30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جنتی ابنِ جنتی ، صحابی ابنِ صحابی ، حضرتِ عبد اللہ بن عباس رضی اللہُ عنہ ما فرماتے ہیں : حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اِرشادفرمایا : جو کسی یتیم کو اپنے کھانے پینے میں شامل کرے ، تو اللہ پاک اُس کے لیے یقینی طور پر جنّت لازم فرمادیتا ہے مگر یہ کہ کوئی ایسا گناہ کرے جو ناقابلِ بخشش ہو۔ (مشكاة المصابیح ، 2 / 214 ، حدیث : 4975)
ایک اورحدیثِ پاک میں ہے کہ اللہ پاک کے آخری نبی ، مکی مَدَنی ، محمدِ عربی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اِرشادفرمایا : جو اپنے پاس رہنے والے یتیم لڑکے یا یتیم لڑکی سے بھلائی کرے تو میں اور وہ جنت میں اِن کی طرح ہوں گےاور اپنی دو اُنگلیاں ملائیں۔ ( مسند امام احمد ، 8 / 300 ، حدیث : 22347)
یعنی جیسےاِن دونوں اُنگلیوں میں کوئی فاصلہ نہیں ایسے ہی قیامت میں مجھ میں اور اُس میں کوئی فاصلہ اور دُوری نہ ہوگی ۔ (مرآۃ المناجیح ، 6 / 548)
ٹرین میں ایک غمزدہ شخص ، اپنی بہن اوراُس کےپانچ بچوں کے ساتھ سفر کررہا تھا۔ وہ خود تو ٹرین کی کھڑکی کےپاس بیٹھا کسی گہری سوچ میں گُم تھااوروقفے وقفے سےبہن کی ہلکی ہلکی سسکیوں کی آوازسُن کر چپکے سےاُسےتسلی دے دیتا ، جبکہ بچے پورے ڈبے (بوگی) میں اُودھم بازی کرنے میں مصروف تھے۔ کوئی اِدھر بھاگتا توکوئی اُدھر ، کوئی برتھ پر چڑھتا تو کوئی چھلانگیں لگاتاالغرض ٹرین کا ڈبہ کھیل کے میدان کا منظر پیش کررہا تھا ، دوسرے مسافربچوں کی اِن حرکتوں سے بڑے پریشان ہورہے تھے ، اِتنے میں ایک شخص کو غصہ آگیا اور وہ اُس غمزدہ شخص کو بچوں کابا پ سمجھتے ہوئے اس کے پاس آکر کہنے لگا : جناب! اپنے بچوں کو سنبھالیں ، یہ ٹرین ہے یا کوئی بچوں کا پَلے گراؤنڈ؟کوئی اِدھر بھاگ رہا ہے تو کوئی اُدھر۔ اللہ نہ کرے!چلتی ٹرین سےکوئی گِر گیا تو؟آ پ توسوچوں میں ایسے گُم ہیں جیسے پتانہیں کیاہوگیاہے؟غمزدہ شخص کا بند ٹوٹا اور وہ لڑکھڑاتی ہوئی زبان میں بولا : بھائی!یہ میرے بچے نہیں بلکہ میرے بھانجے ہیں ، آج صبح اِن بچوں کےابو فوت ہوگئے ہیں اورہم جنازے میں جارہے ہیں ، ابھی اِن بچوں کو پتا نہیں ہےکہ ان کا باپ ہمیشہ کے لیے انہیں چھوڑ کر جا چکا ہے ۔ آپ بتائیے میں کِس طرح اِ ن کھلتی کلیوں کو یہ دَردناک خبر سناؤں ؟ مجھ میں تو اِن بچوں کو روکنے کی ہمت نہیں ہے۔ یہ سننا تھا کہ اُس شخص سمیت سبھی مسافروں کا غصہ بچوں سے ہمدردی ومحبت میں بَدل گیا اوراَب سب مسافر بڑی ہمددری اور شفقت بھری نظروں سے اُن بچوں کی طرف دیکھ رہے تھے۔
پیارے پیارے اسلامی بھائیو! یہ اگرچہ فرضی واقعہ ہی سہی لیکن ہمیں بہت کچھ سکھا رہا ہے۔ الحمدُ لِلّٰہ ! ہمارے معاشرے میں ایسے افراد بھی پائے جاتے ہیں جو غریبوں ، یتیموں ، دُکھ درد کے ماروں ، بے سہاروں اور سفید پوش افراد کے ساتھ ہمددری کرتے اور ان کے دُکھ سُکھ میں کام آتے ہیں جو کہ ایک بہت بڑی نیکی ہے ۔ کسی مسلمان کےدِل میں خوشی داخل کرنا ویسے ہی ثواب کا کام ہے اوراگر وہ کوئی غریب یا یتیم ہو تو اچھی اچھی نیتیں کرلینے سے ثواب اور بھی بڑھ سکتا ہے۔ افسوس ! آج حالات بہت بَدل گئے ہیں ، اب غریبوں اور یتیموں کے ساتھ ہمدردی و خیرخواہی کا جذبہ کم ہوتا دکھائی دے رہا ہے ، گھر کے اَطراف میں موجود ضرورت مندوں اور سفید پوش لوگوں کے ساتھ کم ہی لوگ تعاون کرتے ہیں ۔ عید کا موقع ہویا گھر میں خوشی کی تقریب ، بچے کی شادی ہویا رشتے داروں کے لئے افطاری کا پروگرام ، اگر کسی نے توجہ دِلادی تو بچا ہوا کھاناکسی غریب کو دے دیا جاتا ہے ورنہ خوشیوں کے موقع پر ان غریبوں کی یاد نہ ہونے کے برابر ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ اچھا گھر اور بُرا گھر کونسا ہے ؟ آئیے اس بارے میں فرمانِ مصطفےٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم پڑھیئے ۔
جنّتی صحابی حضرتِ ابوہریرہ رضی اللہُ عنہ فرماتے ہیں : رسولِ پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اِرشادفرمایا : مسلمانوں میں بہترین گھر وہ گھر ہے جس میں یتیم ہو جس سے اچھا سُلوک کیا جاتا ہو اور مسلمانوں میں بدترین گھر وہ گھر ہے جس میں یتیم ہو جس سے بُرا سلوک کیا جاتا ہو ۔ ( ابن ماجہ ، 4 / 193 ، حدیث : 3679)
حضرت مفتی احمدیارخان رحمۃُ اللہِ علیہ اِس حدیثِ پاک کی شرح میں فرماتے ہیں : یتیم سے(حُسنِ) سُلوک کی بہت صورتیں ہیں : اُس کی پرورش ، اُس کے کھانے پینے کا انتظام ، اُس کی تعلیم و تربیت ، اُسے دین دار نمازی بنانا سب ہی اس میں داخل ہے۔ غرض کہ جو سُلوک اپنے بچے سے کیا جاتا ہے وہ یتیم سے کیا جائے یہ کلمہ بہت ہی جامع ہے۔ (مرآۃ المناجیح ، 6 / 562 )
مصطفےٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا : جس دسترخوان (Dining Mat)پر یتیم ہوتاہے شیطان اُس دسترخوان کے قریب نہیں جاتا۔ (مجمع الزوائد ، 8 / 293 ، حدیث : 13512)
اَفسوس صدکروڑ اَفسوس! اَب اِس معاشرے میں ایسے بدنصیب بھی پائے جاتے ہیں جو یتیم بچے ، بچیوں سے اچھا سُلوک کرنے کی بجائے اِن پر ظُلم و سِتم کرتے اِن کا مال کھاجاتے ، جائیدادیں (Properties)ہڑ پ کرجاتے ، اورطرح طرح سےاِن مظلوموں کو ستاتے ، رُلاتے اوراِن کی بددعائیں لیتے ہیں ۔
حضرتِ ابو بَرزَہ رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ اَکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اِرشاد فرمایا : بروزِ قیامت اللہپاک ایک قوم کو اُن کی قبروں سے اِس حالت میں اُٹھائے گا کہ اُن کے منہ سے بھڑکتی ہوئی آگ نکل رہی ہو گی۔ عرض کی گئی : یارسولَ اللہ!وہ کون لوگ ہوں گے؟ارشاد فرمایا : کیا تم نے نہیں دیکھا اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے :
اِنَّ الَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ الْیَتٰمٰى ظُلْمًا اِنَّمَا یَاْكُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِهِمْ نَارًاؕ-وَ سَیَصْلَوْنَ سَعِیْرًا۠(۱۰) (پ4 ، النساء : 10)
(مسند ابی یعلی ، 6 / 272 ، حدیث : 7403)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع