30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
آزمائشوں میں ڈالتا ہے۔ جبکہ کافر تیری اطاعت نہیں کرتا بلکہ تجھ پر اور تیری مَعصیَت (نافرمانی) پرجُرْأَت کرتا ہے لیکن تُو اس سے مصیبت کو دُور رکھتا اور اُس کیلئے دنیا کُشادَہ کر دیتا ہے ( آخر اس میں کیا حکمت ہے؟ ) اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ان کی طرف وَحی فرمائی: بندے بھی میرے ہیں اور مصیبت بھی میرے اختیار میں ہے اور سب میری حَمْد کے ساتھ میری تسبیح کر تے ہیں ، مومِن کے ذِمّے گناہ ہوتے ہیں تو میں اُس سے دنیا کو دُور کر کے اس کو آزمائش میں ڈالتا ہوں تو یہ (آزمائش و مصیبت) اس کے گناہوں کا کَفّارہ بن جاتی ہے حتّٰی کہ وہ مجھ سے ملاقات کرے گا تو میں اُسے نیکیوں کا بدلہ دُوں گا۔ اور کافِر کی (دُنیوی اعتبار سے) کچھ نیکیاں ہوتی ہیں تو میں اُس کیلئے رِزْق کُشادَہ کرتا اور مصیبت کو اُس سے دُور رکھتا ہوں تویوں اُس کی نیکیوں کا بدلہ دنیا میں ہی دے دیتا ہوں حتّٰی کہ جب وہ مجھ سے ملاقات کرے گا تو میں اُس کے گناہوں کی اس کو سزادوں گا۔ (اِحیاء العلوم ج ۴ ص ۱۶۲)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ربُّ الانام عَزَّ وَجَلَّکے ہر ہرکام میں حِکمتیں ہوتی ہیں ۔ تکلیف پر صَبْر کر کے اجْر حاصِل کرنا چاہئے کیوں کہ آفات و بَلِیّات، کَفّارۂ سَیِّئآت اور باعثِ ترقّیِ دَرَجات ہوتی ہیں ۔ (یعنی آفتیں اور بلائیں گناہ مٹانے اور درجے بڑھانے کا ذریعہ ہوتی ہیں ) چُنانچِہ تاجدارِ رسالت ، محبوبِ ربِّ العزَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : اللہ عَزَّ وَجَلَّجب کسی بندے سے بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو اُس کے گناہ کی سزافوری طور پراُسے دنیاہی میں دے دیتا ہے ۔ (مُسنَد اِمام احمد بن حَنبل ج ۵ ص۶۳۰حدیث ۱۶۸۰۶)
آخِرت کی مصیبت سے دنیا کی مصیبت آسان ہے
آہ! ہم تو گناہوں میں سراپا ڈوبے ہوئے ہیں ، کاش! جب بھی کوئی مصیبت پیش آئے اُس وقت یہ ذِہن بنا نا نصیب ہو جائے کہ شاید آخِرت کے بجائے دنیا ہی میں سزا دے دی گئی ہے ۔ اِس طرح اُمّید ہے کہ صَبْر آسان ہو جائے گا۔ خدا کی قسم ! مرنے کے بعد ملنے والی سزا کے مُقابلے میں دُنیا کی سزا انتہائی آسان ہے، دُنیا کی مصیبت آدمی برداشْتْ کرہی لیتا ہے مگر آخِرت کی مصیبت برداشت کرنا ناممکن ہے یہاں تک کہ اگر کوئی کہدے کہ میں قَبْر یا جہنَّم کا عذاب برداشت کر لوں گا تو وہ کافِر ہو جائے گا۔
ہمارے حق میں کیا بہتر ہے ، ہمیں نہیں معلوم
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اللہ عَزَّ وَجَلَّ جو کرتا ہے یقینا وہ صحیح کرتا ہے، بَسا اوقات بعض مُعاملات بندے کی سمجھ میں نہیں آتے لیکن بَہُت مرتبہ اُس کے حق میں اُسی میں بہتری ہوتی ہے۔ چنانچِہ پارہ2 سُوْرَۃُ الْبَقْرَہ کی آیت216 میں ارشاد ہوتا ہے: وَعَسٰۤی اَنۡ تَکْرَہُوۡا شَیْـًٔا وَّہُوَ خَیۡرٌ لَّکُمْۚ وَ عَسٰۤى اَنْ تُحِبُّوْا شَیْــٴًـا وَّ هُوَ شَرٌّ لَّكُمْؕ-وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ۠ (۲۱۶) (پ۲، البقرۃ : ۲۱۶)
ترجَمۂ کنزالایمان: اور قریب ہے کہ کوئی بات تمھیں بُری لگے اور وہ تمہارے حق میں بہتر ہو اور قریب ہے کہ کوئی بات تمہیں پسند آئے اور وہ تمہارے حق میں بُری ہو اور (اللہ عَزَّوَجَلَّ) جانتا ہے اور تم نہیں جانتے ۔
ہر ایک کو امتِحان کیلئے تیّار رَہنا چاہئے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ایمان کے ساتھ زِندَگی گزارنے والا ہی کامیاب ہے، بڑا نازُک مُعامَلہ ہے ، شیطان ہر وَقت ایمان کی گھات میں لگا رَہتا ہے۔ مصیبت آنے پر صَبْر کرتے ہوئے ہر حال میں ربِّ ذوالجلال عَزَّ وَجَلَّ کی رِضا پرراضی رَہنا چاہئے ۔ پاک پروردگار عَزَّ وَجَلَّہمارا مالِک ومختار ہے۔ جسے چاہے بے حساب جنت میں داخِل فرمائے اور جسے چاہے امتحان میں مُبتلا کر کے صَبْر کی توفیق عطا فرما کر انعام و اِکرام کی بارِشیں فرمائے۔ مومِنِ کامِل وُہی ہے جو ہر حال میں ربِّ ذوالجلال عَزَّ وَجَلَّکا شکر گزار بندہ بن کر رہے ۔ مصیبتوں کی وجہ سےاللہ عَزَّ وَجَلَّپر اعتراض کر کے خود کو ہمیشہ کیلئے جہنَّم کے حوالے کر دینے والا شخص بَہُت ہی بڑا بد نصیب ہے۔ ہر مسلمان کو امتحان کے لئے تیّار رَہنا چاہئے، خدائے رَحۡمٰنعَزَّ وَجَلَّکا پارہ2 سُوْرَۃُ الْبَقْرَہ کی آیت نمبر214 میں فرمانِ عبرت نِشان ہے: اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَ لَمَّا یَاْتِكُمْ مَّثَلُ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْؕ-
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع