30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میری اُمّت میں تہتر فرقے ہوں گے
ہر مذہب میں فرقہ واریت ہے لیکن کسی بھی مذہب کے بانی نے یہ نہیں کہا کہ میرے ماننے والوں میں اتنے فر قے ہوں گے اور فلاں فرقہ حق پر ہوگا لیکن اسلام کو جس طرح دیگر باتوں میں سب مذاہب پر فوقیت حاصل ہے اسی طرح اس مسئلے میں بھی برتری حاصل ہے کہ نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے چودہ سو سال پہلے جب اسلام میں کوئی فرقہ واریت نہ تھی اس وقت غیبی خبر دیتے ہوئے اِرشاد فرمایا تھا کہ میری اُمّت میں تہتر فرقے ہوں گے ایک جنتی اور بقیہ دوزخی چنانچہ ترمذی شریف کی حدیثِ پاک میں ہے:” إِنَّ بَنِيْ إِسْرَائِيْلَ تَفَرَّقَتْ عَلٰى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِيْنَ مِلَّةً، وَتَفْتَرِقُ أُمَّتِيْ عَلٰى ثَلَاثٍ وَّسَبْعِيْنَ مِلَّةً،كُلُّهُمْ فِي النَّارِ إِلَّا مِلَّةً وَّاحِدَةً،قَالُوْا:وَمَنْ هِيَ يَارَسُوْلَ الله ؟ قَالَ: مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِيْ یعنی بےشک بنی اسرائیل 72 فرقوں میں بٹ گئے تھے اور میری اُمّت 73 فرقوں میں بٹ جائے گی۔سِوائے ایک فرقے کے سب دوزخی ہیں۔ لوگوں نے پوچھا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ! وہ کون سا فرقہ ہے ؟ فرمایا: جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں۔ “ (1)
جنتی فرقے کی نشانیاں
نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فقط تہتر فرقوں کی پیشین گوئی کرکے اُمّت کو یونہی نہیں چھوڑا بلکہ جنتی فرقے کی نشانیاں بتلائیں اور ہر مسلمان کو اس کے ساتھ وابستہ رہنے کی تلقین بھی کی جیساکہ ابھی اوپر پیش کی گئی حدیثِ پاک میں حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے جنتی فرقہ کے بارے میں فرمایا:وہ میرے اور میرے صحابہ کے نقشِ قدم پر چلنے والے ہوں گے۔
جنتی فرقے کی ایک نشانی حضور نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے یہ اِرشاد فرمائی کہ وہ تعداد میں زیادہ ہوگا:” إِنَّ أُمَّتِيْ لَا تَجْتَمِعُ عَلٰى ضَلَالَةٍ،فَاِذَا رَأَیْتُمْ اِخْتِلَافًا فَعَلَیْکُمْ بِالسَّوَادِ الأَعْظَمِ یعنی بے شک میری اُمّت گمراہی پر اکٹھی نہیں ہوسکتی جب تم ان میں اختلاف دیکھو تو بڑے گروہ کی پیروی کرو۔“ (2)
(1)اہلِ سنت وجماعت
یہ وہ لوگ ہیں جو اُصول وفروع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اور ان کے صحابہ واہلِ بیتِ کرام رضی اللہ عنہم کے منہج کی پیروی کرتے ہیں۔درحقیقت اہلِ سنت کوئی ایجاد شده نیافرقہ نہیں بلکہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اور صحابۂ کرام
1…… ترمذی،4/291،حدیث:2650
2…… ابن ماجہ،4/327،حدیث:3950
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع