دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Methi Eid Aur Methi Batain | میٹھی عید اور میٹھی باتیں

book_icon
میٹھی عید اور میٹھی باتیں

یتیم ہے جو سیپ میں اکیلا ہو اُسے “ دُرِّیتیم “ کہتے ہیں بڑا قیمتی ہوتا ہے۔                                           (نورالعرفان ، پ4 ، النساء ، تحت الآیۃ : 2)

یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرنے کی فضیلت

پیارے اِسلامی بھائیو! یتیموں  کے ساتھ حُسنِ سُلوک کا بڑا اجروثواب ہے ۔ اللہ پاک کے پیارے اورآخری نبی  صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم   کا فرمانِ عظیم ہے : جس نےصرف اللہ پاک کی رضاکے لئےیتیم کے سر پر ہاتھ پھیرا تو جتنے بالوں  پر اُس کا ہاتھ گُزرا ہر بال کے بدلے   اسے نیکیاں ملیں گی ۔ (مسند امام احمد ، 8 / 272 ، حدیث : 22215)

یتیم کے سرپر ہاتھ پھیرنے اور مسکین کو کھانا کھلانے کی ایک برکت یہ بھی ہے کہ اس سے دل کی سختی دور ہوجاتی ہے۔ چنانچہ حضرتِ ابوہریرہ  رضی اللہُ عنہ    سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنے دل کی سختی کی شکایت کی تو نبیِ رحمت ، شفیعِ اُمت  صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم   نے فرمایا : یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرو اور مسکین کو کھانا کھلاؤ۔

 (مسند امام احمد ، 3 / 335 ، حدیث : 9028)

بے چین دِلوں کے چین ، رحمتِ  دارین  صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم   نے فرمایا : لڑکا یتیم ہو تو اُس کے سر پر ہاتھ پھیرنے میں  آگے کی طرف لے آئے اور بچے کا باپ(زندہ) ہو تو ہاتھ پھیرنے میں  گردن کی طرف لے جائے۔ (معجم ا وسط ، 1 / 351 ، حدیث : 1279)  

وضاحت : یعنی بچہ یتیم ہو تو سر کے اوپر سے پیشانی کی طرف ہاتھ پھیرو اور اس کا باپ ہو تو پیشانی سے گُدی کی طرف پھیرو  ۔ (النہایۃ فی غریب الحدیث و الاثر ، 4 / 280)

ضعیفوں بیکسوں آفت نصیبوں کو مبارَک ہو

یتیموں کو غلاموں کو غریبوں کو مبارک ہو

یتیم بچی کی ایمان اَفروز نصیحتیں

حضر تِ حماد بن سلمہ  رحمۃُ اللہِ علیہ  فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ سردیوں کے موسم میں موسلادھار با رش ہوئی ، مسلسل بار ش کی وجہ سے لوگوں کو پریشانی ہونے لگی۔ ہمارے پڑوس میں ایک عبادت گزار عورت اپنی یتیم بچیوں کے ساتھ ایک پُرانے سے  گھر میں رہتی تھی ۔ با رش کی وجہ سے اُن کے کچے گھر کی چھت ٹپکنے لگی اور پانی گھر میں آنے لگا ۔ اس نیک عورت نے جب دیکھا کہ سردی کی وجہ سے بچے ٹھِٹھَر رہے ہیں اور بار ش کا پانی مسلسل گھر میں گر رہا ہے جبکہ بار ش رُکنے کا نام تک نہیں لے رہی تواس نے اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے او رعرض کرنے لگی : “ اے میرے  رحیم وکریم پر ورد گار!تو رحم اور نرمی فرمانے والا ہے ، ہمارے حالِ زار پر رحم اور نرمی فرما‘‘وہ نیک عورت ابھی دعا سے فارغ بھی نہ ہونے پائی تھی کہ فوراً با رش رُک گئی۔ میرا  گھر اُس  نیک عورت کے گھر سے بالکل مِلا ہوا تھا اور میں اُ س کی دُعا سُن رہا تھا۔ جب میں نے دیکھا کہ اس کی دعا سے با رش بند ہوگئی ہے تو میں نے ایک تھیلی میں سونے کی دس اشرفیاں ڈالیں او راس عورت کے دروازے پر پہنچ کر دستک دی ۔ دستک سُن کر عورت نے کہا : اللہ کر ے کہ آنے والا حماد بن سلمہ ہو۔ جب میں نے یہ سنا تو کہا کہ میں حماد بن سلمہ ہی ہوں ، میں نے تمہاری آواز سنی  کہ تم دعا میں اس طرح کہہ رہی تھیں : اے نرمی فرمانے والے پروردگار!نرمی فرما ۔ تو بتاؤ کہ اللہ پاک نے تم سے نرمی والا  کیا معاملہ فرمایا ؟  وہ نیک عورت بولی : میرے پروردگار نے ہم پر اس طر ح نرمی فرمائی کہ بارش کو روک دیا ،  بچوں کو (سردی سے بچا کر ) گرمی پہنچائی اور گھر میں جمع ہونے والے پانی کو خشک کردیا ۔ یہ سن کر میں نے سونے کی اشر فیوں والی تھیلی نکالی اور کہا : یہ کچھ رقم ہے ، اسے تم اپنی ضروریات میں استعمال کر و ۔ ابھی ہمارے درمیان یہ گفتگو ہو ہی رہی تھی کہ اچانک ایک بچی ہمارے پاس آئی ۔ اس نے اُون کا پُرانا سا کُرتا پہنا ہوا تھا جو ایک جگہ سے پھٹا ہوا تھا اور اس پر پیوند (Patches)لگے ہوئے تھے ۔ ہمارے پاس کر آکر  وہ کہنے لگی : اے حماد بن سلمہ!کیا آپ یہ دنیا کی دولت دے کر ہمارے اورہمارے  پیارے پیارے اللہ پاک کے درمیان پر دہ حائل(یعنی رُکاوٹ پیدا )کرنا چاہتے ہیں ، ہمیں ایسی دولت نہیں چاہئے  جو ہمیں ہمارے پیارے رب  کی بار گاہ سے جُدا کرنے کا سبب بنے ۔     پھر اس نے اپنی ماں  سے کہا : اے امی جان ! جب ہم نے اللہ پاک سے اپنی مصیبتو ں کی التجاء کی     تو اس نے فورا ًہی دنیا کی  دولت ہماری طرف بھجوادی ، کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم اس دولت کی وجہ سے اپنے مالکِ حقیقی کے ذکر سے غافل ہو جائیں اور ہماری تو جہ اُس سے ہٹ کر کسی اور کی طر ف ہوجائے۔ پھر اس لڑکی نے اپنا چہر ہ زمین پر مَلنا شروع کردیا  او رکہنے لگی : اے ہمارے پاک پروردگا ر!ہمیں تیری عزت و جلا ل کی قسم! ہم کبھی بھی تیرے دَر سے نہیں جائیں گے ، ہماری اُمیدیں صرف تجھ سے ہی وابستہ رہیں گی ، ہم تیرے ہی دَر پر پڑے رہیں گے اگرچہ ہمیں دُھتکاردیا جائے لیکن ہم پھر بھی تیرے دَر کو نہیں چھوڑیں گے ۔    پھر اس بچی نے مجھ سے کہا : اللہ پاک آپ کو اپنی حِفظ وامان میں رکھے ، براہِ کرم! آپ یہ رقم واپس لے جائیں اور جہا ں سے لائے ہیں وہیں رکھ دیں۔ ہمیں اس دولت کی کوئی ضرورت نہیں ، ہمیں ہمارا پالنے والا خدائے پاک  کا فی ہے۔ وہ ہمیں  کبھی بھی مایوس نہیں کرے گا۔ ہم اپنی تمام  ضرورتیں اُس پاک پروردگار کی بار گاہ میں پیش کرتے ہیں ، وہی ہماری ضرورتوں  کو پورا کرنے والا ہے ، وہی تمام جہانوں کاپالنے والا اورساری مخلوق کا حاکم و والی ہے۔ (عُیون الحکایات ، ص181ملخصاً وبتغیر )

اللہ ربُّ العزّت کی اُن پر رحمت ہواوراُن کے صدقے ہماری بے حساب مغفرت ہو۔            اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین  صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم  ۔

تمہارے دَر تمہارے آستاں سے میں کہاں جاؤں

نہ مجھ سا کوئی بیکس ہے نہ تم سا کوئی والی ہے

(ذوقِ نعت ، ص233)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن