دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Methi Eid Aur Methi Batain | میٹھی عید اور میٹھی باتیں

book_icon
میٹھی عید اور میٹھی باتیں

ترجَمۂ کنز الایمان : وہ جو یتیموں کا مال ناحق کھاتے ہیں وہ تو اپنے پیٹ میں نِری آگ بھرتے ہیں اور کوئی دم جاتا ہے کہ بھڑکتے دھڑے (بھڑکتی آگ) میں جائیں گے۔

اے ظالمو! اے یتیموں کا مال ہڑپ کرنے والو !  ان کے پلاٹس (Plots)پر ناجائز قبضہ کرنے والو! یتیم  کا مال  دہکتی ہوئی آگ ہے ، اِس کو نگلنا گویا آگ نگلنا ہے ۔ آج  تو یہ مال  بڑا اچھا لگ رہاہے لیکن ایک دن یہ ہلاکت کا سبب بن جائے گا۔ آج تمہیں اپنی طاقت پر بڑا  ناز ہے مگر جب قیامت کا دن ہوگا اُس وقت آپ کی ایک نہیں چلے گی ۔  اللہپاک کی عطا سے غیب کی خبریں دینے والے پیارے آقا  صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم  نے فرمایا : جب یتیم کو رُلایا جاتا ہے تو اُس کے رونے سے عرش کانپ جاتا ہے اور اللہ پاک فرماتا ہے : اے فرشتو! میرے بندے کو کس نے رُلایا جس کے باپ کو سپردِ خاک کردیا گیا ہے ۔ ( فردوس الاخبار ، 2 / 507 ، حدیث : 8557)

ظالمو! بعد مرنے کے پچھتاؤ گے                     یاد رکّھو! جہنّم میں تم جاؤ گے

سرسبز  اور  میٹھا مال

حضور نبیِ پاک  صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم     نے ارشاد فرمایا : بلاشبہ یہ مال سرسبز میٹھا ہےاور اس مسلمان کا اچھا ساتھی ہے جو اس میں سے مسکین ، یتیم اور مسافر کو دیا کرے اور جو ناحق مال لے گا وہ اس (جانور)کی طرح ہے جو کھاتا خوب ہےمگر سیر نہیں ہوتا اور وہ مال قیامت کے دن اُس کے خلاف گواہی دے گا۔ ( بخاری ، 2 / 266 ، حدیث : 2842)

شہد اورراکھ

ایک مرتبہ حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کہیں تشریف لے جارہے تھے کہ راستے میں شیطان کو دیکھا جو ایک ہاتھ میں “ شہد “ اور دوسرے میں “ راکھ “ اُٹھا کر جارہا تھا ، آپ نے پوچھا : اے دشمنِ خدا!یہ شہد اور راکھ تیرے کس کام آتی ہے؟بولا : شہد غیبت کرنے والوں کے ہونٹوں پر لگاتا ہوں تاکہ وہ اس گناہ میں اور آگے بڑھیں اور راکھ یتیموں کے چہروں پر ملتا ہوں تاکہ لوگ ان سے نفرت کریں۔ (مکاشفۃ القلوب ص66)

اُونٹ کے ہونٹوں جیسے ہونٹ

مدینےکےتاجدار  صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم   کافرمانِ عبرت نشان ہے : میں نے معراج کی رات ایک ایسی قوم ديکھی جن کے ہونٹ اُونٹوں کے ہونٹوں کی طرح تھے اور ان پر ايسے لوگ مُقَرّر تھے جو اُن کے ہونٹوں کو پکڑتے پھر اُن کے مونہوں میں آگ کے پتھر ڈالتے جو ان کے پیچھے سے نکل جاتے۔ میں نے پوچھا : اے جبرائیل  (علیہ السّلام) !يہ کون لوگ ہيں؟تو انہوں نے بتایا : یہ وہ لوگ ہيں جو یتیموں کا مال ظلم سے کھاتے تھے۔ (تفسیرقرطبی ، النساء ، تحت الآیۃ : 3 ، 10 / 39 ، الجزء الخامس)

کرلے توبہ رب کی رحمت ہے بڑی

قبر میں ورنہ سزا ہوگی کڑی

وارثوں کے مال  میں احتیاط کی بہترین مثال

                                                ایک بُزرگ  رحمۃُ اللہِ علیہ  کسی  قریب المرگ شخص کے پاس موجود تھے ۔ رات میں جس وقت وہ فوت ہوا توانہوں نے فرمایا :  چراغ بجھا دو کہ اب اس کے تیل میں وُرَثاء کا حق شامل ہوگیا ہے۔ (احیاء العلوم (مترجم ) ، 2 / 368)

پیارے پیارے اسلامی بھائیو!گھر میں اگر یتیم بچے ہوں تو اُن کے مال کے معاملے میں بے حد احتیاط سے کام لینا چاہئے اورہاں !یتیم بچے کی اجازت سے بھی اُس کا مال ذاتی استعمال  میں نہیں لےسکتے ، ایک ہی گھر میں رہنے والے چند بھائیوں میں سے اگر کوئی فوت ہوجائےتو جوائنٹ فیملی میں یتیم بچوں کے مال کا خیال رکھنا بڑا مشکل ہو جاتا ہے لیکن یہ احتیاط کرنی ہی ہوگی اور اگر خداناخواستہ  غلط انداز سے یتیموں کے مال  کو استعمال کیا تو کل قیامت میں دردناک عذاب ہوسکتاہے جیساکہ اوپر بیان کی گئی روایات  میں  آپ نے پڑھا۔ قرآن ِ کریم میں ایک مقام پر اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے :

وَ لَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیْمِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ حَتّٰى یَبْلُغَ اَشُدَّه۪ٗ-وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِۚ-اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْـٴُـوْلًا (۳۴) (پ15 ، بنی اسرائیل : 34)

ترجَمۂ کنز الایمان : اور یتیم کے مال کے پاس نہ جاؤ مگر اس راہ سے جوسب سے بھلی ہے یہاں تک کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچے اور عہد پورا کرو بے شک عہد سے سوال ہوناہے۔

اس آیت میں  ایک کبیرہ گناہ سے منع کیا گیا ہے اور ایک اہم چیز کا حکم دیا گیا ہے۔ کبیرہ گناہ تو یتیم کے مال میں  خیانت کرنا ہے اور اہم چیز وعدہ پورا کرنا ہے۔ یتیم کا کُل یا بعض مال غصب کرلینا ، اس میں  خیانت کرنا ، اس کے دینے میں  بلاوجہ ٹال مٹول کرنا یہ سب حرام ہے ، چنانچہ فرمایا کہ یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ مگر صرف اچھے طریقے سے اور وہ یہ ہے کہ اس کی حفاظت کرو اور اس کو بڑھاؤ۔ اِس سے معلوم ہوا کہ یتیم کا وَلی(سرپرست)یتیم کے مال سے تجارت وغیرہ کر سکتا ہے ، جس سے اس کا مال بڑھے کہ یہ اَحسن (یعنی اچھے طریقے) میں  داخل ہے اور ایسے ہی اس کا روپیہ سود کے بغیر بینک وغیرہ میں  اس کے نام پر رکھنا جائز ہے کہ یہ حفاظت کی قسم ہے۔ دوسرا حکم یہاں  ارشاد فرمایا کہ یتیموں  کا مال ان کے حوالے کردو جب وہ یتیم اپنی پختہ عمر کو پہنچ جائے اور وہ اٹھارہ سال کی عمر ہے۔      (تفسیرصراط الجنان ، بنی اسرائیل ، تحت الآیۃ : 5 ، 34 / 459)

یتیم کے مال کی حفاظت کرنے والا قاضی

ابو القاسم عبید اللہ بن سلیمان کہتے ہیں کہ میں موسیٰ بن بُغاء کا “ کاتب “ تھا ، اُس وقت ہم ’’رَے‘‘(ایران کے دارالحکومت جس کا نام اَب تہران ہے)میں تھے اور وہاں کے قاضی حضرت احمد بن

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن