خدمت مىں حاضرىوں کا معمول تھا چنانچہ میں نے ان کی بارگاہ میں حاضر ہوکر ساری صورتحال پیش کی اور کىا کرنا ہے ، کىسے کرنا ہے اس کے متعلق فتوىٰ حاصل کىا پھر ایک چھوٹی سی چھوٹی چیز مثلاً کاغذ ، قلم اور سوئی تک کا حساب کیا  جوکہ اىک دشوار کام تھا لیکن جتنا ہوسکا مىں نے کوشش کى اور الحمدُ لِلّٰہ شریعت کے مطابق ترکہ تقسیم کیا بلکہ اپنی طرف سے کچھ زائد پیش کیا تاکہ میری طرف ان کا کوئی حق نہ رہ جائے مگر پھر بھی خوف آتا تھا کہ کہیں یتیموں کے مال میں مجھ سے حق تَلفی نہ ہوگئی ہو۔ الحمدُ لِلّٰہ  اب میرے پانچوں بھتیجے بالغ ہوچکے ہیں ، میں نے ان سے اور (ان کے ذریعے)ان کی امی جان سے(احتیاطاً) مُعافی حاصِل کرلی ہے۔ (امیر اہلِ سنّت کی کہانی انہی کی زبانی ،  غیر مطبوعہ)

سایۂ عرش پانے کا طریقہ

اے غریبوں اور یتیموں کا درد رکھنے والے اسلامی بھائیو! آئیے یہ عہد کریں کہ ہم یتیموں کے حقوق کی حفاظت کریں گے ، بے سہارا اور غریب لوگوں کو خوشیاں فراہم کرنے کا ذریعہ بنیں گے ، اپنے اِردگر د نظر دوڑائیے ، اپنے رشتے داروں ، پڑوسیوں ، محلے داروں وغیرہ میں اگر کوئی یتیم  بچہ ، بچی یا ایسی بیوہ خاتون ہو جس کا گزر بسر مشکل سے ہو رہا  ہو تو بالخصوص اِس میٹھی عید کےخوشی کے موقع پر اورعام حالات میں بھی اِن کی کفالت(Guardianship) کی کوشش فرمائیے ، ہر ماہ اُن کے گھر راشن ڈلوا دیجئے ، عید کے موقع پر یتیم بچوں کو نئے اور خوبصورت کپڑے پہنچادیں ، عیدی  کے طور پر کچھ مناسب رقم باعزت طریقے سے پیش کرکے اُن غریبوں ، بے سہاروں اور دردمندوں کے دِل کی دُعائیں لیجئے۔ اللہ پاک کےآخری نبی ، مکی مدنی ، محمدِ عربی  صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم  نے ارشاد فرمایا : جو کسی یتیم یا بیوہ کی کفالت کرے اللہپاک اُس کو بروزِ قیامت عرش کا سایہ عطا فرمائے گا۔ (معجم اوسط ، 6 / 429 ، حدیث : 9292)

اللہ پاک  ہم سب کو اپنی راہ میں خرچ کرنے ، غریبوں یتیموں کے ساتھ اچھا سلوک  کرنے اور ان میں خوشیاں بانٹنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ اٰمین بجاہ النبی الامین   صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم   

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن