30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
{7} گناہ کی طرف بڑھتے قدم کی سے رُکے؟
باب الاسلام (سندھ) کے شہر زم زم نگر (حیدرآباد) کے مقیم اسلامی بھائی منظور احمد عطاری المدنی اپنے مکتوب میں کچھ اس طرح لکھتے ہیں : یہ اس وقت کی بات ہے جب میں آٹھویں کلاس کا طالب ِعلم تھا، کم عمر ہونے کے سبب فکروں سے آزاد اور آوارہ مزاج لڑکا تھا اور اسی وجہ سے جائزو ناجائز کے فرق کو بالائے طاق رکھ کر معمولاتِ زندگی سرانجام دے رہا تھا۔ میں روزانہ شام کے وقت ایک ہوٹل پر فلم دیکھنے جاتا تھا اور بدنگاہی اور گانے سننے کے گناہ سے اپنا نامۂ اعمال سیاہ کرکے آتا تھا۔ ایک روز معمول کے مطابق فلم دیکھنے ہوٹل کی طرف جارہا تھا کہ راستے میں کسی نے مجھے آواز دی اور اپنی جانب متوجّہ کرنا چاہا، جب میں نے دیکھا تو مجھے سبز عمامہ شریف سجائے سنّتوں کے پابند ایک اسلامی بھائی نظر آئے، میں انہیں دیکھتے ہی پہچان گیا کی ونکہ ہوٹل جاتے ہوئے انہی اسلامی بھائی کی راستے میں دوکان تھی اور وہ قریب ہی واقع ایک چوک پر روزانہ ایک ضخیم کتاب سے لوگوں کو درس دیا کرتے تھے، وہ میرے پاس آئے اور بڑے پرتپاک انداز میں مجھ سے سلام و مصافحہ کرنے لگے۔ انہوں نے مجھ سے حال احوال دریافت کی ا اور انفرادی کوشش کرتے ہوئے مجھے اپنی دوکان پر لے گئے اور ایک نمایاں جگہ پر بیٹھنے کے لیے کہا، ان کے خیرخواہی کے جذبے کو دیکھتے ہوئے میں
ان کی دوکان میں بیٹھ گیا۔ وہ انفرادی کوشش کے ذریعے مجھے نیکی کی دعوت دینے لگے اور فکرِ آخرت کرنے اور نیک اعمال بجالانے کا ذہن بنانے لگے۔ اسی دوران میری نظر اسی ضخیم کتاب پر پڑی جن سے وہ درس دیا کرتے تھے، اس پر بڑے لفظوں میں ’’فیضانِ سنّت ‘‘ لکھا ہوا تھا، میں نے وہ کتاب ان سے پڑھنے کو مانگی تو انہوں نے بخوشی مجھے وہ کتاب دے دی اور میں مختلف مقامات سے اُسے پڑھنے لگا۔ کتاب کا اندازِ تحریر اس قدر آسان اور جلد سمجھ آنے والا تھا کہ میں ’’فیضانِ سنّت ‘‘ پڑھنے میں مگن ہوگیا اور پندو نصائح کی موجوں میں غوطہ زن ہوگیا اور یوں فلم دیکھنے کا سارا وقت ’’فیضانِ سنّت ‘‘ پڑھنے میں گزر گیا۔ اس کتابِ لاجواب کے مطالعے کا مجھے کچھ ایسا ذوق نصیب ہوا کہ اگلے روز شام کو فلم بینی کے لئے ہوٹل جانے کے بجائے میں مذکورہ اسلامی بھائی کی دوکان پہنچ گیا اور ’’فیضانِ سنّت ‘‘ لے کر اسے پڑھنے میں مشغول ہوگیا، اس طرح میرا روز کا یہی معمول بن گیا، اب ہر شام ’’فیضانِ سنت ‘‘ کے نام ہونے لگی اور میں فلم دیکھنے کا وقت اس سحر انگیز کتاب کے مطالعے میں صرف کرنے لگا۔ پھر ایک روز وہ مُبَلِّغ اسلامی بھائی مجھ سے کہنے لگے: منظور بھائی! آج چوک درس آپ دیں گے اور جو کچھ آپ نے اس کتاب سے حاصل کی ا ہے اسے دوسروں تک پہنچائیں گے، یہ سن کر میں ایک دم گھبرا گیا اور میں نے ان سے معذرت چاہی مگر انہوں نے میری ہمت بندھائی اور بزورِ اصرار مجھے چوک درس دینے پر آمادہ کرلیا۔ اَ لْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ زندگی میں پہلی بار درسِ فیضانِ سنت دینے کی سعادت حاصل ہوئی، اُن مُبَلِّغِ دعوتِ اسلامی نے میری خوب حوصلہ افزائی کی ، جس سے مزید درس دینے کا جذبہ بڑھا۔ اس طرح آہستہ آہستہ درسِ فیضانِ سنت دینے لگا، نیکی کی دعوت عام کرنے والا بن گیا اور فیضانِ سنّت کی بدولت مدنی ماحول سے وابستہ ہوتا گیا۔ مدَنی ماحول میں آتے ہی سنّتوں کی بہار آگئی، سبز عمامہ شریف سر پر سجا لیا، چہرہ داڑھی شریف سے روشن کرلیا اور مزید سنّتوں کو اپنے معمولاتِ زندگی میں شامل کرلیا۔ مدَنی ماحول میں علمِ دین کا ایساذوق نصیب ہوا کہ عالمِ دین بننے کا شوق بیدار ہوگیا اور یوں دعوتِ اسلامی کے عظیم علمی شعبے جامعۃُ المدینہ میں داخلہ لے کر حصولِ علمِ دین میں مشغول ہوگیا۔ اس دوران سنتوں کی تربیت کے مدنی قافلوں میں سفر کرنے کی سعادت بھی ملی۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ تادمِ تحریردرسِ نظامی (عالم کورس) مکمل کرنے کے بعد جامعاتُ المدینہ (للبنین) میں کابینہ سطح پر خادِم (نگران) کی حیثیت سے علم دین کی خدمت میں مصروف عمل ہوں ۔
صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
شعبہ امیرِ اہلسنّت مَجْلِس اَلمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیَّۃ {دعوتِ اسلامی}
یکم ذی الحجۃ الحرام۱۴۳۵ھ بمطابق 27ستمبر 2014 ء
آپ بھی مدنی ماحول سے وابستہ ہوجائیے
یہ حقیقت ہے کہ صحبت اثر رکھتی ہے، انسان اپنے دوست کی عادات و اخلاق اور عقائد سے ضرور متأثر ہوتا ہے۔ حدیثِ پاک میں نیک آدمی کی مثال مشک والے کی طرح بیان کی گئی ہے کہ اگر اس سے کچھ نہ بھی ملے تو اس کی ہم نشینی خوشبو میں مہکنے کا سبب بنتی ہے جبکہ بُرا آدمی بھٹی والے کی طرح ہے کہ اگر بھٹی کی آگ نہ بھی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع